Lanier Under the Lights 5K

Every year for Christmas, Lake Lanier Islands have really nice Christmas lights. We have been there quite a few times and I have posted photos before.

They have a race at the start of the season where you run a 5K through the lights instead of driving. We ran the Lanier Under the Lights 5K on November 9. The race started about 10-15 minutes after sunset.

Here’s my data for the 5K:

I ran it with my 9 year old daughter. My time thus was 37:36.

The lights were a lot of fun to watch while running. I think in the future instead of driving the lights show, we’ll run this race.

Run the River 10K/5K

On April 20, the weather was cool (39F/4C) and we all headed out to take part in the Run the River race nest to the Chattahoochee river in Roswell, GA.

Michelle and Amber ran in the 5K which started at 7:30. Michelle finished the race in 39:29 which was a new record for her, beating her Jingle Jog time by 11 seconds. Amber’s time was 42:32.

Then it was time for the 10K. It was a fairly flat course with just a bit of a hill at the midway mark where we turned around.

Here’s the map and data for my run:

I paced myself much better this time than for the Silver Comet 10K. My mile splits were 9:42, 10:09, 10:27, 10:56 (the hill), 10:40, 10:34 and 9:29 (per mile for the last 0.22 mile). In fact, I should have gone a bit faster since I felt pretty good at the end.

I finished in 1:05:13. I placed 415/537 overall, 230/248 among men and 37/37 among men aged 40-44. Yes, I placed absolute last in my division!

I asked a while ago how to keep track of my race times. I have figured out now that Athlinks is the best way to do so.

MLK Historic Site

Recently, my daughter suggested we visit Martin Luther King Jr Historic Site. Here are a few pictures from our visit.





I took Michelle skiing for the first time in late January. Living in the South, the closest somewhat decent option was in West Virginia. So we drove 7 hours to Winterplace.

Despite the warm weather, the conditions were decent enough. We had a lot of fun. Michelle loved it and is a better skier than I am now.

Here are some photographs from my iPhone.

I didn’t take many pictures as I was trying to stay on my skis.

Bicycling on Alpharetta Greenway

Yesterday, the weather was nice. So we loaded up our bikes on the car and headed to the Big Creek Greenway.

Michelle and I rode our bikes for about an hour. Here’s the trail map.

The trail was crowded and it was a lot of fun.

Soccer Dad

I thought I would never become a soccer dad. And so I never enrolled Michelle in any league sports.

But she liked one thing, then another and they accumulated until now I spend most evenings driving my seven year old around town for:

  • Horse Riding
  • Gymnastics
  • Ice skating
  • Swimming

I am also helping her learn how to ride a bike. And competing against her on who does more nighttime reading.

It’s all fun as a parent and there’s also pride Michelle mastering different activities.

But it does reduce the time I can spend on things like the Harappa Ancestry Project. While the data submissions there have slowed down, I still have a number of ideas I am working on that I need to analyze and then post the results. When I can find the time of course!


I have been neglecting the blog again.

On Sunday night and Monday, we got about 5 inches of snow here in Atlanta. That’s more than I have seen here in my 13 years.

Then the temperature stayed below freezing until today. So it turned to ice. The roads here have been treacherous all week and I have seen cars skidding and turning the wrong way on GA-400.

Also, school has been closed all week and it has been hard trying to keep the 1st grader occupied at home. She has been to school only 3 days out of 26. May be we could have gone to a month long vacation instead of a short one in New York.

Here’s how our backyard looks today.

Flashcards for Kindergarten

I am a parent, a nerd and love gadgets. So of course I had to create flashcards on my iPhone for my daughter to learn reading.

My daughter is in Kindergarten right now and she’s learning to read. Her teacher sent us a list of 122 (Dolch) words that she will be learning to read by sight this year.

To help her, I printed flashcards. Then I thought that since she uses my iPhone to play, draw and learn, I should look for a flashcard app at the iTunes store. After trying several apps, I settled on Flashcard Deluxe (developer’s website).

I created a spreadsheet of the word list based on the Flashcard Deluxe format. The front of the flashcard shows the word and the back has the word along with a sound file pronouncing that word. That way, Michelle can use it independently.

For the word pronunciation, I downloaded the sound files from Wiktionary and converted them to MP3 using WinLAME.

You can access the final result here.

To download it to your iPhone/iPod using the Flashcards Deluxe app, start the app. Press the + button on the Decks screen. Then click on Private Deck and then Deck Code. Type the following in the text box:

Save it and then tap on Download Cards.

You can also download all the files together in a zip archive to your computer.

It’s been a success with Michelle who’s doing well ad enjoying the flashcards on the iPhone.

ہفتہ بلاگستان: یومِ تعلیم

ہم نے سوچا کہ بیٹی نے ابھی کنڈرگارٹن میں داخلہ لیا ہے تو کیوں نہ اسی موضوع پر کچھ لکھا جائے۔

ہفتہ بلاگستان کے سلسلے کی دوسری کڑی تعلیم سے متعلق ہے۔ پہلے میں نے سوچا کہ “تلیم کی کمی” پر کچھ لکھوں مگر اس موضوع پر تو جتنا مواد اردو میں ہو گا کسی اور زبان میں نہیں۔

پچھلی قسط میں اپنے بچپن کا ذکر تھا۔ اس قسط میں سیدھی چھلانگ لگاتے ہیں حال میں کہ ایک ہفتہ پہلے میری بیٹٰی مشیل نے کنڈرگارٹن شروع کیا ہے۔

یہاں ہماری ریاست جارجیا میں کنڈرگارٹن پانچ سال کی عمر میں شروع ہوتا ہے۔ جو بچے یکم ستمبر تک پانچ سال کے ہو چکے ہوتے ہیں وہ کنڈرگارٹن میں جاتے ہیں اور چھ سال کے بچے پہلے گریڈ میں۔ یہاں چار سالہ بچوں کے لئے پبلک پری‌کے بھی ہے مگر وہ عام نہیں ہے۔ البتہ پرائیویٹ پری‌سکول عام ہیں۔ کنڈرگارٹن ہر پرائمری سکول میں ہے مگر اس میں داخلہ لازمی نہیں۔ چھ سے سولہ سال کے بچوں کے لئے کسی پبلک، پرائیویٹ یا ہوم سکول میں پڑھنا لازم ہے۔

ہوم سکول یعنی کسی باقاعدہ طریقے سے گھر پر پڑھانا عام طور سے وہ لوگ کرتے ہیں جو معاشرے سے خوب الگ تھلگ ہوتے ہیں جیسے کچھ مذہبی فرقے۔ پرائیویٹ سکول کافی مختلف سٹینڈرڈ کے ہوتے ہیں اور اکثر کافی مہنگے۔ یہ بڑے شہروں میں کافی عام ہیں۔ زیادہ بچے پبلک سکولوں میں پڑھتے ہیں۔

سکولوں کے تین درجے ہیں۔ ایلیمنٹری سکول کنڈرگارٹن سے شروع ہو کر پانچویں گریڈ تک ہوتا ہے۔ پھر مڈل سکول چھٹے سے آٹھویں گریڈ تک اور ہائ سکول نویں سے بارہویں گریڈ تک۔

ہر ریاست میں پبلک سکول مختلف سکول اضلاع میں تقسیم ہوتے ہیں جن کا بورڈ آف ایجوکیشن سکولوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ جارجیا میں زیادہ سکول اضلاع کاونٹی کی سطح پر ہیں البتہ اٹلانٹا کا اپنا سکولوں کا ضلع ہے۔ سکولوں کو زیادہ‌تر فنڈز ریاست اور کاونٹی کی طرف سے ملتے ہیں جو عام طور سے پراپرٹی ٹیکس سے وصول کئے جاتے ہیں۔

آپ کا بچہ کس سکول میں جائے گا اس کا فیصلہ آپ کی رہائش سے ہوتا ہے۔ ایک سکول کے ضلع میں تمام گھروں کو مختلف سکولوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے تاکہ تمام سکولوں میں بچوں کی تعداد مناسب ہو اور بچے اپنے گھر سے کچھ قریب ہی سکول جا سکیں۔

ہمارے علاقے میں پچھلے کچھ سال میں آبادی میں کافی اضافہ ہوا۔ اس لئے اس سال ایک نیا پرائمری سکول کھلا ہے۔ اس وجہ سے بچوں کو سکولوں میں تقسیم کرنے کے لئے بورڈ آف ایجوکیشن نے پچھلے سال کے آخر میں کئ میٹنگز رکھیں جس میں والدین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس کے نتیجے میں نئے نقشے ترتیب دیئے۔ میں نے بھی ان میٹنگز میں شرکت کی تھی اور والدین کا جوش و خروش دیکھا تھا۔

چونکہ آپ کا بچہ کس سکول میں جائے گا یہ آپ کے گھر کے ایڈریس پر منحصر ہے اس لئے اچھے سکولوں کے آس پاس کے گھروں کی قیمت بھی کچھ مہنگی ہوتی ہے اور بچوں کے والدین اکثر گھر خریدتے ہوئے اس بات کا خیال رکھتے ہیں۔ ہم نے بھی جب گھر خریدنا تھا تو قیمت کے علاوہ اہم‌ترین شرط اچھے سکولوں کی رکھی تھی۔ اسی وجہ سے مشیل کے سکول کا شمار ہماری ریاست کے بہترین پرائمری سکولوں میں ہوتا ہے۔

سکول کے سال کا آغاز اگست میں ہوتا ہے اور اس سال ہمارے ہاں یہ 10 تاریخ کو پہلا دن تھا۔ لہذا ہم نے فروری میں سکول کو فون کیا کہ معلوم کریں کہ ہم کب جا کر سکول دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اپریل کے آخر میں کنڈرگارٹن میں داخل ہونے والے بچوں اور والدین کے لئے سکول دیکھنے کا دن ہے۔ اس دن ہم شام کو مشیل کو لے کر سکول گئے۔ وہاں ہم نے کلاسز کے علاوہ پلے‌گراونڈ، جم، بسیں اور کیفیٹیریا بھی دیکھے۔ مشیل کو سکول بس بہت پسند آئ اور اس نے وہیں فیصلہ کر لیا کہ وہ بس پر سکول جایا کرے گی۔

مئ کے آغاز میں سکول رجسٹریشن شروع ہو گئ اور میں ٹھہرا جلدباز پہلے ہی دن جا کر مشیل کو رجسٹر کرا دیا۔ رجسٹریشن کے لئے سکول والوں کو مشیل کی پیدائش کا سرٹیفیکیٹ اور ہمارے گھر کے ایڈریس کا ثبوت چاہیئے تھا۔ اس کے علاوہ ایک حلف‌نامہ بھی کہ ہم اسی ایڈریس پر رہتے ہیں۔ ایک چیز جس نے کچھ مسئلہ کیا وہ مشیل کا ویکسین سرٹیفیکیٹ تھا۔ سکول والوں کا کہنا تھا کہ یہ اگست یا اس کے بعد تک کی میعاد کا ہونا لازم ہے۔ مشیل چونکہ اگست میں پانچ سال کی ہونے والی تھی اس لئے اس کا ایک دو ٹیکوں کا کورس رہتا تھا جو اگست میں پورا ہونا تھا۔ کچھ نامعلوم وجوہات کی بنا پر ریاستی ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کا ویکسین سرٹیفیکیٹ جولائ میں ایکسپائر ہو رہا تھا۔ ڈاکٹر اور سکول سے بات کرنے پر آخر یہی نتیجہ نکلا کہ اگست میں چیک‌اپ کے بعد انہیں نیا سرٹیفیکیٹ مہیا کر دیں گے۔

ایک ہفتے بعد مشیل کی کنڈرگارٹن کے لئے سکریننگ تھی جس میں بچوں سے اے بی سی، گنتی اور شکلوں وغیرہ کے بارے میں پوچھا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ بچے کو کیا آتا ہے اور اسے کس سیکشن میں ڈالا جائے۔

اس کے بعد ہمیں اگست کا انتظار تھا۔ 5 اگست کو صبح میں اور مشیل اوپن ہاوس کے لئے سکول روانہ ہوئے۔ وہاں کیفے میں تمام کلاسوں کی فہرستیں لگی تھیں۔ ہم نے معلوم کیا کہ مشیل کنڈرگارٹن کے سات سیکشنز میں سے کس میں ہے اور اس کی ٹیچر کا کیا نام ہے۔ وہیں کیفے میں پیرنٹ ٹیچر ایسوسی‌ایشن اور مختلف آفٹر سکول پروگراموں کے سٹال لگے تھے۔ ہسپانوی زبان سے لے کر کراٹے اور فٹبال سب کچھ وہاں موجود تھا۔ ہم وہاں سے فارغ ہو کر مشیل کی کلاس میں گئے اور مشیل کی دونوں ٹیچرز سے ملاقات کی۔ اس کی ٹیچر تیس سال سے پڑھا رہی ہے اور کافی نفیس اور ہنس مکھ خاتون ہے۔ مشیل تو کلاس میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل کود میں مشغول ہو گئ اور میں ٹیچر سے بات چیت اور فارم پر کرنے میں جت گیا۔

اگلے دن شام کو کنڈرگارٹن کے بچوں کے والدین کے لئے بیک ٹو سکول نائٹ تھی۔ اس میں پہلے سکول کی پیرنٹ ٹیچر ایسوسی‌ایشن نے کچھ تعارف کرایا اور پھر پرنسپل نے خطاب کیا۔ کنڈرگارٹن کی تمام ٹیچرز کا بھی تعارف کرایا گیا۔ اس کے بعد تمام والدین اپنے اپنے بچوں کے سیکشن میں چلے گئے جہاں ٹیچر نے بتایا کہ بچوں کا روزانہ کا روٹین کیا ہو گا اور انہیں کیا اور کیسے سکھایا جائے گا۔ وہیں مختلف کاموں کے لئے والدین نے رضاکارانہ کام کرنے کی حامی بھری۔ میں نے بچوں کی تصاویر لینے اور ائیربک کی تصاویر کی ذمہ‌داری لی۔

ہمیں بتایا گیا کہ سکول کے پہلے دن ہم کنڈرگارٹن کے بچوں کو ان کی کلاس تک لے جا سکتے ہیں۔ مگر دوسرے دن سے یا تو ہم کار پول میں انہیں باہر ہی چھوڑ جائیں اور ٹیچر اور باقی سٹاف انہیں کلاسز تک پہنچائے گا یا پھر بچے بس پر آ سکتے ہیں۔ میں نے مشیل سے پوچھا کہ وہ کیا پسند کرے گی۔ اس نے بس میں جانے کا کہا۔ لہذا 10 اگست کو صبح چھ بجے ہم اٹھے۔ ناشتہ کر کے تیار ہوئے اور پھر میں اور عنبر مشیل کو لے کر اپنی سڑک کے آخر تک گئے جہاں پر سکول بس آتی ہے۔ وہاں کئ اور بچے اور ان کے والدین موجود تھے۔ سات بجے کے قریب بس آئ اور مشیل اس میں بیٹح کر خوشی خوشی سکول چلی گئ۔

دوپہر کو سکول سوا دو ختم ہوتا ہے۔ ہم نے مشیل کو آفٹر سکول پروگرام میں داخل کرا رکھا ہے۔ سو میں اسے پہلے دن سکول سے پک کرنے گیا تو میں نے پوچھا کہ اسے سکول میں کیا اچھا لگا۔ مشیل کا جواب تھا کہ سب سے اچھا اسے پلے‌گراونڈ میں see-saw لگا۔

سکول کے تیسرے دن مشیل کی سالگرہ تھی۔ سکول میں اسے سلاگرہ وش کی گئ اور ایک گتے کا تاج بھی بنا کر دیا گیا جس پر وہ بہت خوش تھی۔ میں نے اس دن مشیل کی ٹیچر کو نوٹ بھیجا تھا کہ وہ مشیل کو آفٹرسکول پروگرام کی بجائے بس پر گھر بھیج دے۔ میں سوا دو کے کچھ دیر بعد بس سٹاپ پر پہنچ گیا۔ جب بس آئ تو مشیل نہ اتری۔ دیکھا تو بس کے اندر بھی نہ تھی۔ ڈرائیور سے پوچھا تو اس نے کہا کہ اوہ وہ تو پچھلے سٹاپ پر اتر گئ۔ پچھلا سٹاپ ہمارے ہی سب‌ڈویژن میں ہے۔ میں پیدل سٹاپ کی طرف روانہ ہوا اور بس ڈرائیور بھی دوسرے رستے سے اسی طرف چلا۔ جب میں سٹاپ کے قریب پہنچا تو بس آتی نظر آئی، پاس آ کر رکی اور اس میں سے مشیل اتری۔ غلطی سے مشیل ایک سٹاپ پہلے اتر گئ تھی۔ پہلے تو وہ کچھ بچوں کے ساتھ چلی مگر پھر اسے احساس ہوا کہ میں موجود نہیں اور نہ ہی یہ ہماری سڑک ہے۔ سو وہ رک گئ۔ جب بس دوبارہ آئی تو اس پر بیٹھ کر مجھ تک پہنچ گئ۔ وہ بالکل بھی پریشان نہیں لگ رہی تھی۔ میں نے اسے کہا کہ آئیندہ وہ دھیان رکھے اور ڈرائیور سے پوچھ لے کہ یہ ہماری سڑک کا سٹاپ ہے یا نہیں۔ مشیل کو ہمارا ایڈریس اور فون نمبر تو یاد ہی ہے۔

سکول میں جو فارم پر کئے تھے ان میں ایک میں یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ مشیل کو کونسی زبانیں آتی ہیں اور گھر میں ہم کونسی زبانیں بولتے ہیں۔ ہم نے انگریزی اور اردو دونوں لکھی تھیں کہ ہم دونوں ہی بولتے ہیں۔ اگر انگریزی کے علاوہ آپ کوئ زبان لکھیں تو سکول میں انگریزی بطور دوسری زبان کی تعلیم دینے والی ٹیچر بچے کا ٹیسٹ لیتی ہے۔ جمعہ کو اس ٹیسٹ کی رپورٹ بھی آئ کہ مشیل انگریزی اچھی طرح بولتی اور سمجھتی ہے اس لئے اسے ان اضافی لیسنز کی ضرورت نہیں۔

اتوار کو شام کو مشیل کی ٹیچر کا فون بھی آیا۔ انہوں نے بتایا کہ مشیل بہت سویٹ ہے اور وہ سکول میں کیسی جا رہی ہے اور اس ہفتے کن چیزوں پر ہمیں گھر میں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ ہمارے ایک دوست میاں بیوی ہیں وہ خاتون حال ہی میں اسی پرائمری سکول کی ٹیچر کے طور پر ریٹائر ہوئ ہیں اور مشیل کی ٹٰچر کی اچھی دوست ہیں۔

کچھ لوگوں کی خام خیالی کے برعکس ہمارے ہاں سکول ٹٰچر کو پہلے نام سے نہیں بلاتے بلکہ مسٹر، مس یا مسز کے ساتھ فیملی نام لیتے ہیں جیسے کہ مسٹر سمتھ، مس جانسن یا مسز براون۔

مشیل کی ٹیچر نے کہا تھا کہ پہلے مہینے والدین کلاس میں نہیں آ سکتے تاکہ بچے سکول کے عادی ہو جائیں۔ خیر مشیل تو عادی ہی تھی کہ پری‌سکول جاتی تھی مگر ان کی یہی پالیسی ہے۔ لیبر ڈے کے بعد والدین اپنی رضاکارانہ خدمات کے لئے صبح 9 بجے سکول آ سکتے ہیں اور چاہیں تو اپنے بچے کے ساتھ لنچ بھی کر سکتے ہیں۔ سو میں لیبر ڈے کا انتظار کر رہا ہوں۔

The Tale of Despereaux

Michelle and I both loved this movie of a little brave mouse.

We took Michelle to see The Tale of Despereaux with a friend of hers.

Michelle loved the little mouse and so did we. However, her friend seemed a bit scared and left in the middle with her parents. It was great fun, with good graphics.

I rate it 8/10.