برقعہ اور جہاد

لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز نے دھمکیاں تو خودکش حملوں کی دی تھیں مگر خود برقعے میں بھاگنے کی کوشش کی۔

اسلام‌آباد میں لال مسجد میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ قابلِ افسوس ہے۔ 19 لوگوں کی موت کا سن کر ہی انسان پریشان ہو جاتا ہے۔ مگر اس سب کی ذمہ‌داری کافی حد تک آنٹی عبدالعزیز اور عبدالرشید پر آتی ہے۔ کچھ چینیوں کے اغواء کے بعد حکومت کا اپریشن یقینی تھا۔ مگر اس طرح کے حالات میں بھی کچھ باتیں انسان کو ہنسنے پر مجبور کر دیتی ہیں:

اسلام آباد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ برقعہ پہن کر مسجد سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ پولیس نے مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام حسن کو بھی گرفتار کر لیا۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ مولانا عبدالعزیز برقعہ پہن کر جامعہ حفصہ کی ان طالبات کی لائن میں کھڑے ہو گئے جنہوں نے حکومت کی طرف سے عام معافی کے اعلان کے بعد خود کو حکام کے حوالے کر دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تلاشی کے دوران لیڈی پولیس کانسٹیبل نے جب بظاہر ایک خاتون کا برقعہ اتارا تو اندر سے مولانا عبدالعزیزبرآمد ہوئے جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

اب میں کیا کہہ سکتا ہوں کہ کیا یہ وہی شخص ہے جس نے خودکش حملوں کی دھمکیاں دی تھیں؟

اپڈیٹ: یہ پوسٹ تو بس کچھ طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں کی تھی۔ لال مسجد کے سارے قصے کے بارے میں کہنے کو بہت کچھ ہے مگر کس کس کی غلطیاں نکالوں کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ اگر لال مسجد والے غلطی پر تھے تو حکومت نے بھی کچھ صحیح نہیں کیا۔

Author: Zack

Dad, gadget guy, bookworm, political animal, global nomad, cyclist, hiker, tennis player, photographer

12 thoughts on “برقعہ اور جہاد”

  1. Ahem….baaz supporter Maulana kay abhee bhee koi justification nikal lain gai Maulana kee is harkat kee…:)

  2. جان کسے پیاری نہیں ہوتی۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ باہر نکل کر کسی نامعلوم جگہ سے زیادہ بہتر طور پر کمانڈری کرنا چاہتے ہوں۔ بی بی سی پر ایک خبر عبدالرشید کے حوالے سے بھی ہے۔ ہوسکتا ہے اس لاکھوں روپے سالانہ چندہ (جس کا کوئی حساب نہیں رکھا جاتا) حاصل کرنے والے مدرسے کا اقتدار حاصل کرنے کے لئے عبدالرشید نے عبدالعزیز کو باہر نکلوا کر پکڑوادیا ہو۔

  3. ماضی قریب کی جو کاروائیاں مولوی عبدالعزیز کے سے منسوب ہیں میں اُن کی حمائت نہیں کرتا اور نہ کسی مولوی تو کیا کسی مسلمان کا برقعہ پہن کر عورتوں کے نرغے میں جان بچانے کی کوشش کو اچھا عمل سمجھتا ہوں ۔

    لال مسجد کے قریب جو کچھ بھی ہوا اس کے متعلق حکومت کی دی ہوئی خبریں ہم ماننے پر مجبور ہیں کیونکہ صحافیوں کو جائے واردات سے کم از کم پانچ سو میٹر دور رکھا گیا ۔ شائد آپ کو یاد ہو گا کہ سراج کورڈ مارکیٹ ۔ ہالی ڈے اِن [پرانا نام اسلام آباد ہوٹل] اور سنٹرل گورنمنٹ سروسز ہاسپٹل [پرانا نام پولی کلینِک] کہاں ہیں ۔ پہلے اور دوسرے دن [ 2 ۔ 3 جولائی] صحافی سراج کورڈ مارکیٹ اور ہالی ڈے ان کے سامنے تھے پھر انہیں سراج کورڈ مارکیٹ سے پیچھے دھکیل دیا گیا اور اسلام آباد ہوٹل کے سامنے والوں کو پولی کلینک کے دوسری طرف حکیم لقمان روڈ اور بلیو ایریا کی فضلِ حق روڈ کے درمیان گرین بیلٹ میں دھکیل دیا گیا ۔ چند صحافی کہیں اُونچی عمارتوں کی چھتوں پر دوربین مووی کیمروں کے ساتھ تھے مگر وہ بھی لال مسجد یا مدرسہ حفصہ یا ان کے اردگرد سڑکوں کو نہیں دیکھ سکتے تھے ۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت کا پہلا اعلان تو یہی تھا جو آپ نے تحریر کیا ہے ۔ بعد میں حکومت نے ایک وڈیو کلِپ دکھائی تھی جس میں بتایا گیا کہ ایک پولیس مین یا فوجی [مرد] نے مولوی عبدالعزیز کو پہچان لیا اور پکڑ لیا جس کے عوض اس کی ترقی کی جارہی ہے اور نقد انعام بھی دیا جائے گا ۔ اس وڈیو میں ایک جھلک تھی مولوی عبدالعزیز کو پکڑ کر گاڑی میں ڈالنے کی ۔ اس میں عبدالعزیز نے کوئی برقعہ نہیں پہنا ہوا ۔

  4. I have again faced the same problem and abandoned posting comment after three trials.
    When I click on “Preview”, following message is displayed:
    Your comment is valid XHTML 1.1 + MathML 2.0!
    Then I click on “Post” and the following message is displayed:
    Please preview your modified entry before posting it.

  5. رکن قومی اسمبلی مولانا شاہ عبدالعزیز کے مطابق مولانا عبدالعزیز کو ایک اہم اعلٰی شخصیت نے مذاکرات کےلیے برقع پہن کرباہر آنے اور وہاںسے کالے شیشوں والی گاڑی میں آجانے کا کہ کر بلایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب یہ واقعی دھوکہ ہوایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔واللہ اعلم

  6. نعمان: واقعی جان کسے پیاری نہیں ہوتی مگر ان طلباء و طالبات کی ذمہ‌داری انہی صاحب کے کندھوں پر تھی۔

  7. Zakria Bro, though you must be right in your opinion but i personally feel that calling a Scholar with “Aunty” was no where justice you did to him:( I am even so much pissed at the way Media treated him and then interviewed him in Burqa, atleast he was a Scholar and a Maulana who would spread the word of God, if he was bad his importance should not be neglected,Maulana has a very high respect in our society, if he is wrong he should be punished but not treated the way he is being treated now!
    Thanks

  8. Sir, according to a leading columnist Hamid MIr, responsibility lies with government when it did not agree to rebuild the demolished mosques legally built in capital area and gave a notice to Jamia Hafsa to evacuate the property as it is illegal according to a new law made 3 yrs ago.
    link attached if u want author’s own words.
    http://jang.com.pk/jang/jul2007-daily/09-07-2007/col3.htm
    Regards.

  9. Khushal: The burqa related talk is just fun. The whole issue of Abdul Aziz’s doings as well as the government operation are a different matter altogether. As for not making fun of someone, I don’t believe in having any holy cows who are exempt from humor and satire.

  10. tum loag american’s ki nasal main say ho
    kis nay maulana ko burkhay main nikaltay apni aankhon say dekha

    mera khayal hy k koi eik bhi nahin milay ga

    yehi to american ka kamal hy k jooth ko such sabit karo

    aur american’s k ghulam us ko such samajhtay hain

    lakin kya karain net per baith ker sara din aur raat xxx sites dekhny walon ko
    kaun samjhaye

Comments are closed.