An Inconvenient Truth

Al Gore and the makers of the documentary do a great job in presenting the global warming issue. Highly recommended as it is about a very important issue of our times.

Finally, we watched the documentary An Inconvenient Truth on TV.

The documentary basically follows Al Gore as he gives a presentation on global warming. I was skeptical about the format as it intersperses Gore’s past (including his childhood and his election loss in 2000) with the lecture on global warming. However, it does humanize the presentation and is probably more effective than just presenting information on climate change by multiple people.

I would highly recommend everyone watch An Inconvenient Truth as it is done well and is about (probably) the most important issue of our times. I rate it 9/10.

If you are interested in information about global warming, I would suggest the list of links compiled by the Real Climate blog, or you could read the reports of the Intergovernmental Panel on Climate Change.

Benazir Bhutto Assassinated

Former Prime Minister Benazir Bhutto has been assassinated in Rawalpindi while campaigning for elections set for January 8.

Former Prime Minister and leader of the most popular Pakistani political party, Pakistan Peoples Party, Benazir Bhutto has been killed in a suicide bombing in Rawalpindi a couple of hours ago.

Pakistani former Prime Minister Benazir Bhutto has been assassinated in a suicide attack.

Ms Bhutto had just addressed an election rally in Rawalpindi when she was shot in the neck by a gunman who then reportedly set off a bomb.

At least 15 other people died in the attack and several more were injured.

[..] It was the second suicide attack against Benazir Bhutto in recent months and comes amid a wave of bombings targeting security and government officials.

[…] The explosion occurred close to an entrance gate of the park in Rawalpindi where Ms Bhutto had been speaking.

Wasif Ali Khan, a member of the PPP who was at Rawalpindi General Hospital, said she died at 1816 (1316 GMT).

Supporters at the hospital began chanting “Dog, Musharraf, dog”, the Associated Press (AP) reports.

Some supporters wept while others exploded in anger, throwing stones at cars and breaking windows.

Police confirmed reports Ms Bhutto had been shot in the neck and chest before the gunman blew himself up.

There are reports of riots, car and buildings being burned all over Pakistani cities, according to Aaj TV and Geo TV.

This is definitely the worst news in probably the worst year in Pakistani history.

Christmas

Since the Kid is three now, she’s enjoying Christmas and so are we. Merry Christmas, everyone!

It’s Christmas Eve.

We have had Christmas lights outside our home since December 4. Michelle had demanded lights as she saw them in the neighborhood. So I told her we would decorate for Hanukkah, and so we did on the first day of Hanukkah.

Michelle has also asked that she get candies from Santa Klaus on Christmas. Every day at her preschool, she stopped at the Christmas tree and spent some time looking at all the decorations.

In short, this is our first fun Christmas, despite the long discussion the lady who cut my hair had with me a couple of weeks ago in favor of Merry Christmas and against Happy Holidays. Personally, I prefer Merry Christmas.

Merry Christmas, everyone!

Taxi Driver

Another classic movie that we watched thanks to DVDs and Netflix. We liked it and rate it 8/10.

Taxi Driver is a classic. In it, Robert De Niro plays an unstable taxi driver and Jodie Foster plays the role of a young prostitute.

While watching it, I had a feeling I had seen it before but I couldn’t remember anything, so I watched it all.

I would rate the movie 8/10.

حج مبارک

آپ سب کو حج اور عید مبارک ہو۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ سے حج یا عمرہ کرنے کی شرائط میں کیا کیا شامل ہے۔

آج عرفات کے میدان میں حج ہے۔ حج مبارک!

چاہے آپ آج عید منا رہے ہیں یا 21 تاریخ کو آپ سب کو عید مبارک ہو۔

امریکہ سے حج کے متعلق معلومات حاصل کرتے ہوئے یہاں کی ایک مسجد سے کچھ عجیب باتیں پتہ چلیں۔

If you are not carrying a Muslim name, a certificate from the Imam of your mosques indicating that you are a Muslim is required.

یہ مسلمان نام کیا ہوتا ہے؟ اس بارے میں میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں۔ اور اگر ان عقلمندوں کے نزدیک آپ کا نام مسلمان والا نہیں ہے تو پھر آپ کو مسجد سے اپنے مسلمان ہونے کا سرٹیفیکیٹ لانا ہو گا۔ واہ کیا بات ہے!! کیا واقعی لاکھوں غیرمسلم حج اور عمرے پر جانے کے لئے اتنے بےتاب ہیں کہ ان اقدامات کی ضرورت پیش آئی؟ مسجد والے آپ کو کیسے سرٹیفکیٹ دیں گے؟ کیا آپ کا اسلام کے متعلق ٹیسٹ ہو گا؟ یا ضروری ہے کہ آپ سال بھر اس مسجد میں جاتے رہے ہوں؟ اگر ایک شخص کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور حج کرنے جانا چاہتا ہوں تو ہم اس کا یقین کیوں نہیں کر لیتے؟ کیا یہ امریکہ اور مغرب کے مسلمانوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہے کہ پاکستان اور دوسرے مسلمان ممالک میں تو ایسی کوئی شرائط نہیں؟

اس شرط پر تو ہم بھی پورے نہیں اترتے کہ مشیل کے لئے مسلمان ہونے کا سرٹیفکیٹ لینا پڑے گا اور میں مسجد سے ایسا سرٹیفکیٹ تو کبھی نہیں لوں گا۔

Women traveling alone without husband, brother or adolescent son, a NOTARIZED permission letter is required from the husband, brother, or adolescent son, indicating that he has no objection and permits her to travel for (Hajj/Umra) .

خواتین کے اکیلے سفر پر جو قدغن ہے اس کی ہم آج بات نہیں کرتے۔ نہ ہی ہم حقوقِ نسواں کی بات کریں گے۔ مگر اوپر کی شرط پر غور کریں۔ باپ، شوہر یا بھائی کی اجازت کی بات بھی مان لیتے ہیں۔ جوان بیٹے پر کچھ اعتراض ہے مگر اسے بھی جانے دیتے ہیں۔ مگر یہاں تو ٹین‌ایجر بیٹے کی بھی اجازت درکار ہے! خیال رہے کہ یہ وہی ٹین‌ایجر بیٹا ہے جو معاشرے میں کچھ بھی خود سے نہیں کر سکتا اور اسے اپنے والدین کی اجازت کی ضرورت قدم قدم پر ہوتی ہے۔ اس ٹین‌ایجر بیٹے کی اجازت لینا عورت کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ یعنی عورت کی حیثیت ایک ٹین‌ایجر لڑکے سے بھی گئی گزری ہے۔

سقوطِ ڈھاکہ

آج 16 دسمبر ہے۔ آج سے 36 سال پہلے پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈالے اور بنگلہ‌دیش دنیا میں نمودار ہوا۔ چلیں اس تاریخ کو کچھ کھنگالیں کہ شاید ہم کچھ سیکھ سکیں۔

آج 16 دسمبر ہے۔ آج سے 36 سال پہلے پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈالے اور بنگلہ‌دیش دنیا میں نمودار ہوا۔

Gen Niazi signing instruments of surrender

چلیں اس تاریخ کو کچھ کھنگالیں کہ شاید ہم کچھ سیکھ سکیں۔

پانچ سال پہلے جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں نیشنل سیکورٹی آرکائیوز نے 1971 میں مشرقی پاکستان اور بنگلہ‌دیش سے متعلق کچھ امریکی دستاویزات ویب پر شائع کی تھیں۔ ان دستاویزات سے کچھ اقتباسات کے ترجمے پیشِ خدمت ہیں۔

دستاویز 1 مورخہ 28 مارچ جو ڈھاکہ میں امریکی قونصلخانے سے بھیجی گئی:

یہاں ڈھاکہ میں ہم پاکستانی فوج کے دہشت کے راج کے گونگے اور پریشان شاہد ہیں۔ شواہد سامنے آ رہے ہیں کہ پاکستانی حکام کے پاس عوامی لیگ کے حمایتیوں کی فہرستیں ہیں جنہیں وہ باقاعدہ طور پر ان کے گھروں میں ڈھونڈ کر گولی مار رہے ہیں۔ عوامی لیگ کے لیڈروں کے علاوہ سٹوڈنٹ لیڈر اور یونیورسٹی کے اساتذہ بھی ان کے نشانے پر ہیں۔

دستاویز 4 جو 30 مارچ کو ڈھاکہ قونصلخانے سے ڈھاکہ یونیورسٹی میں قتل و غارت کے متعلق ہے۔

ایف‌اے‌او کے ساتھ کام کرنے والے ایک امریکی نے ڈھاکہ یونیورسٹی کے اقبال ہال میں 25 طلباء کی لاشیں دیکھیں۔ اسے رقیہ گرلز ہال کے بارے میں بتایا گیا جہاں فوج نے عمارت کو آگ لگائی اور پھر بھاگتی لڑکیوں کو مشین‌گن سے مار دیا۔ اندازہ ہے کہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں کل 1000 لوگوں کو مار دیا گیا۔

دستاویز 5 31 مارچ کو بھیجی گئی:

آرمی اپریشن کے نتجے میں مرنوں والوں کی تعداد کا اندازہ لگانا ابھی مشکل ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی میں مرنے والے سٹوڈنٹس کی تعداد کا سب سے محتاط اندازہ 500 ہے اور 1000 تک جاتا ہے۔ پولیس کے ذرائع کے مطابق 25 مارچ کی رات کی شدید لڑائی میں 600 سے 800 پاکستانی پولیس والے مارے گئے۔ پرانا شہر جہاں فوج نے ہندو اور بنگالی علاقوں کو آگ لگائی اور پھر مکینوں کو گولیاں ماریں وہاں مرنے والوں کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ عینی شاہد ان مرنے والوں کی تعداد 2000 سے 4000 تک بتاتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اس وقت تک فوجی ایکشن کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد شاید 4000 سے 6000 تک ہے۔ ہمیں علم نہیں کہ کتنے فوجی مر چکے ہیں۔

دستاویز 6 بھی پڑھیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندو خاص طور پر پاکستانی فوج کا نشانہ تھے اور کیسے خواتین ریپ کا شکار ہوئیں۔

کچھ بنگالی بزنسمین جو عوامی لیگ کے حامی نہیں ہیں انہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں رقیہ ہال میں 6 لڑکیوں کی ننگی لاشیں دیکھیں جنہیں زنا بالجبر اور گولی مارنے کے بعد پنکھوں سے لٹکا دیا گیا تھا۔ یونیورسٹی میں دو اجتماعی قبریں بھی ہیں جن میں سے ایک میں 140 لاشیں پائی گئیں۔

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ویب سائٹ پر آپ 1971 سے متعلق بہت سی امریکی دستاویزات پڑھ سکتے ہیں۔

جنگ کے اختتام کے بعد پاکستانی حکومت نے حمود الرحمان کمیشن قائم کیا جس کا مقصد اس ساری صورتحال کے بارے میں تفتیش کرنا تھا۔ اس کمیشن کی رپورٹ سالہا سال تک پاکستانی حکمرانوں نے چھپائے رکھی۔ پھر اگست 2000 میں اس رپورٹ کا ایک حصہ انڈیا ٹوڈے نے چھاپ دیا۔ اس کے بعد پاکستانی حکومت نے رپورٹ کے کچھ حصے حذف کر کے باقی کی رپرٹ شائع کر دی جسے آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ اس وقت اس کا اردو ترجمہ جنگ اخبار میں چھپا جس کا کچھ حصہ آپ اردو محفل پر پڑھ سکتے ہیں۔

حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پڑھتے ہوئے حیرت ہوتی ہے کہ پاکستانی حکمرانوں نے اسے کیوں 28 سال تک چھپائے رکھا۔ ویسے تو رپورٹ اچھی ہے اور کئی فوجی کمانڈرز کو موردِ الزام ٹھہراتی ہے مگر کچھ لطیفے بھی ہیں۔

مثال کے طور پر پاکستانی فوج کے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ حیرانی کا اظہار کرتی ہے کہ پاکستانی فوج 9 ماہ میں 3 ملین لوگوں کو کیسے مار سکتی تھی اور جی‌ایچ‌کیو کی بات ماننے میں عار محسوس نہیں کرتی کہ فوج نے صرف 26 ہزار بنگالی مارے۔ مگر ساتھ ہی یہ دعوٰی بھی کرتی ہے کہ فوجی ایکشن سے پہلے مارچ کے 24 دنوں میں عوامی لیگ نے ایک سے پانچ لاکھ لوگوں کو مار دیا۔ اگر 24 دن میں ایک لاکھ لوگوں کو مارنا ممکن تھا تو پھر فوج جس کے پاس بڑے ہتھیار تھے وہ 8، 9 ماہ میں 3 ملین کیوں نہیں مار سکتی تھی؟ تین ملین کی تعداد کو مبالغہ کہنا اور صحیح نہ ماننا ایک بات ہے اور اسے اس طرح ناممکن قرار دینا بالکل دوسری۔ خیال رہے کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ 3 ملین کی تعداد صحیح ہے۔ جتنا اس سال کے واقعات کے بارے میں میں نے پڑھا ہے کوئی غیرجانبدار تحقیق اس معاملے میں نہیں ہوئی۔ بہرحال شواہد کے مطابق مغربی پاکستانی فوج نے یقیناً 26 ہزار سے زیادہ اور 3 ملین سے کم لوگ مارے۔

اب آتے ہیں بنگلہ‌دیشی بلاگز کی طرف کہ وہ اس دن کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔

کچھ بنگالی بلاگز سے مجھے ڈھاکہ میں جنگِ آزادی میوزیم کے ویب سائٹ کا پتہ چلا۔ اس سائٹ پر فی‌الحال صرف چند بنیادی معلومات ہی ہیں۔

درشتی‌پت بلاگ پر 1971 میں بنگالی دانشوروں کے قتل سے متعلق دو پوسٹس موجود ہیں۔

یا کیسے میں نے پریشان نہ ہونا سیکھا بلاگ کے معشوق الرحمان نے تو بہت سے مضامین 1971 کے واقعات پر لکھے ہیں۔ ان میں سے قابلِ ذکر اس وقت کی اخباری رپورٹس کو سکین کر کے آن‌لائن لانا ہے: بنگلہ‌دیش آبزرور ، ڈان اور بین الاقوامی اخبارات ۔ اس کے علاوہ اس کا ایک مضمون جو ایک بنگالی اخبار میں بھی چھپا ہے وہ شرمیلہ بوس کے اس دعوے کی تردید میں ہے کہ 1971 میں مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج نے لاکھوں خواتین کی عزت نہیں لوٹی تھی۔ بلاگر کین یونیورسٹی نیو جرسی میں بنگلہ‌دیش میں ہونے والی نسل‌کشی پر ایک سیمینار کی رپورٹ بھی پیش کرتا ہے جس میں وہاں کے نسل‌کشی سٹڈیز کے پروگرام میں 1971 کے بنگلہ‌دیش کے واقعات پر ایک کورس آفر کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس سیمینار میں 1971 میں مارے جانے والوں کی فیملی کے افراد بھی اپنے اور اپنی فیملی کے ساتھ ہونے والے واقعات بیان کرتے ہیں جو آپ بلاگ پر پڑھ سکتے ہیں۔ معشوق کے بلاگ پر بنگلہ‌دیش کی جنگِ آزادی کے متعلق بہت زیادہ مواد ہے اور میرا مشورہ ہے کہ آپ اسے ضرور پڑھیں۔

Stardust

Stardust is a fantasy movie with romance, drama and a lot of comedy. While not exactly what we expected, I liked it.

Stardust seemed like a good movie choice one day when Captain Arrrgh and I were in a movie-watching mood. A fantasy based on a novel written by Neil Gaiman seemed perfect.

It was actually a good movie, but different than what we had thought. We were somehow expecting a darker movie but there was a lot more comedic stuff in the plot.

Overall, I liked Stardust and would rate it 7/10.

A Date That Will Live In Infamy

Someone once said that today is the date that will live in infamy. It does, but may be the reasons are different from what he envisaged.

Franklin Delano Roosevelt, the 32nd President of the United States, said that about today. The question is how did he know about three decades in advance that the date was going to be so important. Coincidentally, the small event that led FDR to make that speech also happened a little after 11, Pakistan Standard Time. Of course, there’s the issue of AM and PM there. The minor incident happened at 11pm of what would years later become Pakistan time (8am Hawaii time) while the infamous incident 3 decades later happened at 11:15am Pakistan time, which is about the same time as right now.

That fateful day was an election day in Pakistan, elections which had been postponed due to floods; elections that were the first real and proper elections in the 23 year old Pakistan; elections which led to an army operation, massacres and the creation of Bangladesh, but more on that later in 9 days. Right now, we must focus on today’s date because even those historic elections were not the reason for the date’s infamy.

No, it wasn’t even the Indonesian invasion of East Timor or the birth of Leopold Kronecker or Noam Chomsky or the death of Wolfgang Paul.

It was closer to home and much more important. And today, in honor of that date that will live in infamy, the Kid wants me to have lots of toys to play with.

Gary Farber Needs Help

Gary Farber of Amygdala needs some help. Please go to his blog and donate. Thanks!

Gary Farber, of the weblog Amygdala, has been blogging for almost 6 years and I think I have been reading him for almost as long. His blog, when he’s blogging, is indispensable. However, he hasn’t been well lately and thus hasn’t been blogging much.

Because of his medical problems, he needs our help. If you can, please give him some donations. What are you waiting for, go over to his blog and donate now!

Best of luck, Gary and please get that blog going again soon!

خدا کے لئے

شعیب منصور کی فلم خدا کے لئے میں میری کی زبردستی شادی اور حبسِ بےجا نے مجھے سب سے متاثر کیا۔ لالی‌وڈ کی عام فلموں سے بہت مختلف یہ ایک اچھی فلم ہے اور دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

آخر فلم خدا کے لئے دیکھی۔ اچھی فلم ہے۔

فلم کے متعلق تمام تبصرے موسیقی اور اسلام پر ہی پڑھے اور اس سے زیادہ بیکار بحث نہیں دیکھی۔ مگر فلم کا سب سے پراثر حصہ اس برطانوی پاکستانی لڑکی سے متعلق ہے جس کی زبردستی شادی کر دی جاتی ہے۔

مجھے اس بات پر بھی کافی دکھ ہوا کہ موسیقی کی ممانعت سے متعلق تو لوگوں نے اتنا چور مچایا مگر کسی نے یہ ذکر بھی نہیں کیا کہ فلم کے دوسرے مولوی صاحب زبردستی کی شادی کو بھی درست قرار دیتے ہیں۔

پاکستانی فلموں کی نسبت بہت بہتر فلم ہے اور دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ مگر اس میں کچھ خامیاں بھی ہیں۔ ایک تو ایمان علی کو برطانوی پاکستانی کا رول دیا گیا ہے مگر اس کا لہجہ بالکل بھی برطانوی نہیں۔ دوسرے فلم میں کئی لیکچر نما ڈائیلاگ ہیں۔

فلم میں سب سے متاثرکن حصہ ایک برطانوی پاکستانی کی زبردستی شادی اور پھر قبائلی علاقے میں اپنے “شوہر” کے ہاتھوں قید میں رہنا ہے۔ زبردستی کی شادی واقعی ایک مسئلہ ہے اور کچھ بیرون ملک رہنے والے پاکستانی بھی اس میں ملوث ہیں۔

فلم کا کمزورترین حصہ امریکہ والا ہے۔ شان موسیقی کی اعلٰی تعلیم کے لئے امریکہ آتا ہے اور وہاں آسٹن میری سیئر سے محبت اور شادی کر لیتا ہے۔ مگر ان میں محبت ہونے کا عمل کچھ ایسا پیش نہیں کیا گیا کہ سامعین اسے قابلِ یقین سمجھیں۔

پھر شان کو امریکی پولیس پکڑ لیتی ہے اور اس پر دہشت‌گرد ہونے کا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بناتی ہے۔ یہاں بھی معاملات گوانتامو بے اور ابوغریب سے نقل کئے گئے ہیں جو غلط نہیں۔ مگر اس سے یہ غلط تاثر ملتا ہے کہ امریکہ میں موجود پاکستانی یا مسلمان طلباء کے ساتھ ایسا کچھ سلوگ ستمبر 11 کے بعد ہوا تھا۔ اس وقت سینکڑوں لوگ پکڑے گئے جنہوں نے کسی قسم کی امیگریشن کے قوانین کی خلاف‌ورزی کی تھی اور انہیں مہینوں جیل میں رکھا گیا جہاں انہیں کچھ مارا پیٹا بھی گیا اور بعد میں زیادہ‌تر کو قوانین کی خلاف‌ورزی کی بنیاد پر ملک سے نکال دیا گیا۔ اس بارے میں امریکی حکومت اور دوسرے ادارے تحقیق کر چکے ہیں اور شاید میں بھی اس پر اپنے بلاگ پر لکھ چکا ہوں۔ بہرحال جیسے فلم میں شان پر شدید تشدد کیا گیا ویسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔

فلم کی موسیقی بھی سننے سے تعلق رکھتی ہے۔

میں اس فلم کو 10 میں سے 7 نمبر دیتا ہوں۔