اردو بلاگز کی دنیا

پچھلے چند ماہ میں میری نظر سے کئی نئے اردو بلاگ گزرے ہیں۔ میں نے ان کی حالیہ تحریروں کو اردو سیارہ پر یکجا کیا ہے۔ اردو وکی اور ہمارا اردو بلاگ کافی کارآمد رہے ہیں۔

پچھلے چند ماہ میں میری نظر سے کئی نئے اردو بلاگ گزرے ہیں۔ چنانچہ میں نے سوچا کہ ان کی حالیہ تحریروں کو ایک جگہ اکٹھا کیا جائے۔ اس کے لئے میں نے اردو سیارہ بنایا جہاں آپ تمام اردو بلاگز جن کا مجھے علم ہے کی پچھلے سات دن کی تحاریر دیکھ سکتے ہیں۔

اردو بلاگنگ کے بارے میں ہمارے بلاگ پر بھی کئی اچھے خیالات پیش کئے گئے ہیں۔ اردو وکی پر اب اردودانوں کے لئے اردو میں بلاگ شروع کرنے لے لئے کافی مواد ہے۔

اردو بلاگز کی فہرست اس پوسٹ کے آخر میں ہے۔ یہ وہ بلاگ ہیں جن سے میں واقف ہوں۔ اگر آپ ان کے علاوہ کسی اردو بلاگ کو جانتے ہیں تو مجھے بتائیں یا اس بلاگ کا پتہ اردو وکی میں خود ڈال دیں۔

In the last few months, I have found quite a few new Urdu blogs. So I thought it would be a good idea to aggregate their posts together on a single site. Thus was born Urdu Planet, which shows the last 7 days’ (or 60 most recent) posts from all the Urdu blogs that I know of.

Our weblog about Urdu Blogging has also done well, with some great ideas, tools and tutorials either written or in progress. Urdu Wiki is where most of the tutorials about installing Urdu support on your computer as well as blogging in Urdu are stored.

Finally, here is the current list of blogs which are either exclusively in Urdu or write some portion of their posts in Urdu:

I have translated some of the blog titles to Urdu or English. If you think I have erred in my very loose translation or you don’t like the translation of your blog name, please let me know.

If you know of any other Urdu blogs, please let me know or add them to the Urdu Wiki yourself.

Author: Zack

Dad, gadget guy, bookworm, political animal, global nomad, cyclist, hiker, tennis player, photographer

58 thoughts on “اردو بلاگز کی دنیا”

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم
    بحرین
    ” کہیں نہیں لہوکا سراغ”
    نذر حافی
    nazarhaffi@yahoo.com
    قطر اورسعودی عرب سے ۳۲کلومیٹر جبکہ ایران کی بندرگاہ بو شہر سے ۳۱۰ کلومیٹر کے فاصلے پر “بحرین ” کے نام سے ایک ایسی مقدس اسلامی سرزمین واقع ہےجہاں پر ۱نیسویں صدی میں برطانیہ نےایک بحرینی قبیلے “آل خلیفہ “کےساتھ یہ معائدہ کیا تھاکہ اگر” آل خلیفہ ” خطّے میں برطانوی مفادات کا تحفظ کرئے تو اسے بحرین کا حاکم بنا دیا جائے گا۔اس دن سے لے کر آج تک بحرین میں مسلسل” آل خلیفہ” کی بادشاہت قائم ہے اوربحرینی عوام عدل و انصاف کے حصول ،جمہوری اقدار،انسانی حقوق اور آئین و قانون کی خاطر تختہ مشق بنی ہوئی ہے۔
    گزشتہ کئی سالوں سے بحرینی عوام کے مسمارگھر اورجلی ہوئی لاشیں ،انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا کو دکھائی نہیں دیتیں۔بین الاقوامی برادری کی بے حسی اور میڈیا کی مجرمانہ خاموشی کے دوران جب عرب دنیا میں اسلامی و عوامی انقلاب کی لہر اٹھی تو ایک آدھ دن کے لئے میڈیا نے اپنی نظریں بحرین کے حالات پر بھی جمائیں۔جب میڈیا نے بحرین کو فوکس کیا تو ہمیشہ کی طرح اس روز بھی بحرینی عوام امریکہ و برطانیہ کے خلاف سڑکوں پر سراپااحتجاج بنے ہوئے تھے،لوگ آل خلیفہ کے خلاف غم و غصّے کا اظہار کر رہے تھے جبکہ سعودی فوج اپنےپرچم پر “لاالہ الااللہ ” لکھے اور ہاتھوں میں امریکی اسلحہ تھامے نہتے بحرینی مسلمانوں پر یلغار کرنے بڑھتی ہی چلی جارہی تھی۔
    یہ مناظر دیکھتے ہی دنیا بھر کے مسلمانوں نے سعودی عرب کی فوجی جارحیّت،آل خلیفہ کی ڈکٹیٹر شپ اور امریکہ و برطانیہ کی ہلہ شیری کے خلاف صدای احتجاج بلند کی۔اس صدائے احتجاج کا بلند ہونا تھا کہ میڈیا نے دوبارہ اپنی آنکھیں موند لیں اور سعودی فوج نے بحرین میں وحشت و بربریت کی ایک نئی داستان رقم کی۔اس وقت بھی بحرینی عوام سڑکوں پر سعودی فوج کے محاصرے میں ہے،لوگ امریکہ و برطانیہ کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں اور” آل خلیفہ “عوامی مظاہروں کو “آل سعود” کی طاقت سے کچلنے میں مصروف ہے۔
    ہمارے وطن عزیز پاکستان کے سادہ دل لوگ جب یہ سنتے ہیں کہ سعودی فوج نہتّے بحرینی مسلمانوں کا قتل عام کرنے میں مصروف ہے تو وہ حیرت سے چونک جاتے ہیں۔ان چونک جانے والے بھائیوں کی خدمت میں عرض ہے کہ وہ سعودی عرب کی فوج کے بارے میں چونکنے سے پہلے اپنے ملک کی فوج پر چونکنا شروع کریں۔وہ اس لئے کہ بحرین میں امریکی و برطانوی مخالفین کو کچلنے کے لئے اس وقت تک فوجی فاونڈیشن اور بحریہ کے تعاون سے ایک ہزار سے زائد پاکستانیوں کو بھرتی کر کے بحرین روانہ کردیاگیاہے۔یعنی بڑے میاں بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ،سعودی عرب تو سعودی عرب پاکستان بھی اس ظلم میں شریک ہو گیا۔البتہ یہ بھی تعجب کی بات ہے کہ جہاں پر سعودی حکومت اپنے پاوں رکھتی ہے وہاں پاکستانی حکومت اپنا سر رکھ دیتی ہے۔مثلا آپ طالبان اور القائدہ کی تشکیل ،فتح اور شکست کو ہی لے لیں۔
    جب افغانستان میں امریکہ کو طالبان کی ضرورت تھی تو سعودی عرب نے ریّال اور فکر جبکہ پاکستان نے اپنے مدارس اور نوجوان امریکہ کے قدموں میں لاکر رکھ دیئے۔جب امریکہ کا مطلب پورا ہوگیا تو سعودی عرب نے بھی طالبان اور القائدہ سے آنکھیں پھیر لیں اور پاکستان نے بھی انہیں دہشت گرد کہنا شروع کردیا۔
    یہ تو تھی ہماری سعودی محبت کی ایک مثال اب ذرا ایک اور مثال سےسعودی عرب کی نگاہ میں اسلامی برادری کی اوقات کا اندازہ بھی لگائیے:
    قیام پاکستان سے لے کر اب تک پاکستان مسلسل سعودی عرب اور امریکہ کی نوکری بھی کر رہا ہے اور مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں سعودی عرب سے تعاون کا طالب بھی ہے ۔سعودی عرب نے نہ صرف یہ کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کو تنہا چھوڑاہوا ہےبلکہ اس نے نہایت حساس موقعوں پر بھارت کی حوصلہ افزائی کر کے کروڑوں پاکستانیوں کے دینی جذبات کی بے احترامی بھی کی ہے۔یہ ۱۹۵۶ ء کی بات ہے کہ ابھی مسئلہ کشمیر پوری آب و تاب کے ساتھ منظر عام پر تھااورپاکستانی مسلمان کشمیر کی آزادی کے لئے سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے کہ ایسے میں جواھر لال نہرو نے سعودی عرب کا دورہ کیا۔ خود کوتوحید پرست کہنے والی اور توحید کی آڑ میں صحابہ کرام کے مزارات مقدسہ کومنہدم کرنے والی سعودی حکومت نے پاکستانیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے لئے نہرو کا شاندار استقبال کرنے کے ساتھ ساتھ ” مرحبا یا رسول الاسلام “کے نعرے لگائے۔
    اس واقع کے اگلے روز “روزنامہ ڈان ” نے نہرو کو رسول الاسلام کہنے پر سعودی حکومت کی مذمت کرتے ہوئے اس واقع پر اظہار افسوس کیا۔
    اب ذرا سعودی عرب کے پرچم پر لکھے ہوئے کلمہ طیّبہ کا پس منظر بھی جان لیجئے۔یہ تیرھویں ہجری اور اٹھارہویں صدی عیسوی کی بات ہے کہ جب آل سعودعرب خانہ بدوشوں کی صورت میں زندگی کرتے تھے اور نجد کے نزدیک درعیہ کے مقام پر اس خاندان کی ایک چھوٹی سی حکومت تھی۔اس دوران ابن تیمیہ کی تعلیمات سے متاثر ایک شخص محمد ابن عبدالوہاب نے درعیہ کے حاکم محمد ابن سعود سے ملاقات کی اور اسے عربستان میں بکھرے ہوئے مختلف قبائل کو اسلام کے نام پر متحد کرنے کا مشورہ دیا۔محمد ابن سعود نے اس مشورے کو پسند کیا اور دونوں کے درمیان یہ طے پایا کہ اس کے بعد محمد ابن وہاب کے افکار کی ترویج و اشاعت ابن سعود کا اولین فریضہ ہے اور ابن سعود کی حکومت کو اسلامی و دینی حکومت کے طور پر معروف کرانا اور لوگوں کو ابن سعود کے گرد جمع کرنا محمد ابن وہاب کی ذمہ داری ہے۔
    محمد ابن سعود کے بعد اس کی آل نے بھی اس معائدے کی پاسداری کی اور مختلف نشیب و فراز آنے کے باوجود ابن وہاب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنےدیا۔یوں وہابیت اور آل سعود نے یک جان اور دو قالب بن کر ارتقائی مراحل طے کئے۔ابن وہاب کے متشددانہ عقائد اور جارحانہ افکار کے باعث جلد ہی عالم اسلام میں بے چینی کی فضا پیدا ہوئی اور یوں ابن وہاب کا الگ دین منظر عام پر آگیا۔اگرچہ موصوف نے اپنے آپ کو اہل سنّت کی صفوں میں گھسانے کی کوشش کی لیکن اہل سنت کے علماء نے بروقت اس سازش کو درک کرتے ہوئے اسے اپنے سے الگ کردیا۔
    ابن وہاب کے جارحیّت آمیز رویّے کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتاہے کہ موصوف نے اپنی کتاب “کشف الشبہات “میں۲۴ سے زائد مقامات پر دوسرے اسلامی فرقوں کو کافر کہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سعودی حکومت افغانستان و بحرین سمیت پوری دنیا میں مسلمانوں کے خون کو مباح سمجھتی ہے اور اسلامی ممالک کے خلاف اغیار کا ہاتھ بٹاتی ہے۔
    آل سعود کا ایک تاریخی معائدہ محمد ابن عبدالوہاب کے ساتھ ہے جس کی رو سے یہ حکومت اپنے آپ کو اسلامی کہلاتی ہے اور دوسرا معائدہ استعمار کے ساتھ ہے جس کے باعث سعودی حکومت اسلام کا پر چم اٹھا کر امریکہ اور برطانیہ کی خدمت کرتی ہے۔

    دیگر عرب ریاستوں کی طرح سعودی عرب کی استعمارنوازی کی کڑیاں انیسویں صدی سے جاکر ملتی ہیں۔صاحبان علم و شعور کے لئے تحقیق کے دروازے کھلے ہیں وہ بلا تعصب علمی و فنّی طریقوں سے اس بارے میں تحقیق کر سکتے ہیں کہ پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر جب برطانیہ و فرانس کو تیل کی طاقت کا ندازہ ہوا تو انہوں نے ۱۹۱۹ میں مشرق وسطی کو دو حصّوں میں تقسیم کیا۔اس تقسیم کے نتیجے میں عراق،اردن اور سعودی عرب سمیت کچھ ممالک برطانیہ کے جبکہ ایران،ترکی اور شمالی افریقہ، فرانس کے حصّے میں آئے۔
    استعماری طاقتوں نے سعودی عرب میں آل سعود سے،کویت میں آل صباح سے،قطر میں آل ثانی سے،امارات میں آل نہیان سے اور بحرین میں آل خلیفہ سے اس طرح کے معائدے کئے کہ اگر انہیں حکومت دی جائے تو وہ خطے میں استعماری مفادات کا تحفظ کریں گئے۔
    ان معائدوں کے باعث مذکورہ خاندانوں کو مذکورہ ریاستوں میں حکومتیں سونپی گئیں اور مذکورہ حکومتوں نے اپنی بقاء اور استحکام کی خاطر استعمار کی ڈٹ کر حمایت اور مدد کی۔
    تاریخی شواہد سے یہ بات ثابت ہے کہ۱۹۳۰ تک سعودی عرب براہ راست برطانوی مفادات کا محافظ تھا۔۱۹۳۰ میں امریکہ نے
    کو اپنے ایک کارندے ارنسٹ فیشر کے ذریعے خریدا۔ John Fillby ایک برطانوی جاسوس ” جان فیلبی”
    یہ شخص ۱۹۱۷ میں برطانیہ کی وزارت خارجہ میں ملازم ہواتھا اور تقریباً ۳۵ سال تک سعودی عرب میں ابن سعود کا مشیر رہاتھا۔اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ نجد میں قدم رکھنے والا یہ پہلا یورپی باشندہ ہے۔یہ اپنے زمانے کا ایک بہترین لکھاری اور مصنف بھی تھا اور اس کی کئی کتابیں بھی منظر عام پر آئی تھیں۔
    اسے مشرق وسطی کے بارے میں حکومت برطانیہ کی پالیسیوں سے اختلاف تھا جب یہ اختلاف شدید ہوگیا تو ۱۹۳۰ میں اس نے برطانوی سفارت سے استعفی دے دیا۔اس کے استعفی دیتے ہی اس کی تاک میں بیٹھے امریکی کارندے نے اس گلے لگا لیا۔اس نے ابتدائی طور پر تیل نکالنے والی ایک امریکی کمپنی میں مشاور کی حیثیت سے کام شروع کیا اور خاندان سعود سے دیرینہ تعلقات کی بنا پر سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تیل نکالنے کا ایک بڑا منصوبہ منظور کروایا جس سے برطانیہ کی بالادستی کو دھچکا لگا اور خطّے میں امریکی استعمار کی دھاک بیٹھ گئی۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ و سعودی عرب دونوں اپنے تعلقات کے سلسلے میں جان فیلبی کی خدمات کے معترف ہیں۔
    اس وقت سعودی حکومت بحرین میں قتل و غارت کر کے ایک تیر سے دو شکار کر رہی ہے ۔ایک تو یہ کہ متشددانہ افکار کے باعث دوسرے مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہوئے انہیں قتل کررہی ہے اور دوسرے یہ کہ استعماری مفادات کے دفاع کے لئے اپنے
    “آن دی ریکارڈ ” معائدوں کو پورا کر رہی ہے جبکہ پاکستانی حکومت خواہ مخواہ سعودی عرب اور امریکہ کی شہ پر افغانستان کے بے بے گناہ مسلمانوں کی طرح بحرین کے مظلوم مسلمانوں کے خون میں بھی اپنے ہاتھ رنگناچاہتی ہے۔
    بہر حال پاکستانی حکام بحرین میں لوگوں کے قتل عام کے لئے بھرتیاں کرتے ہوئے اتنا ضرور یادرکھیں کہ پاکستانیوں نے امریکہ اور سعودی عرب سے اسلام نہیں لیا لہذا کسی بھی پاکستانی کے دین کو ریّال اور ڈالر کے ذریعے نہیں خریدا جاسکتا۔پاکستانیوں کو تختہ دار پر لٹکا دیا جائے یا ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں وہ نہ ہی تو اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کو کافر کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی وہ اپنی مقدس زبانوں سے نہرو کو ” مرحبا یا رسول الاسلام “کہہ سکتے ہیں۔

      1. Salam.. it is very good effort and very nice article. i was searching for some good articles and some good URDU websites, suddenly i found very unique kind of WEBSITE and that is http://www.urdudigest.pk i found that that is one of the best urdu website i have ever seen. the outlook, articles, stories, font.. everything. you must visit and check out.. i think that is new one but awesome.

  2. Wikipedia ka unwaan to “Free encyclopedia” hai lekin ye sirf aur sirf aik makhsoos soch ki hi numaindagi karta hai aur azad bikul bhi nahin hai. Agar aam shakhs iss main koi tarmeem kare ya koi naya mazmoon likhe to khufia taqaton ke agent foran uss ko zail kar dete hain aur tehreer ko wapas apni purani likhi hoi shakal main bahal kar dete hain, iss baat se qata nazar ke wo kitni mustanad tarmeem thi. Agar tehreer unn ki marzi ki nahin to ghair mustanad qarar dekar foran uss ka qala qama kar dia jata hai. Wikipedia ko dunia ki aankhon main dhool jhonkne ke liye istemal kia jata hai khas tor par musalamano ke, aur ye website dunia ko warghalane ka kaam ilm ki aar lekar ba khoobi kar raha hai. Iss liye meri tamam zishaoor aur haqiqat pasand logon se ye darkhwast hai ke Wikipedia main di gai maloomaat par bharosa na karen aur asal main azad zarae ko apne ilm ka sarchishma banaen, warna gumrahi aap ka muqadar ban jaye gi, kunke taghooti quwaten iss ko azad ka naam dekar baghair kisi zimmedari ke logon ke samne ghalat maloomat pesh kar rahi hain, aur bari asani se iss agende ko takmeel tak pohnchana rahi hain

  3. Salam.. very nice article. i was searching for some good articles and some good URDU websites, suddenly i found very unique kind of WEBSITE and that is http://www.urdudigest.pk i found that that is one of the best urdu website i have ever seen. the outlook, articles, stories, font.. everything. you must visit and check out.. i think that is new one but awesome.

Comments are closed.