سقوطِ ڈھاکہ

آج 16 دسمبر ہے۔ آج سے 36 سال پہلے پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈالے اور بنگلہ‌دیش دنیا میں نمودار ہوا۔ چلیں اس تاریخ کو کچھ کھنگالیں کہ شاید ہم کچھ سیکھ سکیں۔

آج 16 دسمبر ہے۔ آج سے 36 سال پہلے پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈالے اور بنگلہ‌دیش دنیا میں نمودار ہوا۔

Gen Niazi signing instruments of surrender

چلیں اس تاریخ کو کچھ کھنگالیں کہ شاید ہم کچھ سیکھ سکیں۔

پانچ سال پہلے جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں نیشنل سیکورٹی آرکائیوز نے 1971 میں مشرقی پاکستان اور بنگلہ‌دیش سے متعلق کچھ امریکی دستاویزات ویب پر شائع کی تھیں۔ ان دستاویزات سے کچھ اقتباسات کے ترجمے پیشِ خدمت ہیں۔

دستاویز 1 مورخہ 28 مارچ جو ڈھاکہ میں امریکی قونصلخانے سے بھیجی گئی:

یہاں ڈھاکہ میں ہم پاکستانی فوج کے دہشت کے راج کے گونگے اور پریشان شاہد ہیں۔ شواہد سامنے آ رہے ہیں کہ پاکستانی حکام کے پاس عوامی لیگ کے حمایتیوں کی فہرستیں ہیں جنہیں وہ باقاعدہ طور پر ان کے گھروں میں ڈھونڈ کر گولی مار رہے ہیں۔ عوامی لیگ کے لیڈروں کے علاوہ سٹوڈنٹ لیڈر اور یونیورسٹی کے اساتذہ بھی ان کے نشانے پر ہیں۔

دستاویز 4 جو 30 مارچ کو ڈھاکہ قونصلخانے سے ڈھاکہ یونیورسٹی میں قتل و غارت کے متعلق ہے۔

ایف‌اے‌او کے ساتھ کام کرنے والے ایک امریکی نے ڈھاکہ یونیورسٹی کے اقبال ہال میں 25 طلباء کی لاشیں دیکھیں۔ اسے رقیہ گرلز ہال کے بارے میں بتایا گیا جہاں فوج نے عمارت کو آگ لگائی اور پھر بھاگتی لڑکیوں کو مشین‌گن سے مار دیا۔ اندازہ ہے کہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں کل 1000 لوگوں کو مار دیا گیا۔

دستاویز 5 31 مارچ کو بھیجی گئی:

آرمی اپریشن کے نتجے میں مرنوں والوں کی تعداد کا اندازہ لگانا ابھی مشکل ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی میں مرنے والے سٹوڈنٹس کی تعداد کا سب سے محتاط اندازہ 500 ہے اور 1000 تک جاتا ہے۔ پولیس کے ذرائع کے مطابق 25 مارچ کی رات کی شدید لڑائی میں 600 سے 800 پاکستانی پولیس والے مارے گئے۔ پرانا شہر جہاں فوج نے ہندو اور بنگالی علاقوں کو آگ لگائی اور پھر مکینوں کو گولیاں ماریں وہاں مرنے والوں کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ عینی شاہد ان مرنے والوں کی تعداد 2000 سے 4000 تک بتاتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اس وقت تک فوجی ایکشن کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد شاید 4000 سے 6000 تک ہے۔ ہمیں علم نہیں کہ کتنے فوجی مر چکے ہیں۔

دستاویز 6 بھی پڑھیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندو خاص طور پر پاکستانی فوج کا نشانہ تھے اور کیسے خواتین ریپ کا شکار ہوئیں۔

کچھ بنگالی بزنسمین جو عوامی لیگ کے حامی نہیں ہیں انہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں رقیہ ہال میں 6 لڑکیوں کی ننگی لاشیں دیکھیں جنہیں زنا بالجبر اور گولی مارنے کے بعد پنکھوں سے لٹکا دیا گیا تھا۔ یونیورسٹی میں دو اجتماعی قبریں بھی ہیں جن میں سے ایک میں 140 لاشیں پائی گئیں۔

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ویب سائٹ پر آپ 1971 سے متعلق بہت سی امریکی دستاویزات پڑھ سکتے ہیں۔

جنگ کے اختتام کے بعد پاکستانی حکومت نے حمود الرحمان کمیشن قائم کیا جس کا مقصد اس ساری صورتحال کے بارے میں تفتیش کرنا تھا۔ اس کمیشن کی رپورٹ سالہا سال تک پاکستانی حکمرانوں نے چھپائے رکھی۔ پھر اگست 2000 میں اس رپورٹ کا ایک حصہ انڈیا ٹوڈے نے چھاپ دیا۔ اس کے بعد پاکستانی حکومت نے رپورٹ کے کچھ حصے حذف کر کے باقی کی رپرٹ شائع کر دی جسے آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ اس وقت اس کا اردو ترجمہ جنگ اخبار میں چھپا جس کا کچھ حصہ آپ اردو محفل پر پڑھ سکتے ہیں۔

حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پڑھتے ہوئے حیرت ہوتی ہے کہ پاکستانی حکمرانوں نے اسے کیوں 28 سال تک چھپائے رکھا۔ ویسے تو رپورٹ اچھی ہے اور کئی فوجی کمانڈرز کو موردِ الزام ٹھہراتی ہے مگر کچھ لطیفے بھی ہیں۔

مثال کے طور پر پاکستانی فوج کے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ حیرانی کا اظہار کرتی ہے کہ پاکستانی فوج 9 ماہ میں 3 ملین لوگوں کو کیسے مار سکتی تھی اور جی‌ایچ‌کیو کی بات ماننے میں عار محسوس نہیں کرتی کہ فوج نے صرف 26 ہزار بنگالی مارے۔ مگر ساتھ ہی یہ دعوٰی بھی کرتی ہے کہ فوجی ایکشن سے پہلے مارچ کے 24 دنوں میں عوامی لیگ نے ایک سے پانچ لاکھ لوگوں کو مار دیا۔ اگر 24 دن میں ایک لاکھ لوگوں کو مارنا ممکن تھا تو پھر فوج جس کے پاس بڑے ہتھیار تھے وہ 8، 9 ماہ میں 3 ملین کیوں نہیں مار سکتی تھی؟ تین ملین کی تعداد کو مبالغہ کہنا اور صحیح نہ ماننا ایک بات ہے اور اسے اس طرح ناممکن قرار دینا بالکل دوسری۔ خیال رہے کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ 3 ملین کی تعداد صحیح ہے۔ جتنا اس سال کے واقعات کے بارے میں میں نے پڑھا ہے کوئی غیرجانبدار تحقیق اس معاملے میں نہیں ہوئی۔ بہرحال شواہد کے مطابق مغربی پاکستانی فوج نے یقیناً 26 ہزار سے زیادہ اور 3 ملین سے کم لوگ مارے۔

اب آتے ہیں بنگلہ‌دیشی بلاگز کی طرف کہ وہ اس دن کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔

کچھ بنگالی بلاگز سے مجھے ڈھاکہ میں جنگِ آزادی میوزیم کے ویب سائٹ کا پتہ چلا۔ اس سائٹ پر فی‌الحال صرف چند بنیادی معلومات ہی ہیں۔

درشتی‌پت بلاگ پر 1971 میں بنگالی دانشوروں کے قتل سے متعلق دو پوسٹس موجود ہیں۔

یا کیسے میں نے پریشان نہ ہونا سیکھا بلاگ کے معشوق الرحمان نے تو بہت سے مضامین 1971 کے واقعات پر لکھے ہیں۔ ان میں سے قابلِ ذکر اس وقت کی اخباری رپورٹس کو سکین کر کے آن‌لائن لانا ہے: بنگلہ‌دیش آبزرور ، ڈان اور بین الاقوامی اخبارات ۔ اس کے علاوہ اس کا ایک مضمون جو ایک بنگالی اخبار میں بھی چھپا ہے وہ شرمیلہ بوس کے اس دعوے کی تردید میں ہے کہ 1971 میں مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج نے لاکھوں خواتین کی عزت نہیں لوٹی تھی۔ بلاگر کین یونیورسٹی نیو جرسی میں بنگلہ‌دیش میں ہونے والی نسل‌کشی پر ایک سیمینار کی رپورٹ بھی پیش کرتا ہے جس میں وہاں کے نسل‌کشی سٹڈیز کے پروگرام میں 1971 کے بنگلہ‌دیش کے واقعات پر ایک کورس آفر کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس سیمینار میں 1971 میں مارے جانے والوں کی فیملی کے افراد بھی اپنے اور اپنی فیملی کے ساتھ ہونے والے واقعات بیان کرتے ہیں جو آپ بلاگ پر پڑھ سکتے ہیں۔ معشوق کے بلاگ پر بنگلہ‌دیش کی جنگِ آزادی کے متعلق بہت زیادہ مواد ہے اور میرا مشورہ ہے کہ آپ اسے ضرور پڑھیں۔

Paths of Glory

An antiwar movie by Stanley Kubrick which shows the utter futility of the trench warfare in World War I, this is a great movie worth watching.

Paths of Glory is a movie about World War I by director Stanley Kubrick who is one of my favorite directors.

The movie shows the futility of the trench warfare in the Great War. When a French attack fails, the general decides to execute 100 soldiers as an example. He is then convinced by another general to reduce the number to three. The soldiers are tried in a trial without any evidence and then executed.

According to Wikipedia, the movie is based on a novel by Humphrey Cobb and loosely based on the true story of four French soldiers who were executed for mutiny in World War I but their executions were later ruled unfair. Also, the book and movie title comes from the following:

The boast of heraldry, the pomp of pow’r,
And all that beauty, all that wealth e’er gave,
Awaits alike th’inevitable hour.
The paths of glory lead but to the grave.

Overall, it is a great antiwar movie. I rate it 8/10.

War Crimes and Military Justice

War crimes happen in all wars. And are rarely punished appropriately. There are structural reasons for that which are unlikely to change. This is one more reason why war should be the last resort.

I wrote a long time ago that soldiers are almost never punished severely for war crimes against the enemy. During the past three years, I haven’t seen any evidence to the contrary.

A review of the Iraq War by the Washington Post last year showed that:

The majority of U.S. service members charged in the unlawful deaths of Iraqi civilians have been acquitted, found guilty of relatively minor offenses or given administrative punishments without trials, according to a Washington Post review of concluded military cases. Charges against some of the troops were dropped completely.

Though experts estimate that thousands of Iraqi civilians have died at the hands of U.S. forces, only 39 service members were formally accused in connection with the deaths of 20 Iraqis from 2003 to early this year [2006 — ZA]. Twenty-six of the 39 troops were initially charged with murder, negligent homicide or manslaughter; 12 of them ultimately served prison time for any offense.

Some military officials and analysts say the small numbers reflect the caution and professionalism exercised by U.S. forces on an urban battlefield where it is often difficult to distinguish combatants from civilians. Others argue the statistics illustrate commanders’ reluctance to investigate and hold troops accountable when they take the lives of civilians.

[…] The harshest penalty, meted out to two soldiers in separate murder cases in 2004, was 25 years in prison — one of the convicted shot an Iraqi soldier, and the other shot an Iraqi man in his house. Two others convicted in what was called a mercy killing of an Iraqi each received one year in jail.

Solis, who has studied civilian homicides from the Vietnam War, said there were 27 Marines and 95 Army soldiers convicted of murder and manslaughter in that conflict, which lasted much longer and produced many more casualties than the Iraq war has so far.

According to The Post’s review of publicly reported cases from Iraq, 39 U.S. service members were charged with crimes in connection with the deaths of Iraqi civilians or for allegedly covering them up, from the start of the war in March 2003 through early 2006.

Twenty-four Army personnel were charged in connection with civilian deaths. Twelve were convicted of crimes and received jail sentences that ranged from 45 days to 25 years. Four others were tried at courts-martial, resulting in one acquittal and three convictions with no confinement.

Charges against two others were dropped. Six received administrative punishments, including four who cooperated with government prosecutions of their superiors. In administrative cases, no trial is held and the charges and penalties are not made public.

Going back to the Vietnam War, the Los Angeles Times had this to report:

The files are part of a once-secret archive, assembled by a Pentagon task force in the early 1970s, that shows that confirmed atrocities by U.S. forces in Vietnam were more extensive than was previously known.

The documents detail 320 alleged incidents that were substantiated by Army investigators — not including the most notorious U.S. atrocity, the 1968 My Lai massacre.

Though not a complete accounting of Vietnam war crimes, the archive is the largest such collection to surface to date. About 9,000 pages, it includes investigative files, sworn statements by witnesses and status reports for top military brass.

The records describe recurrent attacks on ordinary Vietnamese — families in their homes, farmers in rice paddies, teenagers out fishing. Hundreds of soldiers, in interviews with investigators and letters to commanders, described a violent minority who murdered, raped and tortured with impunity.

Abuses were not confined to a few rogue units, a Times review of the files found. They were uncovered in every Army division that operated in Vietnam.

[…] Among the substantiated cases in the archive:

  • Seven massacres from 1967 through 1971 in which at least 137 civilians died.
  • Seventy-eight other attacks on noncombatants in which at least 57 were killed, 56 wounded and 15 sexually assaulted.
  • One hundred forty-one instances in which U.S. soldiers tortured civilian detainees or prisoners of war with fists, sticks, bats, water or electric shock.

Investigators determined that evidence against 203 soldiers accused of harming Vietnamese civilians or prisoners was strong enough to warrant formal charges. These “founded” cases were referred to the soldiers’ superiors for action.

Ultimately, 57 of them were court-martialed and just 23 convicted, the records show.

Fourteen received prison sentences ranging from six months to 20 years, but most won significant reductions on appeal. The stiffest sentence went to a military intelligence interrogator convicted of committing indecent acts on a 13-year-old girl in an interrogation hut in 1967.

He served seven months of a 20-year term, the records show.

Many substantiated cases were closed with a letter of reprimand, a fine or, in more than half the cases, no action at all.

You can read the documents and more reports related to war crimes in Vietnam at the LA Times website.

Then there is the case of Sergeant Joseph Darby.

In January 2004, Darby provided a compact disc of photographs and an anonymous note to Special Agent Tyler Pieron of the US Army Criminal Investigation Command, who was stationed at Abu Ghraib Prison, triggering an investigation which led to the implication of several soldiers violating the Geneva Convention. Darby initially wanted to remain anonymous — he and those implicated all served in the 372nd Military Police Company, but became known after Donald Rumsfeld publicly named him during a Senate hearing. Darby had agonized for a month beforehand, but finally decided to blow the whistle on his former friends explaining “It violated everything I personally believed in and all I’d been taught about the rules of war.” He had known Lynndie England, one of the most well-known suspects, since basic training. He testified that he had received the photos from Charles Graner, another soldier in the photographs.

The Joe Darby came home and was reviled in his hometown for ratting out fellow soldiers.

“If I were [Darby], I’d be sneaking in through the back door at midnight,” says Janette Jones, who lives just across the border in Pennsylvania and stopped here at midday with her daughter for a Pepsi and a smoke.

[…]

“They can call him what they want,” says Mike Simico, a veteran visiting relatives in Cresaptown. “I call him a rat.”

And so Joe Darby had to leave his hometown and move.

If you have read this far and are thinking that these war crimes and the lack of punishment is only the United States’ fault, think again. War crimes happen in all wars and are rarely punished or even seen as wrong. Take Israeli occupation of Palestine or the Pakistani army’s actions in Bangladesh/East Pakistan in 1971. Or any other example from history. And you’ll see the same thing being repeated again and again.

The problem is actually structural. First, when we are at war, we consider the enemy to be subhuman. The job is to kill the enemy and to defeat it. The soldiers need to muster up the courage to be able to kill on the battlefield. The psychological defenses they put up to justify all the mayhem around them creates a black and white world with no gray. When a war crime is committed, it is difficult to get it reported. If the enemy nationals are the ones complaining, it is easy to dismiss it as enemy propaganda. At a trial, the jury and judge belong to the same side as the accused soldiers and the victims are in general seen as part of the other. The military justice system in a good country like the US gives a lot of the benefit of doubt to the accused, which is as it should be. However, in a war situation and in the case of crimes against enemy nationals this makes the task of proving guilt very difficult.

And that’s why it is imperative that we do not go to war unless it really is absolutely necessary. As Matthew Yglesias notes:

I don’t think ordinary people can read Sydney Freedberg’s excellent cover story in the new National Journal but the teaser text explains the basic dilemma well:

Sometimes U.S. troops kill Iraqis in self-defense. Sometimes they kill them for other reasons. And sometimes it’s hard to tell the difference.

The crux of the matter is that soldiers in ambiguous situations understandably tend to err on the side of their own personal safety and that of their fellow soldiers. Likewise, officers faced with ambiguous situations tend to err on the side of giving the soldiers under their command the benefit of the doubt. And courts-martial, likewise, err on the side of taking a favorable view of American soldiers.

All of which is fine. Unless you happen to be an Iraqi. Which is precisely why people tend not to enjoy being under foreign military occupation.

Das Boot

This is a very good and realistic portrayal of a German U-boat in World War II. While I loved the movie, the Director’s Cut was a bit long for me. I rate it 8/10.

Das Boot is a movie about a German U-boat during World War II.

As a submarine movie, it is great. Unlike other movies, it is very realistic, showing the claustrophobic quarters and the close contact of crew in a submarine very well.

One issue I had with the movie is that it seemed a bit longer than it should have been. I looked at my watch a few times while watching it. I guess I would have been better off watching the theatrical version (2.5 hours) instead of the Director’s cut (3.5 hours) that I watched.

Oh and I really liked the ending.

I would rate Das Boot 8/10.