Home > International Affairs, Pakistan, Urdu Post > اسرائیل اور پاکستان

اسرائیل اور پاکستان

September 8th, 2005 Zack Leave a comment Go to comments

جوناتھن سے پتہ چلا کہ پاکستان اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ نے استنبول میں ملاقات کی ہے۔ یہ کوئی ایسی نئی بات بھی نہیں ہے۔ آج سے دو سال پہلے جنرل مشرف نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا خیال ظاہر کیا تھا۔ مگر اس وقت اس کا کچھ نہ بنا ۔ پاکستان اور اسرائیل میں ملاقاتوں وغیرہ کی بات بھی نئی نہیں ہے۔ ایسا تو جناح سے لے کر ضیا اور نواز شریف کے دور تک ہوتا آیا ہے۔ میری پوسٹ کے علاوہ بی بی سی پر بھی اس تاریخ پر دو مضامین ہیں۔ پچھلے روابط میں فرق صرف یہ تھا کہ ان میں سے زیادہ تر خفیہ تھے۔

میرے خیال سے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کرنے میں کوئی مذائقہ نہیں ہے۔ بلکہ اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیئے۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ اسرائیل کے فلسطینیوں پر ظلم کی وجہ سے اسے نہیں ماننا چاہیئے تو پھر تو بہت سے ممالک کو ماننے سے انکار کرنا پڑے گا۔ مثال کے طور پر روس، چین، سوڈان، وغیرہ۔ اگر آپ کو یہودیوں سے کوئی خاص خار ہے تو آپ کے نفرت بھرے دل کا میں کچھ نہیں کر سکتا۔

جیسے میں پہلے لکھ چکا ہوں میری دانست میں اس ملاقات کی وجہ اسرائیل اور ہندوستان کے تعلقات ہیں۔ پاکستان کی دفاعی انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ یہ تعلقات پاکستان کے لئے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان اسرائیل سے دفاعی ساز و سامان اور ٹیکنالوجی بھی خریدنا چاہتا ہے۔ میرا گمان ہے کہ اسرائیل کھلے عام ملاقاتوں اور تسلیم کیے جانے کے بغیر یہ سب کچھ کرنے پر راضی نہ تھا۔ اگر پاکستان اسرائیل کو مان لے تو ان دونوں جوہری طاقتوں کو ایک دوسرے سے خطرہ نہیں رہے گا۔ اس کے علاوہ اسرائیل ہندوستان اور پاکستان میں سے کسی ایک کا ساتھ اور دوسرے کے مخالف ہوئے بغیر دونوں سے تجارت کر سکے گا۔ جوناتھن کے علاوہ بی بی سی کے عامر احمد خان اور Haaretz کا بھی یہی خیال ہے کہ اس ملاقات کی وجہ ہندوستان ہے۔ جون میں چھپنے والا یہ مضمون بھی پڑھنے لائق ہے۔

پاکستان میں اس خبر کا رد عمل کچھ ملا جلا تھا۔ مذہبی جماعتوں نے اسرائیل سے تعلقات پر احتجاج کیا جبکہ دوسری سیاسی جماعتوں نے کچھ شدید رد عمل کو مظاہرہ نہ کیا۔ پاکستانی اخبارات میں اس سلسلے میں جو کچھ لکھا گیا اس کے متعلق بی بی سی نے رپورٹ کیا ہے۔

عام لوگوں کا تاثر بی بی سی اور یروشلم پوسٹ میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ بلاگرز بھی اپنے اپنے خیال کا اظہار کر رہے ہیں:

ایک ہندوستانی اخبار کی اس سلسلے میں خبر کچھ مزے کی لگی۔ اس کے علاوہ دو ہندوستانی بلاگرز (شعیب اور نتن) نے بھی اس خبر پر اظہار رائے کیا۔

اضافہ: اسرائیل کے وزیر خارجہ کا انٹرویو

Share this article

  • Facebook
  • Twitter
  • Digg
  • del.icio.us
  • Google Bookmarks
  • StumbleUpon
  • Tumblr
  • FriendFeed
  • Live
  • email
  • Print

Related Posts:

  • No Related Posts
  1. September 8th, 2005 at 16:01 | #1

    ميرے خيال ميں يہ فلسطينيوں پر صرف ظلم کرنے کی وجہ سے نہيں ہے بلکہ اکثريت کو اقليت ميں بدل کر اپنے ہی وطن سے بے گھر کرنے کی وجہ سے ہے اور اوپر جو دوسرے ممالک آپ نے بيان کئے ہيں وہاں انکے اندرونی معاملات جو بھی رہے ہوں کسی دوسرے گروہ کو دنيا بھر سے اکھٹا کر کے اقليت ميں نہيں بدلا گيا۔ باقی ميں نے اپنی پوسٹ ميں بی بی سی کا لنک ديا ہے وہاں آپ ديکھ سکتے ہيں کہ کس طرح ٣٥٠٠٠ لوگوں کو تقريبا ايک ملين لوگوں کی اکثريت پر مسلط کيا گيا تھا۔”

  2. sepoy
    September 8th, 2005 at 18:49 | #2

    Also add Raphael’s take here.

    Thanks for this collection of links. When I have a moment, I intend to read all.

  3. Ajmal
    September 9th, 2005 at 08:09 | #3

    کسی زمانہ میں نے اسرائیل کے متعلق چند حقائق لکھے تھے ۔ اور میں نے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ۔ صرف بی بی سی کے انٹرویو کا نتیجہ لکھا تھا ۔ وندہ باد کراچی تو ایسے ہی مورال بوسٹنگ کے لئے لکھ دیا تھا ۔

  4. September 9th, 2005 at 14:31 | #4

    Yar i think going on to accepting Israel as a state will be not advisable right now. Because we can use this to press (even if morally) the jewish state to live in peace with Muslims in that area.

  5. September 10th, 2005 at 00:11 | #5

    جہانزیب: آپ کا کیا خیال ہے میں نے روس اور چین کا ذکر کیوں کیا؟ تبت اور سنکیانگ کو بھول رہے ہیں آپ۔ اسی طرح روس اور اس سے پہلے سوویت یونین کے بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں روسی نژاد نئے ہیں مگر کئی میں اب اکثریت انہی کی ہے۔

    sepoy: Thanks for that link.

    Moiz: While bargaining recognition for a Palestinian state seems appropriate for some of the frontline Arab states, I think it’s neither feasible nor useful for other Muslim countries.

  6. September 11th, 2005 at 01:31 | #6

    Accepting israel is just matter of time coz goverment made decicions already.They r just preparing pplz mind ,spreading the news in media for less reaction.Well i think Musharaf is……like apni qabar khud hi khod raha kind of thing coz after accepting israel some crazy mullah blow him in pieces.My opinion is we have to face the reality & have to take step for peace & must talk with israel on various matters.

  7. زیشان
    March 3rd, 2006 at 01:31 | #7

    آپ احمق آپ کا باپ احمق

  8. March 6th, 2006 at 10:06 | #8

    زیشان: تمیز سے بات کریں۔

  9. Pomy cupid
    December 1st, 2006 at 07:08 | #9

    میرے خیال میں پاکستان کو چاہیے کہ وہ اسراءیل کوتسلیم کر لے۔یہی موجودہ وقت کی سب سے بہتر تحویر اور حل ہے اپنے حالات کو بہتر کرنے کا۔

  1. No trackbacks yet.