یہ کیسا جہاد ہے

پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟ جہاد کے نام پر مسلمان کن کاموں میں پڑ چکے ہیں؟ کیا اسلام صرف سیاست اور تشدد ہی کا نام ہے؟

پاکستان کس طرف جا رہا ہے؟ اب تو وہاں کی خبریں ایسی ہی لگتی ہیں جیسے کسی اجنبی ملک کی۔ وقت کے ساتھ ساتھ روز پاکستانی اخبار پڑھنے کی عادت بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ مگر پھر بھی کچھ سن گن رہتی ہے اور کچھ جذبات بھی اس جگہ سے جہاں عمر کے بیس اکیس سال گزرے اور جہاں آج بھی بہت سے جاننے والے رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کچھ معلومات اور اندازے لگا سکتا ہوں پاکستان میں ہونے والے واقعات کے متعلق۔

پاکستان میں خودکش دھماکوں کا سلسلہ تو کچھ سالوں سے جاری تھا مگر اس سال اوپر تلے اسلام‌آباد، کھاریاں، کوئٹہ وغیرہ میں بم دھماکے ہوئے۔ کیا اب خودکش بمبار ساری دنیا میں پھیل جائیں گے؟ کیا یہی نتیجہ ہے فلسطین، افغانستان، کشمیر وغیرہ کے جہاد کا؟ یا یہ تامل ٹائیگرز کی پیروی ہے؟

فروری میں پنجاب کی صوبائی وزیر ظل ہما کو گجرانوالہ مسلم لیگ ہاؤس میں مجمع میں سے ایک شخص نے گول مار کر قتل کر دیا۔

پنجاب کی صوبائی وزیر ظل ہما کو قاتلانہ حملے میں ہلاک کرنے کے ملزم غلام سرور نے عدالت میں اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے یہ قتل کرکے جہاد کیا ہے اور اسے اس بات پر فخر ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم پانچ سال پہلے بھی لاہور اور گوجرانوالہ چھ ایسی خواتین کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ہوا تھا جنیں مبینہ طور پر کال گرل بتایا گیاتھا۔

پولیس کے مطابق غلام سرور بارہ جنوری دو ہزار تین کو گرفتار ہوا تھا لیکن مدعیوں کے اسے بے گناہ قرار دیئے جانے کے بعد دسمبر دو ہزار پانچ کو رہا ہو گیا تھا۔

وہ ایک بار حج اور دو بار عمرہ کرچکا ہے۔ اس کے نو بچے ہیں۔

اپریل سنہ دو ہزار پانچ میں گوجرانوالہ میں حکومت نے پہلی بار میراتھن منعقد کرائی تو ظل ہما نے اس کے انتظامات میں سرگرمی سے حصہ لیا تھا جبکہ مذہبی جماعتوں نے اس دوڑ کی سخت مخالفت کی تھی۔

اب ظل ہما کو قتل کرنے کی وجہ میراتھن تھی یا عورتوں سے غلام سرور کا عناد مگر یہ بات قابل غور ہے کہ ملزم کے نزدیک وہ جہاد کر رہا تھا۔ جہاد کی ایسی مثالیں مسلمانوں میں عام ہوتی جا رہی ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے اور مذہبی لوگ بھی جہاد کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور ہر فسادی کو محرب کی بجائے مجاہد سمجھتے ہیں۔

اب ہم آتے ہیں جامعہ حفصہ کی طالبات کی طرف جنہوں نے حکومت کی طرف سے غیرقانونی مساجد کے گرانے کے خلاف احتجاج کے طور پر ایک لائبریری پر قبضہ کر رکھا ہے۔ میں اسلام‌آباد کی مساجد کی قانونی حیثیت کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا اور نہ ہی میں حکومت کا حامی ہوں۔ پاکستان کی حکومت کام سوچ سمجھ کر اور صحیح طریقے سے نہیں کرتی اس لئے میں اس بات پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ البتہ کچھ دن پہلے ان طالبات نے جی سکس میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر وہاں کی عورتوں کو یرغمال بنا لیا۔

مدرسہ حفصہ کی انتظامیہ نے دھمکی دی ہے کہ اسلام آباد کے ایک مکان پر طالبات کے چھاپے اور تین خواتین کو یرغمال بنانے کے الزام میں گرفتار کی گئی چار استانیوں کو بدھ کی شام تک رہا نہ کیا گیا تو جہاد کا اعلان کر دیا جائے گا۔

مدرسے کی طالبات نے اسلام آباد کے ایک رہائشی علاقے جی سکس کے ایک مکان پر منگل کی شام کو چھاپہ مار کر ایک خاتون اور اس کی بہو اور بیٹی کو ’جنسی کاروبار میں ملوث ہونے پر‘ یرغمال بنا لیا تھا۔ مقامی پولیس نے طالبات کی طرف سے کی جانے والی اس کارروائی کے جواب میں مدرسے کی چار خواتین اساتذہ کو گرفتار کر لیا تھا۔

پولیس کی کارروائی کے بعد مدرسے کی سینکٹروں طالبات ڈنڈے اٹھا کر سڑک پر نکل آئیں۔ مشتعل طالبات نے جنھیں طلباء کی معاونت بھی حاصل تھی پولیس کی دو گاڑیوں کو ان کے ڈرائیوروں سمیت مدرسے کے احاطے میں بند کر دیا۔

مدرسے کے منتظم غازی عبدالرشید نے بعد ازاں ایک پریس کانفرنس کو بتایا کہ اسلام آباد کی رہائشی تین خواتین ان کے قبضے میں ہیں۔ انہوں نے مقامی انتظامیہ کو خبردار کیا کہ اگر فوری طور مدرسے کی چار اساتذہ کو رہا نہ کیا گیا تو جہاد کا اعلان کر دیا جائے گا۔

غازی عبدالرشید نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان خواتین پر زنا کے الزام میں مقدمات چلائے جائیں اور قرار واقعی سزائیں دی جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکام نے ان پر مقدمات دائر نہ کیئے تو مدرسے کے اندر قاضی عدالت قائم کی جائے گی اور شریعت کے مطابق انہیں سزائیں سنائی جائیں گی۔

اس مدرسے کی طالبات اور طلباء نے آبپارہ مارکیٹ میں واقع ویڈیو شاپس کے مالکان کو بھی خبردار کیا ہے کہ جنسی مواد پر مبنی سی ڈیز کی فروخت بند کردیں۔

جب غازی عبدالرشید سے پوچھا کہ ان کے مدرسے کی طالبات نے کس اختیار کے تحت کارروائی کی تو انہوں نے کہا کہ یہ اسلامی ملک ہے اور اسلام کہتا ہے کہ برائی کو روکیں۔

بعد میں پولیس نے مدرسے کی استانیوں کو رہا کر دیا اور طالبات نے بھی جن پولیس اہلکاروں کو پکڑ لیا تھا انہیں چھوڑ دیا گیا۔ کچھ دن بعد لال مسجد میں ایک پریس کانفرنس میں یرغمالی شمیم اختر کے اقبالِ جرم کے بعد ان خواتین کو چھوڑ دیا گیا۔ گھر پہنچنے کے بعد شمیم اختر نے کہا کہ وہ بیان تو اس سے زبردستی دلوایا گیا تھا۔

یہ اسلام‌آباد ہے پاکستان سے دس کلومیٹر باہر ۔ یہاں قانون کا کوئی پاس نہیں۔ حکومت شہریوں کی حفاظت کی بجائے نجانے کس کام میں مصروف ہے اور مذہبی جنونی جس کو چاہتے ہیں یرغمال بناتے ہیں جسے برا سمجھتے ہیں اسے دھمکیاں دیتے ہیں۔ بے‌گناہی کا انہیں کوئی پاس نہیں کہ innocent until proven guilty والا مقولہ انہوں نے کبھی نہیں سنا۔

یہ خبر پڑھتے ہوئے مجھے جامعہ حفصہ کے پرنسپل عبدالعزیز کا نام کچھ جانا پہچانا لگا۔ عبدالعزیز آجکل لال مسجد کے امام ہیں۔ جب میں پاکستان میں تھا تو ان کے والد عبداللہ وہاں کے امام تھے اور عبدالعزیز ایف 8 کی مسجد میں ہوتے تھے۔ یہ صاحب پڑھے لکھے اور مزاج میں سلجھے ہوئے انسان ہیں۔ مگر صد افسوس کہ ایسے ہی مسلمان ہمیں دہشت‌گردی میں ملوث نظر آتے ہیں۔ عبدالعزیز صاحب نوے کی دہائی میں افغانستان میں طالبان کے قصیدے پڑھا کرتے تھے اور ان کی مسجد میں اکثر حرکت الانصار (کشمیر میں حربی گروہ) کے ارکان اور کرتا دھرتا چندے مانگنے آیا کرتے تھے۔ آجکل بھی سنا ہے عبدالعزیز کی مسعود اظہر اور جیش محمد والوں سے گاڑھی چھنتی ہے۔ ایک بات کا خیال رہے کہ ایف 8 کی مسجد بھی شاید سرکاری تھی اور لال مسجد بھی۔ تو کیا عبدالعزیز ایک سرکاری ملازم ہیں؟ اور اگر ہیں تو کیسے جہاد کی کال دے رہے ہیں؟

آجکل جہاد کا نام آتا ہے تو ہمارے ذہن میں کچھ عجیب سا خاکہ بنتا ہے جس میں قتل و غارت کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ باقی دنیا کو چھوڑیں مسلمانوں کا یہی حال ہے بلکہ بہت سے مسلمان سیاست اور تشدد سے جہاد کا سرا باندھتے ہیں اور ایسے جہاد کو نہ ماننے والوں کو مسلمان ہی نہیں سمجھتے۔ حالانکہ اگر آپ شروع اسلام سے مسلمانوں کی تحاریر پڑھیں تو جہاد کے متعلق آپ کو کافی مختلف خیالات ملیں گے۔ آج کے مسلمان تو کچھ باتوں میں بالکل خوارج لگتے ہیں۔

Author: Zack

Dad, gadget guy, bookworm, political animal, global nomad, cyclist, hiker, tennis player, photographer

21 thoughts on “یہ کیسا جہاد ہے”

  1. سلام
    دہشت گردانہ حملوں یا بم دھماکوں کی کسی نے ذمہ داری قبول کی؟ فلسطین کشمر کے جہاد کو ایسے جوڑنا کچھ غلط ہو گا کیونکہ اگر وہاں کچھ لوگ برین واش کر کے شامل کر دئے گئے ہیں تو اسمیں پوری جدوجہد پر قلم پھری دینا غلط ہو گا۔
    غلام سرور پر بھی میرا خیال متعقلہ اداروں سے پوچھ گچھ ہونی چاہئے۔ کوئی ایسی حرکات میں اتنے عرصے سے ملوث ہو اور پولیس اس کو ہاتھ نہ لگائے ناممکن ہے۔ اس کے پیچھے ضرور کوئی بڑا ہاتھ تھا۔ بحیثیت پاکستانی آپ کو پاکستانی پولیس اور اس کے نظام کا اچھی طرح علم ہونا چاہئے۔
    یہاں میں قطعا نہیں کہتا کہ اس نے نیکی کا کام کیا۔ بہر حال کسی کو زندگی سے محروم کرنا کسی بھی جرم کی سزا نہیں ہونی چاہئے سوائے قتل کے۔ اس میں بھی سیلف ڈیفنس کی ایکسپیشن ہے۔
    طالبات کے حوالے سے بہت دلچسپ بات ہے کہ یہ مت سوچیں وہ کیا کر رہی ہیں یہ سوچیں کہ وہ کیوں کر رہی ہے؟ ان کے پیچھے کون ہے؟ صرف جامعہ حفصہ کے پاس اتنی طاقت نہیں۔ اس کے پیچھے ایک ادارہ نہیں ہو سکتا۔ یہ تو لطیفہ ہو گیا کہ حکومت نواز شریف سے لے کر مذہبی جماعتوں اور تو اور ایم کیو ایم اور بگٹی تک کو نکیل ڈال لے لیکن ایک چھوٹے سے گروہ کو قابو نہ کر سکے۔
    میرا نہیں خیال کہ جہاد کے بارے اکثریت کا یہ خیال ہو گا۔ ہاں تلخی کچھ تو اسلام کی حمایت کی وجہ سے اور کچھ نظریاتی اختلاف کے ساتھ ساتھ عراق افغانستان کے حالات کی وجہ سے بھی در آتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بجائے اگلے کی بات کی نفی کرنے کے کسی بھی چیز کے بارے مین اپنی رائے دی جائے۔

    آف ٹاپک: آپ کی اسلام آباد سے دس کلومیٹر باہر والی پوسٹ کے لنک میں آخر پر فل اسٹاپ لگا ہوا ہے جس کی وجہ سے لنک صیح فالو نہیں ہو رہا۔ اس کو درست کر لیں۔

    وسلام

  2. فلسطین اور کشمیر کے معاملات دہشت‌گردی سے بڑھ کر ہیں اور وہاں کے لوگوں کی جائز خواہشات کا تدارک ہونا ضروری ہے۔ یہ بات مین پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔ مگر وہاں پر غلط طریقہ‌کار کے استعمال نے ہر لحاظ سے نقصان پہنچایا ہے اور کچھ گروہ تو وہاں آزادی کے بہانے سے اپنی غنڈہ‌گردی دکھا رہے ہیں۔

    غلام سرور اور کال گرلز والے قصے میں کچھ چکر ضرور ہے کہ گواہوں کے بیانات بدلوا کر ہی وہ بری ہوا تھا۔

    جامعہ حفصہ والے چکر میں کئی گھن چکر ہیں۔ ایک تو اسلام‌آباد میں جس قسم کا اسلام پھیل رہا ہے اور جو معاشرتی تبدیلیاں ہو رہی ہیں کہ کچھ لوگ مذہب سے دور ہو رہے ہیں اور کچھ بہت مذہبی۔ اس کے علاوہ ضیاء الحق، افغانستان اور کشمیر نے بھی اثر کیا ہے۔ عبدالعزیز جیسے لوگوں کو ابھی کچھ عرصہ پہلے تک حکومت اور ایجنسیوں کی مکمل سپورٹ حاصل تھی۔ اب حکومت کو یہ بھی دکھانا ہے کہ وہی پاکستان کو ان حربیوں سے بچا سکتی ہے۔ یہ بھی خیال رہے کہ عبدالعزیز اور جامعہ حفصہ کے حامی ان‌پڑھ یا غریب نہیں بلکہ اسلام‌آباد کی مڈل کلاس ہے۔ پچھلے الیکشن میں اسلام‌آباد سے متحدہ مجلس عمل جیتی تھی جس سے وہاں سیاسی اسلام کی مقبولیت کا کچھ اندازہ ہوتا ہے۔

    جہاد کا موضوع مزید تفصیل اور ریسرچ مانگتا ہے۔ کوشش کروں گا کہ اس پر بھی لکھوں۔

    لنک کی غلطی کی نشاندہی کا شکریہ۔ میں نے درست کر دیا ہے۔

  3. han yar app sahi keh rahay hain, pata nahi Pakistan kahan ja raha ha, daily hi ajeeb ajeeb si khabrian sunnay ko milti hain, may shoro shoro may jang parhtha thta, amgar ab nahi, wohi purani politicians ki fazool batain, Pakistan ki khabrian parh kar ab dar lagta ha, Dil dukhta ha apnay mulk kay liay, kutch samajh nahi ata kasay apna mulk theek ho ga, kia hamaray logon kay muqadar may hi sakhtian hain

  4. میں پھر کہوں گا کہ کچھ قصور ہمارے بزرگوں کا بھی ہے جنہوں نے ہماری تربیت کرتے وقت ہمارے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی کہ اپنے فرقے پر ہی ڈٹ جاؤ اور دوسرے کی بات نہ سنو ۔ اب ہم چونکہ ایک ہی خول میں موجود رہتے ہیں اور اس سے باہر نکلنے سے ہماری دنیا و آخرت خراب ہوتی ہے ، اس لیے ہم وہ بس کچھ بلا رد و کد تسلیم کرتے جاتے ہیں جو ہمارے خول والے ہمارے ذہنوں میں ڈالتے ہیں ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ عمر کی زیادتی بھی ہمیں سوچنے کی صلاحیت نہیں دیتی ۔

    دوسری بات ہم بلاگزر کا بھی کچھ قصور ہے ۔ ہم مغربی دنیا کو یہ کیوں نہیں بتا رہے کہ جہاد دراصل کیا ہے ؟ قتال تو جہاد کی ایک قسم ہے ، سب سے بڑا جہاد اپنے نفس کی ناجائز خواہشات سے لڑنا ہے ۔
    ہم لوگوں کی ایک بڑی خامی یہ ہے کہ ہم ایسے واقعات پر اظہار افسوس تو کرتے ہیں مگر لوگوں کو سمجھانے کی کوشش نہیں کرتے ۔ اگر ہم لوگوں کو کہیں گے کہ فلاں کام ٹھیک نہیں تو وہ ہم سے دلائل مانگیں گے ۔ دلائل کے بغیر بات کرنا الگے کو پکا کرنے کے مترادف ہے ۔

    زکریا آپ جیسے افراد جو انگلش میں اپنا مدعا درست طور پر بیان کر سکتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ مسلم اور غیر مسلم افراد کو اسلام کی اصل روح سے روشناس کرائیں ۔ بلاگنگ کے ذریعے اور دیگر طریقے استعمال کر کے لوگوں کے ذہنوں سے وہ دبیز گرد ہٹائیں جو کئ سالوں سے پڑی ہے اور مزید گہری ہوتی جا رہی ہے ۔
    امتحانات کے بعد میں انگریزی سیکھوں گا تو پھر انشاءاللہ اس بارے میں لکھا کروں گا ۔
    😛

  5. آپ تو ساڑھے نو سال سے اسلام آباد بلکہ پاکستان سے باہر ہیں ۔ ہم یہاں رہتے ہوئے سمجھ نہیں پا رہے کہ یہ سب کیا ہے ؟ اور اس ڈرامہ میں کون کیا کردار ادا کر رہا ۔ مولوی عبدالعزیز پڑھا لکھا ذہین – باعمل اور سُلجھا ہوا شخص ہے ۔ میں چار چھ ماہ بعد لال مسجد اُنہیں ملنے جاتا رہا ہوں ۔ میری آخری ملاقات اس سے مسجدیں گرانے کے واقعہ سے چند ہفتے قبل ہوئی تھی ۔ میں کسی مسئلہ پر ان سے مشورہ کرنے گیا تھا ۔ میں نے پہلی بار دیکھا کہ مولوی عبدالعزیز کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور وہ ایک نحیف مریض لگ رہے ہیں ۔ میں نے وجہ پوچھی تو ایک دیرینہ مریض کی طرح دُکھ بھرے چہرے کے ساتھ کہا “آپ جانتے ہی ہوں گے کہ یہ حکومت ہمارے ساتھ کیا کر رہی ہے”۔ میں نے نہ میں سر ہلایا تو کہنے لگے “زیادہ کیا بتاؤں ۔ ہماری نیند اور چین تو حرام کیا ہی ہے ۔ آرام سے نماز بھی نہیں پڑھنے دیتے ۔ ہر وقت سر پر تلوار لٹکی ہوئی ہے ۔ کئی ماہ سے میں نے امامت نہیں کرائی ۔ کبھی پیچھے نماز ادا کر لیتا ہوں اور کبھی گھر پر “۔ میں سوچتا رہا اور اب بھی سوچتا ہوں کہ وہ عبدالعزیز جو بلا خوف حکومت کی غلطیوں پر تنقید کرتا تھا جبکہ مقتدیوں میں وزراء ۔ فیڈرل سیکریٹری اور جنرل بھی ہوتے تھے اُسے کیا ہو گیا ہے ؟

    جہاں تک مساجد کے تجاوزات یا غیرقانونی ہونے کا تعلق ہے کچھ مساجد ایسی ہیں مگر ان میں سے ایک بھی نہیں گرائی گئی ۔ جو سات مساجد کرائی گئی ہیں ان میں سے تین حکومت کے مہیا کردہ فنڈ سے بنی تھیں تو پھر وہ غیر قانونی کیسے ہوئیں ۔ باقی چار میں سے مسجد حمزاء ایک صدی پرانی تھی اور باقی بھی کم از کم پندرہ سال پرانی تھیں ۔ کئی مساجد ہماری اسلام آباد رہائش کے دوران یعنی 1994ء کے بعد غیر قانونی طور پر بنائی گئی ہیں اور ان کو کسی نے نہیں گرایا ۔ مدرسہ حفصہ بھی حکومت کے مہیا کردہ فنڈ سے 2 دہائیوں سے زائد پہلے بنا تھا اب اچانک ناجائز ہو گیا ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہر مرکز اور تقریباً ہر گلی میں لوگوں نے سرکاری زمین پر قبضہ جمایا ہوا ہے مگر ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا ۔ کوئی میرے جیسا قبضہ کرے تو ایک ہفتہ کے اندر آ کر گرا دیتے ہیں ۔ ہمارے گھر کے قریب جو سٹریٹ 30 ہے اس پر ایک صاحب نے پچیس فٹ چوڑی اور 180 فٹ لمبی [ایک کنال] سرکاری زمین اپنی کوٹھی میں شامل کی ہوئی ہے جو ہر گذرنے والے کو نظر آتا ہے ۔ اس زمین کی قیمت ڈھائی کروڑ روپے سے کم نہیں ہے ۔ ایف ۔ 7 میں ایک ریستوراں نے حکومت کی کم از کم دو کنال زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ یہ تو بڑی بڑی دو مثالیں ہیں جو بڑی سڑکوں پر جہاں سے میرا گذر عام ہوتا ہے ۔ چھوٹی مثالیں اَن گِنت ہیں ۔

    یہ بات بھی سمجھ سے باہر ہے کہ ایک طرف قبائلی علاقہ میں بے قصور لوگوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف اسلام آباد میں کسی پر بھی حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ۔ شراب کے اڈے اور ہائی سوسائٹی طوائف گھر عام ہو رہے ہیں ۔ محلے دار شکائت کرتے ہیں مگر بے سود ۔

  6. ظلِ ہما کے قاتل کی وجہ سے اسلام کو ملوث کرنا غلط ہے ۔ حج تو وہ بھی کرتے ہیں جنہوں نے کبھی نماز نہیں پڑھی ۔ ہماری قوم کی بدقسمتی یہ ہے کہ صحیح صورتِ حال کم ہی اخباروں میں چھپتی ہے ۔ اخباروں کا کام ہر بات کو سکینڈل بنانا ہے کیونکہ زیادہ آبادی کم پڑھی لکھی ہے اور وہ سکینڈل پڑھنے کا بہت شوق رکھتی ہے ۔ کئی پڑھے لکھے لوگ بھی سکینڈل پڑھنا بلکہ سکینڈل بنانا پسند کرتے ہیں ۔ اصلیت تو ہمیں آج تک لیاقت علی خان کے قتل کی معلوم نہیں ہوسکی ۔ کسی نے اس پولیس انسپکٹر کو کچھ نہ کہا جس نے قاتل کو گولی مار کر مار دیا ۔ امریکہ کی صورت حال بھی کچھ ایسی ہی ہے ۔ جان ایف کینیڈی ۔ اس کے قاتل اور قاتل کے قاتل کا قتل اس کی مثال ہے ۔

    جہاں تک جموں کشمیر ۔ فلسطین ۔ افغانستان اور عراق کا تعلق ہے ۔ ان سب کی نوعیت کچھ مماثلت بھی رکھتی ہے اور مختلف بھی ہے ۔ سب سے بڑی مماثلت یہ ہے کہ ان علاقوں پر قبضہ اور ان کے عوام پر ظلم جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اور اپنے آپ کو انسان دوست کہنے والوں کے جھوٹا ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ ان ملکوں کے مسلمان جہاد کر رہے ہیں اور حق بجانب ہیں یا نہیں ؟ میں پھر سے قرآن شریف کا مطاکعہ کر رہا ہوں اور انشاء اللہ جلد اس پر لکھوں گا ۔ ایک بات تو واضح ہے کے ظُلم کے خلاف لڑنا انسان کا حق ہے اور قوم کا بھی ۔ رہا طریقہ تو ایک شخص کے پاس ڈنڈا ہے جس سے وہ دوسرے کی کمو پر ضربیں لگا رہا ہے تو ڈنڈے کھنے وال اگر اپنا بوٹ مرا کر ڈنڈے والے کا منہ ناک توڑ دے تو وہ دہشتگرد نہیں بن جاتا ۔

  7. جس تن لاگے وہي جانے والي بات ہے۔ جو جو جن جن حالات سے گزر رہا ہے وہي جانتا ہے کہ اچھا کيا ہے اور برا کيا۔ آج کسي کو اس کي اہليت کي بنا پر نوکري نہيں ملتي تو وہ سمجھتا ہے کہ ہر طرف سفارش کا دور دورہ ہے۔ اگر کسي کو پوليس بيگناہ پکڑ کر لےجاتي ہے اور مارتي پيٹتي ہے تو وہ سمجھتا ہے ساري پوليس ہي کرپٹ ہے۔ ہم لوگ زيادہ تر مسائل پر بات کرتے ہيں مگر ان کا حل تجويز نہيں کرتے۔
    آپ بتائيں اگر آپ کي زمين پر کوئي قبضہ کرلے اور آپ سپريم کورٹ تک سے مايوس ہوجائيں تو پھر آپ کيا کريں گے۔ فلسطينيوں کو ان کے ملک سے نکال ديا گيا اور آج تک اقوام متحدہ تک سے انہيں انصاف نہيں ملا تو آپ کي نظر ميں اب وہ کيا کريں۔ ساري عمر غلامي ميں گزار ديں۔ حيراني والي بات يہ ہے کہ عالمي طاقتيں بھي ان مسائل کو ختم کرنے کي کوشش نہيں کررہيں۔
    آجکل اسلام کو بدنام کرنے کا جو ٹرينڈ يورپ نے شروع کيا ہوا ہے يہ اسي کا شاخسانہ ہے کہ ہم اسلام کے پانچوں ارکان پر تنقيد کرتے نہيں تھکتے حالانکہ اگر ہم اپنے اندر جھانک کر ديکھيں تو ہم خود بےعمل مسلمان ہيں مگر فتوے دينا اپنا فرض سمجھتے ہيں۔
    فلسطين، کشمير اور افغانستان کے مسائل کا صرف ايک ہي حل ہے اور وہ ہے مقامي لوگوں کي رائے کے مطابق فيصلہ کرنا۔ اقوام متحدہ کي نگراني ميں وہاں انتخابات کرائے جائيں اور جس طرح انڈونيشيا کے ايک جزيرے کے لوگوں کے رائے کو قبول کرتے ہوئے اسے آزادي دلائي تھي اسي طرح ان علاقوں کا بھي عوامي سوچ کے مطابق فيصلہ کرليا جائے۔
    ہر سوسائٹي ميں اچھے برے لوگ ہوتے ہيں اور اقليت کے اعمال کي بنا پر ہم ان کے مزہب کے بارےميں رائے قائم نہيں کرسکتے۔ اگر مولوي اسلم نے ايک عورت کو قتل کرديا يا جامعہ حفصہ کي طالبات نے ڈنڈے اٹھا ليے تو اس کا يہ مطلب نہيں پاکستان کي پندرہ کروڑ آبادي دہشت گرد ہے۔ ہمارے خيال ميں ان تمام حادثات کي ذمہ دار حکومت ہے وہ اگر چاہے تو امن قائم ہوسکتا ہے۔ ليکن ہوسکتا ہے ان سب تخريب کاريوں سے حکومت کچھ اور حاصل کرنا چاہتي ہو اسي ليے خاموش ہے۔

  8. Ajmal sahib kay favourite maulana ub khud kush hamloon kee dhmakee day rahay hain…ub Ajmal sahib bhee khud kush hamloon ko jaiz qaraar day dain gay?

    خودکش حملوں کی دھمکی

    اسلام آباد کی مرکزی لال مسجد کے عالم مولانا عبدالعزیز نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے لا ل مسجد پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو وہ بھی خودکش حملہ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

  9. پہلے تو تسلی رکھیں کہ انشا اللہ خیر ہو گی، حالات اتنے برے نہیں جتنے میڈیا دکھا رہا ہے، سب ایک منصوبے کے تحت ہوتا نظر آتا ہے، شائد حکومت ایک مرتبہ پھر نظریہ ضرورت کا استعمال کرنا چاہتی ہے، اپنی ہی عوام کو بلیک میل کر کے۔ ابھی پاکستانی عوام کسی بھی اسلامی انقلاب سے بہت دور ہیں اور نہ ہی پوری طرح لادینیت قبول کرنے پر مائل۔
    میرے خیال میں جو اسوقت ہو رہا ہے، وہ کبھی نہ کبھی تو ہونا ہی تھا۔ اور اس کے لئے ہم سب، شائد وہ سب مسلمان جو پچھلے تیرہ سو سال میں پیدا ہوئے ذمہ دار ہیں۔ اسلام پر جتنا کام ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہوا، اسی لئے ہم نے جہاد، ریاست، فرد سب کو خلط ملط کر دیا ہے۔ یقیناً اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور ہمیں آؤٹ آف دی باکس بھی سوچنا پڑے گا۔ نہ دنیا ہماری مرضی پر چلے گی اور نہ ہمیں کبھی آءیڈیل حالات میسر آئیں گے، جیسا بھی ہے، اب اسی پا گزارہ کرنا ہو گا، اتنی صدیوں کا گند یوں صاف نہیں ہو گا۔

  10. ابھی تو ابتدا ہے دیکھیں ہوتا ہے کیا کیا۔ اسلام کا ایک نیا بیٹا (ٹرائل ورژن) رلیز ہو رہا ہے، مبارک۔ ایک بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ ان ملا حضرات کو اتنی جرآت کہاں سے آگئی کہ نام نہاد اسلامی شریعت کے نفاذ کا اعلان اور ساتھ ہی خودکش حملوں کی دھمکی؟ یہ محمدی اسلام تو نہیں لگتا۔ وہ تو محبت سے پھیلا تھا۔ خدارا ہوش کے ناخن لیں اور اسلام کو بدنام نہ کریں۔

    zahoor solangi, Islamabad, پاکستان

    Kuch discussion is mauzoo pay; http://newsforums.bbc.co.uk/ws/thread.jspa?threadID=5871

  11. قدیر:

    ہم بلاگزر کا بھی کچھ قصور ہے ۔ ہم مغربی دنیا کو یہ کیوں نہیں بتا رہے کہ جہاد دراصل کیا ہے ؟

    بات گھوم پھر کر وہیں آ جاتی ہے کہ مغربی دنیا کو کیا بتائیں جب ہم میں سے ہی بہت سے لوگوں کو جہاد کا وہی غلط آئیڈیا ہے۔

    ابو: عبدالعزیز کے بارے میں یہی کہوں گا کہ جس طرح کے حربیوں میں اس کا اٹھنا بیٹھنا تھا تو شاید یہی انجام ہونا تھا۔

    ظلِ ہما کے قاتل کی وجہ سے اسلام کو ملوث کرنا غلط ہے ۔

    اس قتل کو اسلام کے ساتھ میں نے نہیں قاتل نے جوڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی نے قتل کی مذمت کی اور اسے جہاد کہنے کے خلاف کچھ کہا؟

    میرا پاکستان: فلسطین اور کشمیر وغیرہ کا حل واقعی وہاں کے لوگوں کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیئے۔ اس میں کوئی شک نہیں مگر یہ حربی گروہ جو کشمیر میں فعال ہیں ان میں سے کتنے کشمیریوں کی بہبود چاہتے ہیں؟ زیادہ انتہاپسند گروہوں نے تو خود بھی کشمیریوں کو مارا ہے اور ان پر ظلم کیا ہے۔ ان گروہوں نے کشمیریوں کو کچھ نہیں دیا سوائے مصیبت کے۔

    ہر سوسائٹي ميں اچھے برے لوگ ہوتے ہيں اور اقليت کے اعمال کي بنا پر ہم ان کے مزہب کے بارےميں رائے قائم نہيں کرسکتے۔ اگر مولوي اسلم نے ايک عورت کو قتل کرديا يا جامعہ حفصہ کي طالبات نے ڈنڈے اٹھا ليے تو اس کا يہ مطلب نہيں پاکستان کي پندرہ کروڑ آبادي دہشت گرد ہے۔

    بات آپ کی کچھ حد تک صحیح ہے مگر اگر ہم مسلمانوں کے عمل سے اسلام کو نہیں جانیں گے تو کیسے جانیں گے؟ جب یہی انتہاپسند کسی پر زبردستی کرتے ہیں یا کسی کو برا یا کافر کہتے ہیں تو اس وقت کیا اکثریت بولتی ہے؟ دوسری بات یہ کہ ہم مسلمانوں پر کسی بھی تنقید کو اسلام پر تنقید کیوں سمجھ لیتے ہیں؟

    می: خودکش حملوں کی دھمکی کے بارے میں حوالہ دیں۔

    فیصل:

    سلام پر جتنا کام ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہوا، اسی لئے ہم نے جہاد، ریاست، فرد سب کو خلط ملط کر دیا ہے۔

    یہی سارا چکر ہے۔

    آپ سب لوگوں کا لال مسجد کی مملکتِ اسلامیہ کا عدالت اور جہاد کے اعلان کے بارے میں کیا خیال ہے؟

  12. مجھے اب بھی یقین نہیں کہ مولوی عبدالعزیز اتنا بدل گیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف بغاوت کر دے ۔ میں جانتا ہوں کہ وہ طالبان کی تعریف کیا کرتا تھا لیکن اس زمانہ میں سوائے آزاد خیال لوگوں کے سب طالبان کو اچھا سمجھتے تھے جن میں پڑھا لکھا طبقہ بھی شامل تھا ۔ پچھلے الیکشن میں اسلام آباد کی شہری آبادی سے متحدہ مجلسِ علم کا ایسا نمائندہ جیتنا جسے پہلے کوئی جانتا بھی نہ تھا اس بات کا ثبوت ہے ۔
    ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ صحیح خبر ہمارے سامنے نہیں آتی ۔ اس کی ایک وجہ پیسے کے پیر اور اسلام دشمن پاکستانی اخبارات ہیں ۔ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ لال مسجد کے معاملہ کو حکومت نے جان بوجھ کر ہوا دی تا کہ عوام کا دھیان اُن بے قصور مردوں ۔ عورتوں اور بچوں کی طرف نہ جائے جن کا غیر ملکی کہہ کر قتلِ عام کیا جا رہا ہے ۔ عجب بات یہ ہے کہ حکومت کے مطابق مقامی قبائل کے لوگ اُنہیں مار رہے ہیں ۔ اگر یہ صحیح ہے تو پھر اس لڑائی میں فوجی کیوں مر رہے ہیں ۔ اور اگر ملک کے اندر دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو کیا یہ حکومت کا فرض نہیں کہ ان کی لڑائی بند کرائے ؟

  13. میں نے ایک تبصرہ شام کو لکھا تھا مگر پری ویو کا بٹن دبا کر بھول گیا اور سمجھا کہ سبمٹ ہوگیا۔ خیر دوبارہ وہی بات لکھ دیتا ہوں۔ بحیثیت ایک پاکستانی شہری جو پاکستان ہی میں رہتا ہے مجھے جامعہ حفصہ کے اقدامات پر شدید اعتراضات ہیں۔ میں ان کے کارناموں کو پاکستان کے شہریوں کے انسانی بنیادی حقوق پر سنگین حملہ تصور کرتا ہوں۔ مجھے اس بات پر بہت تشویش ہے کہ اگر انہیں نہیں روکا گیا تو یہ لوگ پھیلتے چلے جائیں گے اور ملک میں ظلم، ناانصافی اور دہشت گردی جو پہلے ہی بہت زیادہ ہے وہ اور بڑھ جائیگی۔

  14. Mr zack jihad ka sahi idea kia hay aik post is per bhi ho jaay to hum jaisay la ilmon ko bhi pata chal jaay ga or hum apnay aap ko drust ker lain gay,

  15. Kio jee Jihad kay ilawa koi cheeze nahain hai islam main? Islam kay jo baaqee paanch araakeen hain un pay amal kee jeeay. Han ugur qatlo garat ka shoq hai to buray shoq say iraq ya afghanistan tashreef lay jain aur jihad kay shoqeen degur mullaoon ko bhee saath lay jain.

  16. Mr Namaloom yeh sawal aap say naheen tha is liay ap apni jihalat ka muzahira na kertay to bahter tha:)
    mainay nahayat sanjeedgi say yeh sawal Zack sahab say kia hay or umeed kerta hoon kay jald hi jawab say nawazain gay,
    takay humain bhi pata chal sakay kay jihad ki asal theory kia hay,agar hum galat samajhtay hain to khud ko sahi kerlain,
    or agar yeh tafseel urdu main ho to hum kam ilmon par or bhi ziada ahsan hoga:)

  17. We always had political dalaals (dullaay in Punjabi) like shujaat and others who always manage to get the business deals done between the religious pr0stitutes (muzhabee rund1an) and their customers (gahuk) the army and america and still these molvis have the cheek to complain of Aunti Shameem who has neither sold Pakistan nor Islam.

    If someone can express this more eloquently I would appreciate that.

  18. Jamia Hufsa is proving too extremist even for doebundis;

    جامعہ حفصہ مدارس بورڈ سے خارج

    دیو بند مکتبِ فکر کے مدارس کے بورڈ ’وفاق المدارس العربیہ پاکستان‘ نے اسلام آباد کے زبردستی شریعت نافذ کرنے والے دو مدارس کو اپنے بورڈ سے نکال دیا ہے۔

    (http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/04/070409_hafsa_ousted_sq.shtml)

  19. می: شکریہ۔

    ابو: حکومت نے شاید معاملے کو ہوا دی ہو مگر عبدالعزیز آزاد ہے اور ہر جگہ بیانات اور خطبے دے رہا ہے۔ اس کی اپنی باتوں سے ظاہر ہے کہ وہ کن غلط کاموں میں پڑا ہوا ہے۔

    عبداللہ: جہاد کے موضوع پر صحیح طریقے سے لکھنے کے لئے کچھ ریسرچ اور وقت کی ضرورت ہے۔ میرا ارادہ ضرور ہے مگر شاید کچھ دیر ہو جائے۔

    مشتاق: مدرسہ بورڈ والی خبر کا بتانے کا شکریہ۔

Comments are closed.