ہفتہ بلاگستان: یوم ٹیکنالوجی

کیا ٹیکنالوجی ایک مفید شے ہے؟ کیا آج کا انسان کل سے بہتر ہے؟ ہمارا مستقبل کیسا ہو گا؟ میرا خیال ہے کہ اگرچہ ہمیں کئ چیلنج درپیش ہیں مگر ٹیکنالوجی ہمیں خوب سے خوب‌تر کی طرف لے جائے گی۔

ہفتہ بلاگستان آج اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ سو آخری قسط حاضر ہے۔

ٹیکنالوجی اور انسان کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ کچھ لوگوں کا تو کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ہی ہے جو ہمیں جانوروں سے ممیز کرتی ہے۔ اگرچہ کچھ جانور بھی محدود طور پر اوزار کا استعمال کرتے ہیں مگر انسان اوزار ایجاد کرنے اور مختلف ٹکنیکس استعمال کرنے میں ایک علیحدہ ہی کلاس میں ہے۔ اس کا آغاز لاکھوں سال پہلے ہومو ایریکٹس کے پتھر کے اوزار بنانے سے ہوتا ہے۔ مختلف ماہرِ عمرانیات و آنتھروپالوجی ٹیکنالوجی کی تاریخ کو مختلف طریقوں سے تقسیم کرتے ہیں۔ ماضی کی اہم ٹیکنالوجی میں پتھر کے اوزار (25 لاکھ سال پہلے)، آگ کا استعمال (شاید 10 سے 15 لاکھ سال پہلے)، کپڑے (ایک لاکھ سال پہلے)، جانوروں کو پالتو بنانا (15 ہزار سال پہلے)، زراعت (10 ہزار سال پہلے)، تانبا، کانسی اور پھر لوہے کا استعمال، پہیہ (6 ہزار سال پہلے)، لکھائ (6 ہزار سال پہلے) وغیرہ ہیں۔ ان مختلف ٹیکنالوجیز کی بدولت انسان شکار اور چیزیں اکٹھی کرنے سے بڑھ کر گنجان آباد زرعی سوسائٹی کا حصہ بنا۔ پھر اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں صنعتی انقلاب نے پہلے یورپ اور پھر دنیا کو بدل دیا۔

آج ہم post-industrial دور سے گزر رہے ہیں جہاں انفارمیشن کے انقلاب نے دنیا کے مختلف خطوں میں رہنے والوں کو قریب‌تر کر دیا ہے۔ کمپیوٹر، ٹیلی‌فون، انٹرنیٹ اور سروس اکنامی ہمارے دور کی اہم ایجادات ہیں۔ نہ صرف یہ کہ ہم باہم رابطے میں پرانے وقتوں سے بہت مختلف حالات میں رہتے ہیں بلکہ آج ترقی‌یافتہ ممالک میں صنعت سے زیادہ اہم انفارمیشن ہے اور بہت سے لوگ manufacturing کی بجائے information سے متعلقہ جاب کر رہے ہیں جن میں معلومات کو اخذ کرنا، انہیں شیئر کرنا، تعلیم، ریسرچ وغیرہ شامل ہیں۔

کل ہمیں کیسی ٹیکنالوجی دکھائے گا؟ اس سوال کا جواب ایک لحاظ سے مشکل ہے کہ ہم اپنے کل کو آج ہی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ جیسے بیسویں صدی کے پہلے حصے کے لوگوں‌کا خیال تھا کہ جیسے ان کے زمانے میں گاڑی اور جہاز کی ایجاد سے سفر بہت آسان ہوا اسی طرح مستقبل میں اسی فیلڈ میں ترقی ہو گی اور انتہائ تیزرفتار اور فضائ کاریں دستیاب ہوں گی۔ ایسا نہ ہو سکا بلکہ تیزرفتار کنکورڈ جہاز کچھ عرصہ پہلے بند ہو گیا۔ مگر آج ہوائ سفر اتنا سستا اور آسان ہو چکا ہے کہ سال میں کروڑوں لوگ دور دور کا سفر کرتے ہیں۔ اسی طرح 1969 میں چاند پر قدم رکھنے کے بعد انسان کا خیال تھا کہ چند ہی دہائیوں میں انسان خلاؤں کا سفر کرے گا مگر آج ہمیں لگتا ہے کہ unmanned space exploration ہی پر اکتفا کرنا پڑے گا۔ روبوٹس اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس اگرچہ کافی کامیاب رہے مگر ساتھ ہی انتہائ مشکل ثابت ہوئے۔ روبوٹس کا استعمال صنعت میں تو عام ہے مگر سائنس فکشن کے انداز میں مصنوعی ذہانت سے بھرپور جنرل پرپز روبوٹس دیکھنے میں نہیں آئے۔

ہم انفارمیشن کے زمانے میں رہتے ہیں تو بہت سی انفارمیشن آج ڈیجٹل شکل میں دستیاب ہے اور اسے کمپیوٹرز سے پراسیس کیا جا سکتا ہے۔ اس سے جہاں معلومات کو دنیا بھر میں پھیلانا آسان ہو گیا ہے اسی طرح انٹلیکچوئل پراپرٹی اور پرائیویسی بھی متاثر ہوئ ہے۔ آج بہت لوگ آسانی سے گانے اور فلمیں کاپی کر کے مفت میں بانٹ سکتے ہیں جس پر میوزک اور فلم انڈسٹری نالاں ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمارے متعلق بہت سی معلومات بھی ڈیجٹل فارمیٹ میں دستیاب ہیں۔ مثال کے طور پر ہم آجکل ای‌ٹکٹ پر جہاز میں سفر کرتے ہیں اور ہماری جہاز، ہوٹل، کار وغیرہ کی بکنگ تمام آن لائن ہی ہوتی ہے۔ کریڈ کارڈ اور بنک اکاؤنٹ کا تمام ریکارڈ بھی آن لائن ہوتا ہے۔ یہ تو پھر پرائیویٹ ڈیٹا ہے مگر ہمارے بلاگ، فورم، ٹویٹر، فیس‌بک وغیرہ بھی ہمارے متعلق بہت سی معلومات رکھتے ہیں۔ اسی طرح فون‌بک بھی آن لائن ہیں اور بہت سے کالج اور یونیورسٹی کی ڈائریکری بھی۔ ہم آن‌لائن سٹور سے خریداری کرتے ہیں تو وہ ڈیٹا بھی ہے اور اگر کسی لوکل سپرسٹور سے تو اس کے ڈسکاؤنٹ کارڈ ہیں جن سے آپ کی خریداری ٹریک کی جا سکتی ہے۔ بہت سے پبلک مقامات پر کیمرے نصب ہیں اور ہمارے سیل فون میں بھی اکثر assisted GPS موجود ہیں جن سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ آپ اس وقت کدھر موجود ہیں۔ چہرے پہچاننے کی ٹیکنالوجی بھی اب کافی حد تک میچور ہو رہی ہے اور وہ وقت شاید دور نہیں جب آپ کہیں بھی جائیں تو خود بخود آپ کو پہچان لیا جائے۔ اس سب ڈیٹا کو کون کب اور کیسے استعمال کر سکتا ہے اس بارے میں ابھی فیصلہ مشکل ہے البتہ یہ لازم ہے کہ کچھ نسلوں بعد انسان کی پرائیویسی کا آئیڈیا آج سے کافی مختلف ہو گا۔

سال کے شروع میں ایج نے سائنسدانوں، مصنفین اور نامور لوگوں سے پوچھا کہ ان کے خیال میں ان کی زندگی میں ایسا کونسا سا سائنسی آئیڈیا سامنے آئے گا جو دنیا کو بدل ڈالے گا۔ ہر کسی نے اپنا خیال پیش کیا۔ اگر مجھ سے پوچھتے تو میرا جواب ہوتا: بائیوٹیکنالوجی۔ اس میں سٹیفن پنکر کا اپنا ذاتی جینوم sequence کرانا اور اس کے نتیجے میں آپ کی جینز کے مطابق آپ کے ڈاکٹر کا آپ کا علاج کرنا بھی شامل ہے اور جینز یعنی وارثت کے ذریعہ پھیلنے والی بیماریوں‌کا تدارک بھی۔ اس کے ساتھ ساتھ جینز کی بدولت ہم شاید یہ بھی معلوم کر سکیں کہ ہمارے اباؤاجداد کہاں سے تھے۔

کیا ہم مستقبل کی ٹیکنالوجی سے مثبت فوائد حاصل کر سکتے ہیں؟ ایک ٹیکنوفائل کی حیثیت سے میں تو یہی کہوں گا کہ بالکل بلکہ سائنس اور ٹیکنالوجی ہی ہمیں کئ مسائل سے نجات دلانے میں ممد و معاون ثابت ہو گی۔ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں انسان اور دنیا جس تباہی اور تبدیلی کا شکار ہو رہی ہے اور ہو گی اس کا تدارک energy conservation کے ساتھ ساتھ نئ ٹیکنالوجی کی ایجاد اور استعمال بھی ہو گا۔

Italy Day 4: Rome and Venice

Travelogue of our trip to Italy. This covers our fourth day in Rome when we took a tour bus around the city and our train trip and first night in Venice.

Don’t worry, English readers, just scroll down past the Urdu since it’s a bilingual article.

چوتھے دن صبح اٹھے تو عنبر کا کہنا تھا کہ ایک ٹوئر بس پر روم کا چکر لگاتے ہیں تاکہ مجھے چلنا نہ پڑے اور میرا ٹخنہ کچھ بہتر ہو جائے۔ دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ دوپہر کو ہمیں ٹرین پر وینس جانا تھا۔ لہذا ہم نے ہوٹل سے ناشتے کے بعد چیک آوٹ کیا اور اپنا سامان انہی کے پاس چھوڑا۔ پاس ہی چرچ کے ساتھ ٹوئر بسیں آتی تھیں وہاں سے ایک ٹوئر بس کی اوپری بغیر چھت کی منزل پر بیٹھے اور روم کا چکر لگایا۔ ان میں سے بہت سی جگہیں ہم دیکھ چکے تھے مگر بس سے چھت سے منظر کچھ مختلف ہوتا ہے اور کچھ نئے علاقے بھی دیکھنے کو ملے جہاں جانے کا ہمیں وقت نہیں ملا تھا۔

اڑھائ تین گھنٹے کے بعد بس نے ہمیں واپس اتار دیا۔ ہم نے پہلے لنچ کرنا مناسب سمجھا اور پھر ہوٹل سے اپنا سامان لیا۔ سامان کے ساتھ ہم روم کے ٹرمینی سٹیشن پیدل روانہ ہوئے۔ وینس کے لے تیزرفتار ٹرین کے ٹکٹ ہم پہلے ہی خرید چکے تھے۔ اب ٹرین کا انتظار تھا۔ وہ کوئ آدھ گھنٹہ لیٹ تھی۔ لگتا ہے اطالوی ٹرین سسٹم کو واقعی وقت پر کام کرنے کے لئے مسولینی کی ضرورت تھی۔ خیر ٹرین آئ اور ہم اپنی سیٹیں تلاش کر کے اس میں بیٹھ گئے۔ ٹرین روم سے نکلی تو ارد گرد کا خوبصورت منظر، کھیت، پہاڑیاں وغیرہ دیکھ کر دل خوش ہوا اور سوچا کہ اگلی بار روم سے باہر بھی نکلنا ہے۔ کچھ دیر بعد ہم ڈائننگ کار میں گئ جہاں سے میں نے کافی اور میشل نے چاکلیٹ بسکٹ لئے۔

کوئ ساڑھے چار گھنٹے میں ہم وینس پہنچ گئے۔ وہاں ٹرین سٹیشن سے نکلے تو سامنے بڑی نہر تھی۔ ہوٹل پہنچنے کے لئے ہمیں کشتی یعنی فیری میں جانا تھا جسے وہاں ویپوریتو کہتے ہیں۔ فیری لوگوں کو لے کر نہر پر روانہ ہوئ۔ کچھ سٹاپ گزرنے کے بعد مجھے شک ہوا کہ ہمارا سٹاپ کدھر گیا۔ کنڈکٹر سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ سٹاپ تو بند ہے اور پیچھے رہ گیا۔ اب ہمیں اگلے سٹاپ پر اتر کر واپس جانا ہو گا اور ایک اور سٹاپ پر اترنا ہو گا۔ یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ ہم نہر کے صحیح طرف اتریں کہ نہر پار کرنے کے لئے ایک دو ہی پل ہیں۔ اس کے علاوہ نہر پار کرنے کے لئے کچھ خاص تراگیٹو سٹاپ پر گنڈولا کشتی بھی استعمال کی جاتی ہے۔

نئے سٹاپ پر اترے تو جی‌پی‌ایس نکالا تاکہ ہوٹل تک پہنچا جا سکے۔ ہوٹل کی گلی کے نزدیک ریستوران کے پاس ایک آدمی ہماری طرف دوڑا آیا۔ معلوم ہوا کہ وہ ہوٹل کا مینجر ہے اور ہماری انتظار میں تھا کہ وہ شام کو ہوٹل بند کر کے گھر چلا جاتا ہے۔ ہوٹل کے شاید 9 کمرے تھے۔ اس نے ہمیں کمرے کی چابی کے ساتھ باہر کی چابی بھی دی کہ گیٹ اکثر رات کو لاک ہوتا ہے۔

ہوٹل کے بالکل قریب ہی ایک ریستوران میں ہم نے کھانا کھایا۔ میں نے پیزا آرڈر کیا جبکہ معلوم نہیں کیوں عنبر کا دل باسمتی چاول اور چکن کڑی پر آ گیا۔

Since my ankle was swollen, Amber suggested that we not walk that day and instead take a tour bus around Rome. Also, we only had half a day in Rome since we were leaving for Venice early afternoon.

We checked out of our hotel after breakfast and asked them to keep our bags while we got on a tour bus near the Basilica of Saint Mary Major. It was a two-story bus with an uncovered upper level, which was great for sightseeing. We had seen a lot of the places the bus took us around but the vantage point of the upper level was good for photography and it did take us to areas we hadn’t found the time to visit. The photographs are at the end of this article on a map.

The tour took almost three hours and then we were back in the neighborhood of our hotel. We decided to have some lunch first and then got our bags from the hotel. It was almost time to walk to the Termini station for the train to Venice. We had already bought the tickets a couple of days ago at Termini after being unsuccessful in buying them online before the trip (The Tren Italia website declined our credit card every time). Our train was about half an hour late. We finally got on and found our seats.

As the train left Rome and passed through the rolling hills of the countryside, we felt we had to visit Italy again and drive in the area.

It took us some four and a half hours to reach Venice. Coming out of the train station, there was the Grand Canal. We then took a vaporetto or waterbus on the Grand Canal to go to our hotel. After a while on the vaporetto, I was confused about why it was taking so long. I asked the conductor about the San Silvestre stop. He told me that San Silvestre was closed for a few days and was behind us now. So we had to get off the vaporetto at the next stop and go back. We got off at the San Toma’ stop since that was on the same side of the Grand Canal and walked to our hotel.

Train for Venice
Venice
On the vaporetto
Cruising the Grand Canal
Building
Around the Grand Canal
 

As we got to Campo San Polo, a man came towards us asking me my name. It turned out he was the hotel manager. He took us to Hotel Acca in a narrow alley. The hotel had 9 rooms. The outside gate and main door were generally locked in the evening, so the manager gave us keys for both.

After checking in and putting our bags in our room, we went for dinner at the restaurant Birraria La Corte which was just outside the hotel alley. It was crowded and it took us a while to get a table. I ordered a pizza while Amber went crazy by eating Basmati rice with chicken curry.

The photos of the Rome bus tour appear below (under the fold) on a map.

Continue reading “Italy Day 4: Rome and Venice”

ہفتہ بلاگستان: یوم کچن

معلوم نہیں یہ ہفتہ بلاگستان کب ختم ہو گا۔ فی الحال تو ہم دنبے کے اسٹو کی ایک اطالوی ترکیب کے ساتھ یومِ باورچی خانہ منا رہے ہیں۔

کھانے بنانے اور اچھے ریستوران جانے کے ہم شوقین ہیں اور کھانے بھی ہر قسم کے۔ مگر اگر فیورٹ کی بات ہو تو اطالوی کھانے سب سے زیادہ بناتا ہوں اور فرنچ میٹھے کی بات ہی کچھ اور ہے۔ اب ہفتہ بلاگستان کی چوتھی قسط کے لئے ایک ترکیب حاضر ہے۔

یہ ترکیب دنبے کے اسٹو کی ہے جو جدید اطالوی پکوان سے لی گئ ہے۔

اجزاء

  • اڑھائ پاونڈ بغیر ہڈی کے دنبے کے کندھے کا گوشت
  • چوتھائ کپ زیتون کا تیل
  • ایک چھوٹا پیاز باریک کٹا ہوا
  • لہسن کے دو ٹکڑے چھوٹے کٹے ہوئے
  • سیلیری کی ٹہنی باریک کٹی ہوئ
  • آدھا کپ مارسلا Marsala یا انگور کا جوس
  • دو بڑے چمچ آٹا
  • تین بڑے چمچ ٹماٹر کی پیسٹ
  • ڈیڑھ کپ چکن یا گوشت کی یخنی
  • نمک
  • معمولی سی cayenne pepper
  • چار گاجریں
  • ایک پاونڈ چھوٹے سفید پیاز
  • دو بڑے چمچ کٹا ہوا پارسلے

ترکیب

دنبے کے گوشت کو دو انچ کے کیوب کی شکل میں کاٹ لیں۔

تیل کو دیگچے میں گرم کریں اور اس میں ایک پیاز، لہسن اور سیلیری ڈال دیں۔ اسے چار پانچ منٹ کر براون کریں۔ پھر دنبے کا گوشت شامل کریں اور تیز آنچ پر پکائیں یہاں تک کہ گوشت کو رنگ آنے لگے۔ پھر آٹا تھوڑا تھوڑا کر کے گوشت پر ڈال دیں اور دیگچے میں چمچ ہلاتے رہیں۔ مارسلا یا جوس بھی شامل کریں اور اس وقت تک تیز آنچ پر پکاتے رہیں جب تک وہ تقریباً ختم نہ ہو جائے۔

ٹماٹر کی پیسٹ کو یخنی میں گھول لیں اور دیگچے میں شامل کر دیں۔ نمک اور مرچ حسبِ ذائقہ ڈال دیں۔ اب دیگچے پر ڈھکنا ڈال دیں مگر تھوڑا سا سائڈ پر۔ کچھ ہلکی آنچ پر ایک سے ڈیڑھ گھنٹے simmer کرنے دیں۔ کچھ دیر بعد دیگچے میں چمچ مار لیا کریں۔

جب گوشت پک رہا ہو اس دوران گاجروں کو آدھ انچ کے گول ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ پھر معمولی سے نمکین پانی میں انہیں ابالیں یہاں تک کہ وہ کچھ نرم ہو جائیں مگر بہت زیادہ نہیں۔

اب ایک الگ دیگچے میں پانی ابالیں۔ جب پانی ابلنے لگے تو اس میں چھوٹے چھوٹے پیاز ڈال دیں۔ کوئ آدھے منٹ بعد انہیں نکال کر انہیں چھیل لیں مگر ثابت ہی رہنے دیں۔ اب دوبارہ پانی ابالیں اور اس میں کچھ نمک ڈالیں۔ پھر اس میں یہ چھلے پیاز بھی ڈال دیں اور انہیں پندرہ سے بیس منٹ تک ابالیں۔ اس کے نتیجے میں پیاز کچھ حد تک نرم ہو جائیں گے۔

جب گوشت پک جائے تو اس میں یہ نرم گاجریں، پیاز اور پارسلے کے کٹے پتے ڈال دیں۔ اب ان سب کو گوشت کے ساتھ کوئ آٹھ دس منٹ پکائیں۔ جب کھانا تیار ہو گا تو دنبے کا گوشت انتہائ نرم ہو گا اور سالن گاڑھا اور گہرا سرخ رنگ کا ہو گا۔

اب اسے اطالوی بریڈ کے ساتھ خوب مزے لے کر کھائیں۔

ہفتہ بلاگستان: اردو بلاگنگ

ہفتہ بلاگستان کے سلسلے میں آج ہم اردو بلاگنگ کے حوالے سے گفتگو کریں گے اور یہ دیکھیں کہ اردو بلاگنگ آج بھی اتنی غیرمقبول کیوں ہے۔

ہفتہ بلاگستان کے سلسلے کی یہ تیسری قسط ہے۔ جیسا کہ خیال تھا شگفتہ یہ آئیڈیا پیش کرنے کے بعد سے گم ہیں اور ان کے اس سال بلاگنگ کے منظر پر واپس آنے کا کوئ چانس نہیں۔ شاید ایک دو صدیوں میں وہ اس ہفتہ بلاگستان کو بھی منا لیں۔

آج میں نقل مارنے کے ارادے سے آیا ہوں اور اردوویب بلاگ پر اپنی ایک تحریر کا زیادہ حصہ (مختلف اضافوں کے ساتھ) یہاں بھی نقل کر رہا ہوں۔

پہلی اہم بات یہ ہے کہ جب آپ کوئی پوسٹ لکھیں تو اخبار یا بلاگ کو حوالہ دیں اور اس خبر یا پوسٹ کو لنک کریں۔ یہ خیال رہے کہ لنک اخبار یا بلاگ کے ہوم پیج کا نہ ہو بلکہ سیدھا اس صفحے کی طرف جاتا ہو جو آپ کے زیرِ بحث ہے۔ اسی طرح اگر آپ کسی ویب سائٹ یا کسی بلاگر کا ذکر کرتے ہیں تو ان کا لنک بھی اپنی پوسٹ میں شامل کریں۔ یاد رہے کہ آپ کی سائڈبار میں موجود لنک بہت کم لوگ فالو کرتے ہیں مگر پوسٹ میں لنک زیادہ‌تر قارئین فالو کرتے ہیں۔

اسی طرح جب آپ کسی بلاگ پوسٹ کا جواب لکھیں تو لنک کے ساتھ ساتھ اس کا ایسا اقتباس بھی اپنی پوسٹ میں شامل کریں تاکہ گفتگو سمجھنے میں آسانی رہے۔ یہی نکتہ اخبارات کی خبروں کے لئے بھی ہے۔ پوری خبر یا پوسٹ کبھی شامل نہ کریں بلکہ صرف اقتباس دیں۔ اس اقتباس کو اپنے بلاگ پر اپنی تحریر سے نمایاں کریں۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ اس اقتباس کے گرد <blockquote> ٹیگ ڈالیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آپ کی تحریر کونسی ہے اور کسی اور کی کونسی۔

ایک اور چیز ہر پوسٹ کے ساتھ اس سے متعلقہ پوسٹس کے روابط ہیں۔ اس کے لئے ٹیگز اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اپنے بلاگ پر آپ کسی قسم کا ہٹ کاونٹر ضرور لگائیں۔ اس کے لئے میں سائٹ‌میٹر تجویز کرتا ہوں۔ اس کی پرائیویسی سیٹنگ ایسی رکھیں کہ تمام قارئین اس کا سمری پیج دیکھ سکیں۔ اس طرح عوام یہ جان سکیں گے کہ آپ کا بلاگ روزانہ کتنے لوگ پڑھتے ہیں مگر تفصیلی ڈیٹا صرف آپ ہی دیکھ سکیں گے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سائٹ‌میٹر میں اپنے وزٹ اگنور کرنے کی بھی آپشن ہے۔ یہ ضرور سیٹ کریں تاکہ جب آپ اپنے بلاگ پر جائیں تو وہ شمار نہ ہو۔

اپنے بلاگ کی مقبولیت بڑھانے کے لئے اس کے علاوہ بھی کئی چیزیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ باقاعدگی سے بلاگ پر لکھیں۔ میں نے نوٹ کیا ہے کہ دو تین بلاگرز کو چھوڑ کر باقی اردو بلاگر مہینے میں دو تین سے زیادہ بار نہیں لکھتے۔ دوسرے بلاگز پر تبصرہ کریں اور ان کی تحریروں پر اپنے بلاگ میں لکھیں۔ جب کسی دوسرے بلاگ پر تبصرہ کریں تو اپنے بلاگ کا لنک یو‌آر‌ایل فیلڈ میں ضرور دیں۔ دوسرے بلاگز کے ساتھ گفتگو بلاگ کی دنیا کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ صرف اردو بلاگز ہی تک محدود نہ رہیں بلکہ انگریزی اور دوسری زبانوں کے بلاگز پر بھی تبصرے کریں خاص طور پر پاکستانی انگریزی بلاگز پر تاکہ گفتگو کا دائرہ بڑھ سکے۔ اگر آپ کسی بلاگ پر باقاعدگی سے تبصرے کرتے ہیں تو ممکن ہے وہاں سے کئی قارئین آپ کے بلاگ پر آئیں اور یہ بھی کہ وہ بلاگر آپ کی کسی پوسٹ کے بارے میں لکھے۔

اپنے بلاگ پر ایک صفحہ اپنے بارے میں ضرور شامل کریں جس میں کم از کم آپ کے بارے میں ایسی معلومات ہوں جس سے قاری کو آپ اور آپ کے بلاگ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ ضروری نہیں کہ یہاں آپ اپنی سوانح حیات اور اصل نام ہی لکھیں مگر اپنے بارے میں لکھیں۔ ساتھ ہی خود سے رابطہ کرنے کا کوئی طریقہ بھی فراہم کریں۔

دو سال پہلے کی طرح آج بھی میرا یہی خیال ہے کہ اردو بلاگنگ ابھی کہیں نہیں جا رہی۔ چھ سالوں میں شاید چند سو بلاگ ہیں۔ اس کے مقابلے میں کل بلاگ ہر چار پانچ ماہ میں دوگنے ہو جاتے ہیں۔ پاکستانی انگریزی بلاگ لے لیں یا فارسی بلاگ یا انڈین بلاگ سب ہی انتہائی تیزی سے بڑھے ہیں۔ ان سب کی exponential growth ہے جبکہ اردو بلاگز کی linear growth ۔ یہ بات پریشان‌کن ہے۔ لیکن اس سے زیادہ پریشان کرنے والی بات یہ ہے کہ اردو بلاگ یا فورمز کے قارئین بہت کم ہیں اور بہت سستی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایک عام اردو بلاگ کو 20 سے 30 قاری روزانہ پڑھتے ہیں اور زیادہ اردو بلاگز کو پڑھنے والے وہی لوگ ہیں یعنی تمام اردو بلاگز کے قاری اکٹھے کئے جائیں تو شاید چند سو سے زیادہ نہ ہوں۔ ایسی صورت میں نئے اردو بلاگز کہاں سے آئیں گے؟ اس اعداد و شمار کا مقابلہ بڑے بڑے بلاگز کی بجائے عام پاکستانی انگریزی بلاگ سے بھی کیا جائے تو شرمندگی ہی ہوتی ہے۔

اگرچہ پچھلے کچھ سالوں میں اردو بلاگز کے موضوعات میں اضافہ ہوا ہے مگر آج بھی زیادہ سیاست، مذہب، ادب اور ذاتی ڈائری ہی پر بلاگنگ عام ہے۔ کدھر ہیں معاشیات، معاشرتی علوم، فنون لطیفہ، سیاحت، فوٹوگرافی، بےبی بلاگ، مخلتف مشاغل پر بلاگ؟ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ان متنوع موضوعات کی کمیونٹیز کہاں ہیں؟

ایک بات خوش‌آئیند ہے کہ حال میں اردو بلاگرز کے درمیان گفتگو میں اضافہ ہوا ہے۔ اب بلاگرز ایک دوسرے کی تحریر کا جواب اپنے بلاگ پر دے رہے ہیں۔

اردو بلاگستان کی جب بھی بات آتی ہے تو لوگ ضابطہ اخلاق کی بات کرتے ہیں۔ تمیز اور انسانیت انتہائ اہم ہیں مگر بلاگنگ کے ضابطہ اخلاق کی بات کچھ عجیب لگتی ہے۔ یہ ضابطہ کوئ کسی پر لاگو نہیں کر سکتا۔ ہاں ہر شخص کو اپنی آن‌لائن اور آف‌لائن زندگی میں اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔ اگر آپ بلاگنگ کا ضابطہ اخلاق ہی چاہتے ہیں تو کوئ اردو بلاگنگ کا شہزادہ ان دو ضابطہ اخلاق کا ترجمہ کر دے۔

نیٹ پر اردو لکھنے اور پڑھنے والوں کی طرف سے نستعلیق فونٹ کی طرف شدید رجحان یہاں تک کہ وہ نسخ میں اردو پڑھنا لکھنا ہی گوارا نہیں کرتے آج تک میری سمجھ میں نہیں آیا۔ لوگ اس وجہ سے آج تک انپیج استعمال کر کے اردو تحریر کا امیج آن‌لائن پوسٹ کرتے ہیں۔ اب تو خیر چند نستعلیق فونٹ بھی میدان میں آ گئے ہیں۔

ہفتہ بلاگستان: یومِ تعلیم

ہم نے سوچا کہ بیٹی نے ابھی کنڈرگارٹن میں داخلہ لیا ہے تو کیوں نہ اسی موضوع پر کچھ لکھا جائے۔

ہفتہ بلاگستان کے سلسلے کی دوسری کڑی تعلیم سے متعلق ہے۔ پہلے میں نے سوچا کہ “تلیم کی کمی” پر کچھ لکھوں مگر اس موضوع پر تو جتنا مواد اردو میں ہو گا کسی اور زبان میں نہیں۔

پچھلی قسط میں اپنے بچپن کا ذکر تھا۔ اس قسط میں سیدھی چھلانگ لگاتے ہیں حال میں کہ ایک ہفتہ پہلے میری بیٹٰی مشیل نے کنڈرگارٹن شروع کیا ہے۔

یہاں ہماری ریاست جارجیا میں کنڈرگارٹن پانچ سال کی عمر میں شروع ہوتا ہے۔ جو بچے یکم ستمبر تک پانچ سال کے ہو چکے ہوتے ہیں وہ کنڈرگارٹن میں جاتے ہیں اور چھ سال کے بچے پہلے گریڈ میں۔ یہاں چار سالہ بچوں کے لئے پبلک پری‌کے بھی ہے مگر وہ عام نہیں ہے۔ البتہ پرائیویٹ پری‌سکول عام ہیں۔ کنڈرگارٹن ہر پرائمری سکول میں ہے مگر اس میں داخلہ لازمی نہیں۔ چھ سے سولہ سال کے بچوں کے لئے کسی پبلک، پرائیویٹ یا ہوم سکول میں پڑھنا لازم ہے۔

ہوم سکول یعنی کسی باقاعدہ طریقے سے گھر پر پڑھانا عام طور سے وہ لوگ کرتے ہیں جو معاشرے سے خوب الگ تھلگ ہوتے ہیں جیسے کچھ مذہبی فرقے۔ پرائیویٹ سکول کافی مختلف سٹینڈرڈ کے ہوتے ہیں اور اکثر کافی مہنگے۔ یہ بڑے شہروں میں کافی عام ہیں۔ زیادہ بچے پبلک سکولوں میں پڑھتے ہیں۔

سکولوں کے تین درجے ہیں۔ ایلیمنٹری سکول کنڈرگارٹن سے شروع ہو کر پانچویں گریڈ تک ہوتا ہے۔ پھر مڈل سکول چھٹے سے آٹھویں گریڈ تک اور ہائ سکول نویں سے بارہویں گریڈ تک۔

ہر ریاست میں پبلک سکول مختلف سکول اضلاع میں تقسیم ہوتے ہیں جن کا بورڈ آف ایجوکیشن سکولوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ جارجیا میں زیادہ سکول اضلاع کاونٹی کی سطح پر ہیں البتہ اٹلانٹا کا اپنا سکولوں کا ضلع ہے۔ سکولوں کو زیادہ‌تر فنڈز ریاست اور کاونٹی کی طرف سے ملتے ہیں جو عام طور سے پراپرٹی ٹیکس سے وصول کئے جاتے ہیں۔

آپ کا بچہ کس سکول میں جائے گا اس کا فیصلہ آپ کی رہائش سے ہوتا ہے۔ ایک سکول کے ضلع میں تمام گھروں کو مختلف سکولوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے تاکہ تمام سکولوں میں بچوں کی تعداد مناسب ہو اور بچے اپنے گھر سے کچھ قریب ہی سکول جا سکیں۔

ہمارے علاقے میں پچھلے کچھ سال میں آبادی میں کافی اضافہ ہوا۔ اس لئے اس سال ایک نیا پرائمری سکول کھلا ہے۔ اس وجہ سے بچوں کو سکولوں میں تقسیم کرنے کے لئے بورڈ آف ایجوکیشن نے پچھلے سال کے آخر میں کئ میٹنگز رکھیں جس میں والدین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس کے نتیجے میں نئے نقشے ترتیب دیئے۔ میں نے بھی ان میٹنگز میں شرکت کی تھی اور والدین کا جوش و خروش دیکھا تھا۔

چونکہ آپ کا بچہ کس سکول میں جائے گا یہ آپ کے گھر کے ایڈریس پر منحصر ہے اس لئے اچھے سکولوں کے آس پاس کے گھروں کی قیمت بھی کچھ مہنگی ہوتی ہے اور بچوں کے والدین اکثر گھر خریدتے ہوئے اس بات کا خیال رکھتے ہیں۔ ہم نے بھی جب گھر خریدنا تھا تو قیمت کے علاوہ اہم‌ترین شرط اچھے سکولوں کی رکھی تھی۔ اسی وجہ سے مشیل کے سکول کا شمار ہماری ریاست کے بہترین پرائمری سکولوں میں ہوتا ہے۔

سکول کے سال کا آغاز اگست میں ہوتا ہے اور اس سال ہمارے ہاں یہ 10 تاریخ کو پہلا دن تھا۔ لہذا ہم نے فروری میں سکول کو فون کیا کہ معلوم کریں کہ ہم کب جا کر سکول دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اپریل کے آخر میں کنڈرگارٹن میں داخل ہونے والے بچوں اور والدین کے لئے سکول دیکھنے کا دن ہے۔ اس دن ہم شام کو مشیل کو لے کر سکول گئے۔ وہاں ہم نے کلاسز کے علاوہ پلے‌گراونڈ، جم، بسیں اور کیفیٹیریا بھی دیکھے۔ مشیل کو سکول بس بہت پسند آئ اور اس نے وہیں فیصلہ کر لیا کہ وہ بس پر سکول جایا کرے گی۔

مئ کے آغاز میں سکول رجسٹریشن شروع ہو گئ اور میں ٹھہرا جلدباز پہلے ہی دن جا کر مشیل کو رجسٹر کرا دیا۔ رجسٹریشن کے لئے سکول والوں کو مشیل کی پیدائش کا سرٹیفیکیٹ اور ہمارے گھر کے ایڈریس کا ثبوت چاہیئے تھا۔ اس کے علاوہ ایک حلف‌نامہ بھی کہ ہم اسی ایڈریس پر رہتے ہیں۔ ایک چیز جس نے کچھ مسئلہ کیا وہ مشیل کا ویکسین سرٹیفیکیٹ تھا۔ سکول والوں کا کہنا تھا کہ یہ اگست یا اس کے بعد تک کی میعاد کا ہونا لازم ہے۔ مشیل چونکہ اگست میں پانچ سال کی ہونے والی تھی اس لئے اس کا ایک دو ٹیکوں کا کورس رہتا تھا جو اگست میں پورا ہونا تھا۔ کچھ نامعلوم وجوہات کی بنا پر ریاستی ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کا ویکسین سرٹیفیکیٹ جولائ میں ایکسپائر ہو رہا تھا۔ ڈاکٹر اور سکول سے بات کرنے پر آخر یہی نتیجہ نکلا کہ اگست میں چیک‌اپ کے بعد انہیں نیا سرٹیفیکیٹ مہیا کر دیں گے۔

ایک ہفتے بعد مشیل کی کنڈرگارٹن کے لئے سکریننگ تھی جس میں بچوں سے اے بی سی، گنتی اور شکلوں وغیرہ کے بارے میں پوچھا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ بچے کو کیا آتا ہے اور اسے کس سیکشن میں ڈالا جائے۔

اس کے بعد ہمیں اگست کا انتظار تھا۔ 5 اگست کو صبح میں اور مشیل اوپن ہاوس کے لئے سکول روانہ ہوئے۔ وہاں کیفے میں تمام کلاسوں کی فہرستیں لگی تھیں۔ ہم نے معلوم کیا کہ مشیل کنڈرگارٹن کے سات سیکشنز میں سے کس میں ہے اور اس کی ٹیچر کا کیا نام ہے۔ وہیں کیفے میں پیرنٹ ٹیچر ایسوسی‌ایشن اور مختلف آفٹر سکول پروگراموں کے سٹال لگے تھے۔ ہسپانوی زبان سے لے کر کراٹے اور فٹبال سب کچھ وہاں موجود تھا۔ ہم وہاں سے فارغ ہو کر مشیل کی کلاس میں گئے اور مشیل کی دونوں ٹیچرز سے ملاقات کی۔ اس کی ٹیچر تیس سال سے پڑھا رہی ہے اور کافی نفیس اور ہنس مکھ خاتون ہے۔ مشیل تو کلاس میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل کود میں مشغول ہو گئ اور میں ٹیچر سے بات چیت اور فارم پر کرنے میں جت گیا۔

اگلے دن شام کو کنڈرگارٹن کے بچوں کے والدین کے لئے بیک ٹو سکول نائٹ تھی۔ اس میں پہلے سکول کی پیرنٹ ٹیچر ایسوسی‌ایشن نے کچھ تعارف کرایا اور پھر پرنسپل نے خطاب کیا۔ کنڈرگارٹن کی تمام ٹیچرز کا بھی تعارف کرایا گیا۔ اس کے بعد تمام والدین اپنے اپنے بچوں کے سیکشن میں چلے گئے جہاں ٹیچر نے بتایا کہ بچوں کا روزانہ کا روٹین کیا ہو گا اور انہیں کیا اور کیسے سکھایا جائے گا۔ وہیں مختلف کاموں کے لئے والدین نے رضاکارانہ کام کرنے کی حامی بھری۔ میں نے بچوں کی تصاویر لینے اور ائیربک کی تصاویر کی ذمہ‌داری لی۔

ہمیں بتایا گیا کہ سکول کے پہلے دن ہم کنڈرگارٹن کے بچوں کو ان کی کلاس تک لے جا سکتے ہیں۔ مگر دوسرے دن سے یا تو ہم کار پول میں انہیں باہر ہی چھوڑ جائیں اور ٹیچر اور باقی سٹاف انہیں کلاسز تک پہنچائے گا یا پھر بچے بس پر آ سکتے ہیں۔ میں نے مشیل سے پوچھا کہ وہ کیا پسند کرے گی۔ اس نے بس میں جانے کا کہا۔ لہذا 10 اگست کو صبح چھ بجے ہم اٹھے۔ ناشتہ کر کے تیار ہوئے اور پھر میں اور عنبر مشیل کو لے کر اپنی سڑک کے آخر تک گئے جہاں پر سکول بس آتی ہے۔ وہاں کئ اور بچے اور ان کے والدین موجود تھے۔ سات بجے کے قریب بس آئ اور مشیل اس میں بیٹح کر خوشی خوشی سکول چلی گئ۔

دوپہر کو سکول سوا دو ختم ہوتا ہے۔ ہم نے مشیل کو آفٹر سکول پروگرام میں داخل کرا رکھا ہے۔ سو میں اسے پہلے دن سکول سے پک کرنے گیا تو میں نے پوچھا کہ اسے سکول میں کیا اچھا لگا۔ مشیل کا جواب تھا کہ سب سے اچھا اسے پلے‌گراونڈ میں see-saw لگا۔

سکول کے تیسرے دن مشیل کی سالگرہ تھی۔ سکول میں اسے سلاگرہ وش کی گئ اور ایک گتے کا تاج بھی بنا کر دیا گیا جس پر وہ بہت خوش تھی۔ میں نے اس دن مشیل کی ٹیچر کو نوٹ بھیجا تھا کہ وہ مشیل کو آفٹرسکول پروگرام کی بجائے بس پر گھر بھیج دے۔ میں سوا دو کے کچھ دیر بعد بس سٹاپ پر پہنچ گیا۔ جب بس آئ تو مشیل نہ اتری۔ دیکھا تو بس کے اندر بھی نہ تھی۔ ڈرائیور سے پوچھا تو اس نے کہا کہ اوہ وہ تو پچھلے سٹاپ پر اتر گئ۔ پچھلا سٹاپ ہمارے ہی سب‌ڈویژن میں ہے۔ میں پیدل سٹاپ کی طرف روانہ ہوا اور بس ڈرائیور بھی دوسرے رستے سے اسی طرف چلا۔ جب میں سٹاپ کے قریب پہنچا تو بس آتی نظر آئی، پاس آ کر رکی اور اس میں سے مشیل اتری۔ غلطی سے مشیل ایک سٹاپ پہلے اتر گئ تھی۔ پہلے تو وہ کچھ بچوں کے ساتھ چلی مگر پھر اسے احساس ہوا کہ میں موجود نہیں اور نہ ہی یہ ہماری سڑک ہے۔ سو وہ رک گئ۔ جب بس دوبارہ آئی تو اس پر بیٹھ کر مجھ تک پہنچ گئ۔ وہ بالکل بھی پریشان نہیں لگ رہی تھی۔ میں نے اسے کہا کہ آئیندہ وہ دھیان رکھے اور ڈرائیور سے پوچھ لے کہ یہ ہماری سڑک کا سٹاپ ہے یا نہیں۔ مشیل کو ہمارا ایڈریس اور فون نمبر تو یاد ہی ہے۔

سکول میں جو فارم پر کئے تھے ان میں ایک میں یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ مشیل کو کونسی زبانیں آتی ہیں اور گھر میں ہم کونسی زبانیں بولتے ہیں۔ ہم نے انگریزی اور اردو دونوں لکھی تھیں کہ ہم دونوں ہی بولتے ہیں۔ اگر انگریزی کے علاوہ آپ کوئ زبان لکھیں تو سکول میں انگریزی بطور دوسری زبان کی تعلیم دینے والی ٹیچر بچے کا ٹیسٹ لیتی ہے۔ جمعہ کو اس ٹیسٹ کی رپورٹ بھی آئ کہ مشیل انگریزی اچھی طرح بولتی اور سمجھتی ہے اس لئے اسے ان اضافی لیسنز کی ضرورت نہیں۔

اتوار کو شام کو مشیل کی ٹیچر کا فون بھی آیا۔ انہوں نے بتایا کہ مشیل بہت سویٹ ہے اور وہ سکول میں کیسی جا رہی ہے اور اس ہفتے کن چیزوں پر ہمیں گھر میں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ ہمارے ایک دوست میاں بیوی ہیں وہ خاتون حال ہی میں اسی پرائمری سکول کی ٹیچر کے طور پر ریٹائر ہوئ ہیں اور مشیل کی ٹٰچر کی اچھی دوست ہیں۔

کچھ لوگوں کی خام خیالی کے برعکس ہمارے ہاں سکول ٹٰچر کو پہلے نام سے نہیں بلاتے بلکہ مسٹر، مس یا مسز کے ساتھ فیملی نام لیتے ہیں جیسے کہ مسٹر سمتھ، مس جانسن یا مسز براون۔

مشیل کی ٹیچر نے کہا تھا کہ پہلے مہینے والدین کلاس میں نہیں آ سکتے تاکہ بچے سکول کے عادی ہو جائیں۔ خیر مشیل تو عادی ہی تھی کہ پری‌سکول جاتی تھی مگر ان کی یہی پالیسی ہے۔ لیبر ڈے کے بعد والدین اپنی رضاکارانہ خدمات کے لئے صبح 9 بجے سکول آ سکتے ہیں اور چاہیں تو اپنے بچے کے ساتھ لنچ بھی کر سکتے ہیں۔ سو میں لیبر ڈے کا انتظار کر رہا ہوں۔

ہفتہ بلاگستان: یوم بچپن

سنا ہے کہ اردو بلاگرز کی دنیا میں ہفتہ بلاگستان منایا جا رہا ہے۔ پہلی قسط بچپن کے بارے میں ہے۔ ہم ٹھہرے اردو لکھنے سے بھاگنے والے سو تصاویر پوسٹ کر کے جان چھڑا رہے ہیں۔

شگفتہ نے بلاگستان کا ہفتہ منانے کا آئیڈیا پیش کیا جو کسی طرح دو ہفتے پر پھیل گیا۔ تمام پروگرام کی تفصیل منظرنامہ پر ہے۔ میرا تو ارادہ تھا کہ اسے چپکے سے نکل جانے دوں کہ عرصہ ہوا آن ڈیمانڈ بلاگنگ نہیں کی اور نہ ہی اردو میں بلاگ پر کھ لکھا ہے مگر پھر بدتمیز نے ایم‌ایس‌این پر کان کھائے اور میں نے یہ پوسٹ لکھ ڈالی۔

میری یادداشت کافی خراب ہے اس لئے بچپن کا واقعہ تو نہیں سنا سکتا البتہ کچھ تصاویر جو حال ہی میں ابو نے سکین کر کے بھیجی ہیں وہ پوسٹ کر رہا ہوں۔

1 day old
Baby Zack
Baby Zack
Baby Zack
Zack and his mom
First step
3rd birthday
Riding
In qameez shalwar
In Nathiagali
Tricycle
At Jahangir Tomb
Zack and cousin
5th birthday
With siblings
Lahore zoo
With elephant
 

تمام تصاویر عمر کی ترتیب سے نہیں ہیں۔ کوشش کروں گا کہ انہیں درست ترتیب میں کر دوں۔