Outbreeding Works in a Single Generation

As I have mentioned before, cousin marriages were fairly common among my family. My parents are first cousins. So are my father’s parents. My mother’s parents are second cousins once removed. So instead of 32 great-great-great grandparents, I have only about 18.

Since my wife and I are not related, I wondered how my inbred genome had transmitted to our daughter.

Using David Pike’s ROH utility, I computed the regions of homozygosity for my parents, me, my wife, and my daughter, all tested by 23andme.

I used the default settings for the utility. The total Mb gives the total size in megabases of the long autosomal regions where both alleles are the same. The longest ROH gives the size of the longest such region. Percent Homozygous is the percentage of the genome where the two alleles are the same.

I included the worst chromosome column because of my chromosome 9, which is beyond crazy. This column gives the percent homozygosity of the worst chromosome.

Person Total Mb Longest ROH (Mb) % Homozygous Worst chromosome (%)
Dad 297.45 57.4 72.498% 76.921%
Mom 112.13 22.99 70.662% 79.802%
Me 402.78 71.38 73.588% 93.542%
Wife 37.33 9.64 70.003% 72.411%
Daughter 42.40 8.82 69.936% 71.759%

As you can see, my Dad has higher levels of homozygosity than my Mom as expected and I have the highest levels. My wife is not inbred at all and our daughter has ROH results about the same as my wife. So one generation of marrying someone unrelated, even if from the same/similar ethnicity, has removed all the long runs of homozygosity bred over generations. Good news!


I took Michelle skiing for the first time in late January. Living in the South, the closest somewhat decent option was in West Virginia. So we drove 7 hours to Winterplace.

Despite the warm weather, the conditions were decent enough. We had a lot of fun. Michelle loved it and is a better skier than I am now.

Here are some photographs from my iPhone.

I didn’t take many pictures as I was trying to stay on my skis.

Bicycling on Alpharetta Greenway

Yesterday, the weather was nice. So we loaded up our bikes on the car and headed to the Big Creek Greenway.

Michelle and I rode our bikes for about an hour. Here’s the trail map.

The trail was crowded and it was a lot of fun.

Flashcards for Kindergarten

I am a parent, a nerd and love gadgets. So of course I had to create flashcards on my iPhone for my daughter to learn reading.

My daughter is in Kindergarten right now and she’s learning to read. Her teacher sent us a list of 122 (Dolch) words that she will be learning to read by sight this year.

To help her, I printed flashcards. Then I thought that since she uses my iPhone to play, draw and learn, I should look for a flashcard app at the iTunes store. After trying several apps, I settled on Flashcard Deluxe (developer’s website).

I created a spreadsheet of the word list based on the Flashcard Deluxe format. The front of the flashcard shows the word and the back has the word along with a sound file pronouncing that word. That way, Michelle can use it independently.

For the word pronunciation, I downloaded the sound files from Wiktionary and converted them to MP3 using WinLAME.

You can access the final result here.

To download it to your iPhone/iPod using the Flashcards Deluxe app, start the app. Press the + button on the Decks screen. Then click on Private Deck and then Deck Code. Type the following in the text box:


Save it and then tap on Download Cards.

You can also download all the files together in a zip archive to your computer.

It’s been a success with Michelle who’s doing well ad enjoying the flashcards on the iPhone.

ہفتہ بلاگستان: یومِ تعلیم

ہم نے سوچا کہ بیٹی نے ابھی کنڈرگارٹن میں داخلہ لیا ہے تو کیوں نہ اسی موضوع پر کچھ لکھا جائے۔

ہفتہ بلاگستان کے سلسلے کی دوسری کڑی تعلیم سے متعلق ہے۔ پہلے میں نے سوچا کہ “تلیم کی کمی” پر کچھ لکھوں مگر اس موضوع پر تو جتنا مواد اردو میں ہو گا کسی اور زبان میں نہیں۔

پچھلی قسط میں اپنے بچپن کا ذکر تھا۔ اس قسط میں سیدھی چھلانگ لگاتے ہیں حال میں کہ ایک ہفتہ پہلے میری بیٹٰی مشیل نے کنڈرگارٹن شروع کیا ہے۔

یہاں ہماری ریاست جارجیا میں کنڈرگارٹن پانچ سال کی عمر میں شروع ہوتا ہے۔ جو بچے یکم ستمبر تک پانچ سال کے ہو چکے ہوتے ہیں وہ کنڈرگارٹن میں جاتے ہیں اور چھ سال کے بچے پہلے گریڈ میں۔ یہاں چار سالہ بچوں کے لئے پبلک پری‌کے بھی ہے مگر وہ عام نہیں ہے۔ البتہ پرائیویٹ پری‌سکول عام ہیں۔ کنڈرگارٹن ہر پرائمری سکول میں ہے مگر اس میں داخلہ لازمی نہیں۔ چھ سے سولہ سال کے بچوں کے لئے کسی پبلک، پرائیویٹ یا ہوم سکول میں پڑھنا لازم ہے۔

ہوم سکول یعنی کسی باقاعدہ طریقے سے گھر پر پڑھانا عام طور سے وہ لوگ کرتے ہیں جو معاشرے سے خوب الگ تھلگ ہوتے ہیں جیسے کچھ مذہبی فرقے۔ پرائیویٹ سکول کافی مختلف سٹینڈرڈ کے ہوتے ہیں اور اکثر کافی مہنگے۔ یہ بڑے شہروں میں کافی عام ہیں۔ زیادہ بچے پبلک سکولوں میں پڑھتے ہیں۔

سکولوں کے تین درجے ہیں۔ ایلیمنٹری سکول کنڈرگارٹن سے شروع ہو کر پانچویں گریڈ تک ہوتا ہے۔ پھر مڈل سکول چھٹے سے آٹھویں گریڈ تک اور ہائ سکول نویں سے بارہویں گریڈ تک۔

ہر ریاست میں پبلک سکول مختلف سکول اضلاع میں تقسیم ہوتے ہیں جن کا بورڈ آف ایجوکیشن سکولوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ جارجیا میں زیادہ سکول اضلاع کاونٹی کی سطح پر ہیں البتہ اٹلانٹا کا اپنا سکولوں کا ضلع ہے۔ سکولوں کو زیادہ‌تر فنڈز ریاست اور کاونٹی کی طرف سے ملتے ہیں جو عام طور سے پراپرٹی ٹیکس سے وصول کئے جاتے ہیں۔

آپ کا بچہ کس سکول میں جائے گا اس کا فیصلہ آپ کی رہائش سے ہوتا ہے۔ ایک سکول کے ضلع میں تمام گھروں کو مختلف سکولوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے تاکہ تمام سکولوں میں بچوں کی تعداد مناسب ہو اور بچے اپنے گھر سے کچھ قریب ہی سکول جا سکیں۔

ہمارے علاقے میں پچھلے کچھ سال میں آبادی میں کافی اضافہ ہوا۔ اس لئے اس سال ایک نیا پرائمری سکول کھلا ہے۔ اس وجہ سے بچوں کو سکولوں میں تقسیم کرنے کے لئے بورڈ آف ایجوکیشن نے پچھلے سال کے آخر میں کئ میٹنگز رکھیں جس میں والدین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس کے نتیجے میں نئے نقشے ترتیب دیئے۔ میں نے بھی ان میٹنگز میں شرکت کی تھی اور والدین کا جوش و خروش دیکھا تھا۔

چونکہ آپ کا بچہ کس سکول میں جائے گا یہ آپ کے گھر کے ایڈریس پر منحصر ہے اس لئے اچھے سکولوں کے آس پاس کے گھروں کی قیمت بھی کچھ مہنگی ہوتی ہے اور بچوں کے والدین اکثر گھر خریدتے ہوئے اس بات کا خیال رکھتے ہیں۔ ہم نے بھی جب گھر خریدنا تھا تو قیمت کے علاوہ اہم‌ترین شرط اچھے سکولوں کی رکھی تھی۔ اسی وجہ سے مشیل کے سکول کا شمار ہماری ریاست کے بہترین پرائمری سکولوں میں ہوتا ہے۔

سکول کے سال کا آغاز اگست میں ہوتا ہے اور اس سال ہمارے ہاں یہ 10 تاریخ کو پہلا دن تھا۔ لہذا ہم نے فروری میں سکول کو فون کیا کہ معلوم کریں کہ ہم کب جا کر سکول دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اپریل کے آخر میں کنڈرگارٹن میں داخل ہونے والے بچوں اور والدین کے لئے سکول دیکھنے کا دن ہے۔ اس دن ہم شام کو مشیل کو لے کر سکول گئے۔ وہاں ہم نے کلاسز کے علاوہ پلے‌گراونڈ، جم، بسیں اور کیفیٹیریا بھی دیکھے۔ مشیل کو سکول بس بہت پسند آئ اور اس نے وہیں فیصلہ کر لیا کہ وہ بس پر سکول جایا کرے گی۔

مئ کے آغاز میں سکول رجسٹریشن شروع ہو گئ اور میں ٹھہرا جلدباز پہلے ہی دن جا کر مشیل کو رجسٹر کرا دیا۔ رجسٹریشن کے لئے سکول والوں کو مشیل کی پیدائش کا سرٹیفیکیٹ اور ہمارے گھر کے ایڈریس کا ثبوت چاہیئے تھا۔ اس کے علاوہ ایک حلف‌نامہ بھی کہ ہم اسی ایڈریس پر رہتے ہیں۔ ایک چیز جس نے کچھ مسئلہ کیا وہ مشیل کا ویکسین سرٹیفیکیٹ تھا۔ سکول والوں کا کہنا تھا کہ یہ اگست یا اس کے بعد تک کی میعاد کا ہونا لازم ہے۔ مشیل چونکہ اگست میں پانچ سال کی ہونے والی تھی اس لئے اس کا ایک دو ٹیکوں کا کورس رہتا تھا جو اگست میں پورا ہونا تھا۔ کچھ نامعلوم وجوہات کی بنا پر ریاستی ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کا ویکسین سرٹیفیکیٹ جولائ میں ایکسپائر ہو رہا تھا۔ ڈاکٹر اور سکول سے بات کرنے پر آخر یہی نتیجہ نکلا کہ اگست میں چیک‌اپ کے بعد انہیں نیا سرٹیفیکیٹ مہیا کر دیں گے۔

ایک ہفتے بعد مشیل کی کنڈرگارٹن کے لئے سکریننگ تھی جس میں بچوں سے اے بی سی، گنتی اور شکلوں وغیرہ کے بارے میں پوچھا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ بچے کو کیا آتا ہے اور اسے کس سیکشن میں ڈالا جائے۔

اس کے بعد ہمیں اگست کا انتظار تھا۔ 5 اگست کو صبح میں اور مشیل اوپن ہاوس کے لئے سکول روانہ ہوئے۔ وہاں کیفے میں تمام کلاسوں کی فہرستیں لگی تھیں۔ ہم نے معلوم کیا کہ مشیل کنڈرگارٹن کے سات سیکشنز میں سے کس میں ہے اور اس کی ٹیچر کا کیا نام ہے۔ وہیں کیفے میں پیرنٹ ٹیچر ایسوسی‌ایشن اور مختلف آفٹر سکول پروگراموں کے سٹال لگے تھے۔ ہسپانوی زبان سے لے کر کراٹے اور فٹبال سب کچھ وہاں موجود تھا۔ ہم وہاں سے فارغ ہو کر مشیل کی کلاس میں گئے اور مشیل کی دونوں ٹیچرز سے ملاقات کی۔ اس کی ٹیچر تیس سال سے پڑھا رہی ہے اور کافی نفیس اور ہنس مکھ خاتون ہے۔ مشیل تو کلاس میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل کود میں مشغول ہو گئ اور میں ٹیچر سے بات چیت اور فارم پر کرنے میں جت گیا۔

اگلے دن شام کو کنڈرگارٹن کے بچوں کے والدین کے لئے بیک ٹو سکول نائٹ تھی۔ اس میں پہلے سکول کی پیرنٹ ٹیچر ایسوسی‌ایشن نے کچھ تعارف کرایا اور پھر پرنسپل نے خطاب کیا۔ کنڈرگارٹن کی تمام ٹیچرز کا بھی تعارف کرایا گیا۔ اس کے بعد تمام والدین اپنے اپنے بچوں کے سیکشن میں چلے گئے جہاں ٹیچر نے بتایا کہ بچوں کا روزانہ کا روٹین کیا ہو گا اور انہیں کیا اور کیسے سکھایا جائے گا۔ وہیں مختلف کاموں کے لئے والدین نے رضاکارانہ کام کرنے کی حامی بھری۔ میں نے بچوں کی تصاویر لینے اور ائیربک کی تصاویر کی ذمہ‌داری لی۔

ہمیں بتایا گیا کہ سکول کے پہلے دن ہم کنڈرگارٹن کے بچوں کو ان کی کلاس تک لے جا سکتے ہیں۔ مگر دوسرے دن سے یا تو ہم کار پول میں انہیں باہر ہی چھوڑ جائیں اور ٹیچر اور باقی سٹاف انہیں کلاسز تک پہنچائے گا یا پھر بچے بس پر آ سکتے ہیں۔ میں نے مشیل سے پوچھا کہ وہ کیا پسند کرے گی۔ اس نے بس میں جانے کا کہا۔ لہذا 10 اگست کو صبح چھ بجے ہم اٹھے۔ ناشتہ کر کے تیار ہوئے اور پھر میں اور عنبر مشیل کو لے کر اپنی سڑک کے آخر تک گئے جہاں پر سکول بس آتی ہے۔ وہاں کئ اور بچے اور ان کے والدین موجود تھے۔ سات بجے کے قریب بس آئ اور مشیل اس میں بیٹح کر خوشی خوشی سکول چلی گئ۔

دوپہر کو سکول سوا دو ختم ہوتا ہے۔ ہم نے مشیل کو آفٹر سکول پروگرام میں داخل کرا رکھا ہے۔ سو میں اسے پہلے دن سکول سے پک کرنے گیا تو میں نے پوچھا کہ اسے سکول میں کیا اچھا لگا۔ مشیل کا جواب تھا کہ سب سے اچھا اسے پلے‌گراونڈ میں see-saw لگا۔

سکول کے تیسرے دن مشیل کی سالگرہ تھی۔ سکول میں اسے سلاگرہ وش کی گئ اور ایک گتے کا تاج بھی بنا کر دیا گیا جس پر وہ بہت خوش تھی۔ میں نے اس دن مشیل کی ٹیچر کو نوٹ بھیجا تھا کہ وہ مشیل کو آفٹرسکول پروگرام کی بجائے بس پر گھر بھیج دے۔ میں سوا دو کے کچھ دیر بعد بس سٹاپ پر پہنچ گیا۔ جب بس آئ تو مشیل نہ اتری۔ دیکھا تو بس کے اندر بھی نہ تھی۔ ڈرائیور سے پوچھا تو اس نے کہا کہ اوہ وہ تو پچھلے سٹاپ پر اتر گئ۔ پچھلا سٹاپ ہمارے ہی سب‌ڈویژن میں ہے۔ میں پیدل سٹاپ کی طرف روانہ ہوا اور بس ڈرائیور بھی دوسرے رستے سے اسی طرف چلا۔ جب میں سٹاپ کے قریب پہنچا تو بس آتی نظر آئی، پاس آ کر رکی اور اس میں سے مشیل اتری۔ غلطی سے مشیل ایک سٹاپ پہلے اتر گئ تھی۔ پہلے تو وہ کچھ بچوں کے ساتھ چلی مگر پھر اسے احساس ہوا کہ میں موجود نہیں اور نہ ہی یہ ہماری سڑک ہے۔ سو وہ رک گئ۔ جب بس دوبارہ آئی تو اس پر بیٹھ کر مجھ تک پہنچ گئ۔ وہ بالکل بھی پریشان نہیں لگ رہی تھی۔ میں نے اسے کہا کہ آئیندہ وہ دھیان رکھے اور ڈرائیور سے پوچھ لے کہ یہ ہماری سڑک کا سٹاپ ہے یا نہیں۔ مشیل کو ہمارا ایڈریس اور فون نمبر تو یاد ہی ہے۔

سکول میں جو فارم پر کئے تھے ان میں ایک میں یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ مشیل کو کونسی زبانیں آتی ہیں اور گھر میں ہم کونسی زبانیں بولتے ہیں۔ ہم نے انگریزی اور اردو دونوں لکھی تھیں کہ ہم دونوں ہی بولتے ہیں۔ اگر انگریزی کے علاوہ آپ کوئ زبان لکھیں تو سکول میں انگریزی بطور دوسری زبان کی تعلیم دینے والی ٹیچر بچے کا ٹیسٹ لیتی ہے۔ جمعہ کو اس ٹیسٹ کی رپورٹ بھی آئ کہ مشیل انگریزی اچھی طرح بولتی اور سمجھتی ہے اس لئے اسے ان اضافی لیسنز کی ضرورت نہیں۔

اتوار کو شام کو مشیل کی ٹیچر کا فون بھی آیا۔ انہوں نے بتایا کہ مشیل بہت سویٹ ہے اور وہ سکول میں کیسی جا رہی ہے اور اس ہفتے کن چیزوں پر ہمیں گھر میں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ ہمارے ایک دوست میاں بیوی ہیں وہ خاتون حال ہی میں اسی پرائمری سکول کی ٹیچر کے طور پر ریٹائر ہوئ ہیں اور مشیل کی ٹٰچر کی اچھی دوست ہیں۔

کچھ لوگوں کی خام خیالی کے برعکس ہمارے ہاں سکول ٹٰچر کو پہلے نام سے نہیں بلاتے بلکہ مسٹر، مس یا مسز کے ساتھ فیملی نام لیتے ہیں جیسے کہ مسٹر سمتھ، مس جانسن یا مسز براون۔

مشیل کی ٹیچر نے کہا تھا کہ پہلے مہینے والدین کلاس میں نہیں آ سکتے تاکہ بچے سکول کے عادی ہو جائیں۔ خیر مشیل تو عادی ہی تھی کہ پری‌سکول جاتی تھی مگر ان کی یہی پالیسی ہے۔ لیبر ڈے کے بعد والدین اپنی رضاکارانہ خدمات کے لئے صبح 9 بجے سکول آ سکتے ہیں اور چاہیں تو اپنے بچے کے ساتھ لنچ بھی کر سکتے ہیں۔ سو میں لیبر ڈے کا انتظار کر رہا ہوں۔

Bahamas Cruise

We went to the Bahamas on a Disney cruise in late March. It was a lot of fun, especially for the Kid.

In late March, we went on a Disney cruise to the Bahamas.

We drove to Port Canaveral, FL and boarded the ship from there.

Another ship
In the port
Disney Cruise Ship

As soon as we were on the ship, Michelle saw the pools on the top deck. There was one for kids, another for families and one for adults (almost empty). She spent a lot of time in the children and families pools.

In addition to good food and other activities, there was a show every evening. Here are some photographs of the Disney shows.

Disney show 1
Disney show 2
Disney show 3
Snow white, Mickey and Minnie
Toy Story musical

The evenings and nights were when the ship was on the move.

sports on top deck

Our second day was spent in Nassau, Bahamas. We walked around a bit and took a van tour of the city.

Ship in Nassau
Fort Fincastle
View from fort
ship from fort
Shopping at fort
Atlantis resort
Fountain at Atlantis
Paradise Island
Top of Atlantis hotel
Inside Atlantis resort
Backyard of Atlantis resort
Horse carriage
Entrance to Nassau from ship
Paradise Island
Night view

The next day we stopped in Castaway Cay, a private Disney island in the Bahamas. It was beautiful. It was a bit windy that day with high waves (though not in the beach area) and so all boat excursions were canceled. But it was still a lot of fun to hang out on the beach and have a barbeque for lunch.

Flying Dutchman 1
Flying Dutchman 2
Walking path
Disney Wonder and Flying Dutchman
Play area on the beach
Flying Dutchman 3
Disney Wonder
View of Castaway Cay

As soon as we were back, Michelle started saying that she wants to go on a cruise again.


It’s an animated movie about a rat who wants to be a chef. Absolutely amazing!

Ratatouille is an animated movie about a rat who’s a foodie and teams up with a garbage boy at a French restaurant to cook lovely food.

The rats in the kitchen did not bother me at all and neither should they bother you. After all, this is only a movie!

I didn’t get to watch it in one sitting because I had to watch it multiple times with Michelle. But all three of us loved the movie. I rate it 9/10 and plan to watch it with Michelle several (hundred) more times.

Inheritance and Islam

As parents, we decided that we needed to write a will to decide who we wanted to be guardians for our child and how we wanted our estate distributed. The Islamic laws were not what we wanted.

As parents, we decided that we needed a will. Therefore, some net surfing and searching was warranted in the name of research.

Looking at Georgia law spouse and children share equally if there is no will. In case of no spouse or children, parents are considered 2nd degree relatives, siblings 3rd degree and grandparents 4th degree.

Upon the death of an individual who is survived by a spouse but not by any child or other descendant, the spouse is the sole heir. If the decedent is also survived by any child or other descendant, the spouse shall share equally with the children, with the descendants of any deceased child taking that child’s share, per stirpes; provided, however, that the spouse’s portion shall not be less than a one-third share;

The problem for us here was that with a minor child, too much of the estate might be tied up until she’s older.

Of course, I had to search for what Islamic wills were out there and I found one from a major Atlanta mosque. When I first looked at the document, it just said that the distribution of the estate should be according to Shariah, which didn’t make any sense since who was supposed to figure that out. Now the document goes in some detail. However, I was surprised by this section:

I direct and ordain that any heir, declared as non-Muslim at the time of my death, be disregarded and disqualified in the application of Section B of Article V.

So anyone “declared as non-Muslim” can’t inherit from a Muslim. I decided to check some online Islamic sites. According to Sunnipath, a Muslim can’t inherit from a non-Muslim and a non-Muslim can’t inherit from a Muslim. However, a bequest can be made either way. The Salafi site Islam Q&A also has some information where they restrict even the bequest somewhat.

According to the Twelver Shia website, a Muslim can inherit from a non-Muslim but a non-Muslim cannot inherit from a Muslim.

This whole approach to inheritance is communitarian instead of individualistic. It looks like the community has major rights on the estate since these rulings make it difficult for the estate to leave a particular religious community regardless of how closely related some members of different communities might be.

There is another problem with this approach. Who decides who’s a Muslim or not? Islam Q&A provides a hint:

If you believe that the person who does not pray is a kaafir and apostate – which is the correct view, and Allaah knows best – it is not permissible for a kaafir to inherit anything from a Muslim’s wealth, or for a Muslim to inherit anything from a kaafir’s wealth.

This same principle might be applied by the same group to any sects/groups they consider heretic or non-Muslim. In that direction lies madness in my view.

SunniPath has guidelines on preparing one’s will according to Islamic principles, which contains this odd tidbit:

It is worth remembering here that along with one’s written Will, one should have a separate document stipulating the number of unperformed prayers, missed fasts, unpaid Zakat, unperformed Hajj, any other religious obligations and debts payable to the servants of Allah.

One must strive in accomplishing these obligations in one’s life, and make the necessary amendments to the document whenever an obligation is fulfilled. For example: One had 500 unperformed prayers. In such a case one should stipulate this in the document. Thereafter, whenever, a prayer is made up, it should be deducted from the total of 500. This “important” document should be attached with the Will in order to let the relatives know of one’s obligations and liabilities after one’s death.

While searching on inheritance information, I found this software that can calculate inheritance shares according to Islamic laws. That’s cool.

I would recommend that you read Quran’s verses about inheritance law too.

From what is left by parents and those nearest related there is a share for men and a share for women, whether the property be small or large,-a determinate share. But if at the time of division other relatives, or orphans or poor, are present, feed them out of the (property), and speak to them words of kindness and justice. Let those (disposing of an estate) have the same fear in their minds as they would have for their own if they had left a helpless family behind: Let them fear Allah, and speak words of appropriate (comfort). Those who unjustly eat up the property of orphans, eat up a Fire into their own bodies: They will soon be enduring a Blazing Fire! Allah (thus) directs you as regards your Children’s (Inheritance): to the male, a portion equal to that of two females: if only daughters, two or more, their share is two-thirds of the inheritance; if only one, her share is a half. For parents, a sixth share of the inheritance to each, if the deceased left children; if no children, and the parents are the (only) heirs, the mother has a third; if the deceased Left brothers (or sisters) the mother has a sixth. (The distribution in all cases (’s) after the payment of legacies and debts. Ye know not whether your parents or your children are nearest to you in benefit. These are settled portions ordained by Allah; and Allah is All-knowing, Al-wise. In what your wives leave, your share is a half, if they leave no child; but if they leave a child, ye get a fourth; after payment of legacies and debts. In what ye leave, their share is a fourth, if ye leave no child; but if ye leave a child, they get an eighth; after payment of legacies and debts. If the man or woman whose inheritance is in question, has left neither ascendants nor descendants, but has left a brother or a sister, each one of the two gets a sixth; but if more than two, they share in a third; after payment of legacies and debts; so that no loss is caused (to any one). Thus is it ordained by Allah; and Allah is All-knowing, Most Forbearing.

My thoughts about this system of dividing up the estate is that it requires very specific social conditions, with a communitarian ethos where women are generally taken care of by men they are related to. In an individualistic society, this distribution leaves women in a bad situation. As parents of a girl, we are particularly sensitive to these issues.

Finally, the most important thing in our will (and the real reason we wrote one) is the issue of guardianship of our daughter in case both of us die. As immigrants living far away from parents and siblings, this was a difficult problem. We won’t want to remove her from familiar surroundings of the US but at the same time we couldn’t leave her with someone who’s not closely related. In the end, we decided that only her grandparents, uncles and aunts could be trusted.

How Zack Buys a New PC

I decided to build my own desktop again after my Dell laptop troubles. Finding everything at Fry’s was easy and assembling it was fun.

The title has been shamelessly stolen from Photodude.

Last July, I was having a lot of trouble with my Dell laptop. So I wanted to backup the data in my hard drive. I went to Fry’s to get an enclosure for the laptop hard disk so I could connect it via USB to my old desktop. There I started looking at computer components. But in the end returned with only the USB enclosure.

By the weekend, I had decided I wanted a new desktop since my old one was almost 8 years old (Pentium III 550MHz) and the laptop was still not working. The good thing is that Fry’s has people who can help you with selecting the appropriate parts for your computer. I do still recommend doing your own research in advance, but they are helpful.

The question that Captain Arrrgh asked was why build one’s own computer. I agree that it is not really cheaper to do that and requires some research and technical know-how. But it is fun. And it gives me an opportunity to wander in Fry’s for hours. Plus I get the exact machine I want.

So here’s what I got:

The hard disk and RAM are in my opinion critical in a computer’s operation, more so than the processor speed. I did not get 4GB since a 32-bit operating system (Windows XP Professional in my case) is limited to about 3.5GB of RAM. Two hard disks, with operating system and programs on one and data on the other, work much better and the Raptor is really fast. My Windows XP boots up so fast I can’t believe it. And Photoshop is also much faster than before.

There was one important factor in selecting the components and that was for the power supply. Not only did I need a power supply with more wattage than required for the components, I also had to check what the current requirements for the individual 5V and 12V rails were.

Assembly was a breeze. The components, especially the processor, need to be handled properly, but that’s it. If you are interested, here are the installation instructions for Intel Core 2 Duo processor.

I ran into a problem while installing Windows and chipset drivers that came with the motherboard. I was getting the dreaded blue screen of death. At first, I suspected the hard disk, but some testing showed it to be a memory problem. Or more accurately a reading problem on my side. The timing settings of the RAM were being read automatically from SPD EEPROM but the voltage setting was not. The motherboard BIOS was defaulting to 1.8V while the memory specifications called for 2.0V. So all I had to do was change that setting manually in the BIOS and it worked perfectly.

It took me a few days to reinstall all the software and get all my data from my old desktop and my laptop.

Later, Michelle demanded a computer of her own, so I gave her my old desktop. Since I didn’t want to buy another copy of Windows, I installed Ubuntu Linux on it. Now I am searching for all kind of programs for young kids for Linux. I installed Debian for Juniors package, GCompris and whatever else I could find on the Ubuntu repositories. My plan is to keep her computer disconnected from the net unless we need to connect for some reason. This will keep all kinds of issues away, I hope.