اردوویب کو خیرباد

آج سے سات سال پہلے کی بات ہے جب کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر اردو میں بلاگ اور انٹرنیٹ کے بارے میں کچھ کام کرنے کا سوچا تھا۔ پھر جون 2005 میں اس کام کے لئے علیحدہ ڈومین urduweb.org لے لی۔

ان سات سالوں میں اردوویب سے کبھی زیادہ کبھی کم واسطہ رہا۔ جب وقت کے ساتھ میری مصروفیات بڑھ گئیں تو بھی اردوویب پھلتا پھولتا رہا۔

وقت گزرنے ساتھ زیادہ اردوویب نے انٹرنیٹ کی اردو دنیا کو بدل کے رکھ دیا وہاں اردو محفل پر ایک کمیونٹی بھی قائم ہوتی گئی۔

وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا مگر میرا یہ احساس بڑھتا گیا کہ میں اس اردوویب کمیونٹی میں سے نہیں ہوں۔ صرف یہ بات نہیں کہ سیاست اور مذہب وغیرہ پر مجھے اکثر ارکان محفل اور اردو بلاگرز سے اختلاف تھا بلکہ ہماری دنیا ہی الگ الگ تھی اور ہم ایک دوسرے کو سمجھنے سے قصر تھے۔

اگر میں اس کمیونٹی کا حصہ ہی نہیں ہوں تو پھر مجھے اردو محفل اور اردوویب پر رہنے کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔ میری اور بھی کافی مصروفیات ہیں جیسے ہڑپہ آبائی پراجیکٹ جن پر میں اپنا وقت بہتر طور پر استعمال کر سکتا ہوں۔

لہذا میں اردوویب اور اردو محفل کو خدا حافظ کہہ رہا ہوں۔

اردوویب کے لئے میری دعا ہے کہ وہ خوب سے خوب تر ہو اور انٹرنیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں اردو عام کرنے میں کامیاب ہو۔

میں خاص طور پر نبیل کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جس نے نہ صرف اردوویب کو کامیاب بنانے کے لئے کافی محنت کی بلکہ مجھے بھی سات سال خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔

کبھی کبھی

For some strange reason, I remembered this poem by Urdu poet Amjad Islam Amjad late Saturday night.

کبھی کبھی ان حبس بھری راتوں میں
جب
سب آوازیں سو جاتی ہیں
آدھی نیند کی گھائل سی مدہوشی میں
اک خواب انوکھا جاگتا ہے!
میں دیکھتا ہوں
گرد کی اس چادر سے اُدھر
(جو میرے اُس کے بیچ تنی ہے)
وہ بھی تنہا جاگ رہا ہے۔

My Dad translated it for me and my English speaking friends.

Sometimes in the nights so humid
When all the noises subside
Then in the beaten drunkenness of midnight
A strange dream opens eyes!
I see through this blanket of dust
(That is spread between me and her)
She too is awake alone.

ہفتہ بلاگستان: یوم ٹیکنالوجی

کیا ٹیکنالوجی ایک مفید شے ہے؟ کیا آج کا انسان کل سے بہتر ہے؟ ہمارا مستقبل کیسا ہو گا؟ میرا خیال ہے کہ اگرچہ ہمیں کئ چیلنج درپیش ہیں مگر ٹیکنالوجی ہمیں خوب سے خوب‌تر کی طرف لے جائے گی۔

ہفتہ بلاگستان آج اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ سو آخری قسط حاضر ہے۔

ٹیکنالوجی اور انسان کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ کچھ لوگوں کا تو کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ہی ہے جو ہمیں جانوروں سے ممیز کرتی ہے۔ اگرچہ کچھ جانور بھی محدود طور پر اوزار کا استعمال کرتے ہیں مگر انسان اوزار ایجاد کرنے اور مختلف ٹکنیکس استعمال کرنے میں ایک علیحدہ ہی کلاس میں ہے۔ اس کا آغاز لاکھوں سال پہلے ہومو ایریکٹس کے پتھر کے اوزار بنانے سے ہوتا ہے۔ مختلف ماہرِ عمرانیات و آنتھروپالوجی ٹیکنالوجی کی تاریخ کو مختلف طریقوں سے تقسیم کرتے ہیں۔ ماضی کی اہم ٹیکنالوجی میں پتھر کے اوزار (25 لاکھ سال پہلے)، آگ کا استعمال (شاید 10 سے 15 لاکھ سال پہلے)، کپڑے (ایک لاکھ سال پہلے)، جانوروں کو پالتو بنانا (15 ہزار سال پہلے)، زراعت (10 ہزار سال پہلے)، تانبا، کانسی اور پھر لوہے کا استعمال، پہیہ (6 ہزار سال پہلے)، لکھائ (6 ہزار سال پہلے) وغیرہ ہیں۔ ان مختلف ٹیکنالوجیز کی بدولت انسان شکار اور چیزیں اکٹھی کرنے سے بڑھ کر گنجان آباد زرعی سوسائٹی کا حصہ بنا۔ پھر اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں صنعتی انقلاب نے پہلے یورپ اور پھر دنیا کو بدل دیا۔

آج ہم post-industrial دور سے گزر رہے ہیں جہاں انفارمیشن کے انقلاب نے دنیا کے مختلف خطوں میں رہنے والوں کو قریب‌تر کر دیا ہے۔ کمپیوٹر، ٹیلی‌فون، انٹرنیٹ اور سروس اکنامی ہمارے دور کی اہم ایجادات ہیں۔ نہ صرف یہ کہ ہم باہم رابطے میں پرانے وقتوں سے بہت مختلف حالات میں رہتے ہیں بلکہ آج ترقی‌یافتہ ممالک میں صنعت سے زیادہ اہم انفارمیشن ہے اور بہت سے لوگ manufacturing کی بجائے information سے متعلقہ جاب کر رہے ہیں جن میں معلومات کو اخذ کرنا، انہیں شیئر کرنا، تعلیم، ریسرچ وغیرہ شامل ہیں۔

کل ہمیں کیسی ٹیکنالوجی دکھائے گا؟ اس سوال کا جواب ایک لحاظ سے مشکل ہے کہ ہم اپنے کل کو آج ہی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ جیسے بیسویں صدی کے پہلے حصے کے لوگوں‌کا خیال تھا کہ جیسے ان کے زمانے میں گاڑی اور جہاز کی ایجاد سے سفر بہت آسان ہوا اسی طرح مستقبل میں اسی فیلڈ میں ترقی ہو گی اور انتہائ تیزرفتار اور فضائ کاریں دستیاب ہوں گی۔ ایسا نہ ہو سکا بلکہ تیزرفتار کنکورڈ جہاز کچھ عرصہ پہلے بند ہو گیا۔ مگر آج ہوائ سفر اتنا سستا اور آسان ہو چکا ہے کہ سال میں کروڑوں لوگ دور دور کا سفر کرتے ہیں۔ اسی طرح 1969 میں چاند پر قدم رکھنے کے بعد انسان کا خیال تھا کہ چند ہی دہائیوں میں انسان خلاؤں کا سفر کرے گا مگر آج ہمیں لگتا ہے کہ unmanned space exploration ہی پر اکتفا کرنا پڑے گا۔ روبوٹس اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس اگرچہ کافی کامیاب رہے مگر ساتھ ہی انتہائ مشکل ثابت ہوئے۔ روبوٹس کا استعمال صنعت میں تو عام ہے مگر سائنس فکشن کے انداز میں مصنوعی ذہانت سے بھرپور جنرل پرپز روبوٹس دیکھنے میں نہیں آئے۔

ہم انفارمیشن کے زمانے میں رہتے ہیں تو بہت سی انفارمیشن آج ڈیجٹل شکل میں دستیاب ہے اور اسے کمپیوٹرز سے پراسیس کیا جا سکتا ہے۔ اس سے جہاں معلومات کو دنیا بھر میں پھیلانا آسان ہو گیا ہے اسی طرح انٹلیکچوئل پراپرٹی اور پرائیویسی بھی متاثر ہوئ ہے۔ آج بہت لوگ آسانی سے گانے اور فلمیں کاپی کر کے مفت میں بانٹ سکتے ہیں جس پر میوزک اور فلم انڈسٹری نالاں ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمارے متعلق بہت سی معلومات بھی ڈیجٹل فارمیٹ میں دستیاب ہیں۔ مثال کے طور پر ہم آجکل ای‌ٹکٹ پر جہاز میں سفر کرتے ہیں اور ہماری جہاز، ہوٹل، کار وغیرہ کی بکنگ تمام آن لائن ہی ہوتی ہے۔ کریڈ کارڈ اور بنک اکاؤنٹ کا تمام ریکارڈ بھی آن لائن ہوتا ہے۔ یہ تو پھر پرائیویٹ ڈیٹا ہے مگر ہمارے بلاگ، فورم، ٹویٹر، فیس‌بک وغیرہ بھی ہمارے متعلق بہت سی معلومات رکھتے ہیں۔ اسی طرح فون‌بک بھی آن لائن ہیں اور بہت سے کالج اور یونیورسٹی کی ڈائریکری بھی۔ ہم آن‌لائن سٹور سے خریداری کرتے ہیں تو وہ ڈیٹا بھی ہے اور اگر کسی لوکل سپرسٹور سے تو اس کے ڈسکاؤنٹ کارڈ ہیں جن سے آپ کی خریداری ٹریک کی جا سکتی ہے۔ بہت سے پبلک مقامات پر کیمرے نصب ہیں اور ہمارے سیل فون میں بھی اکثر assisted GPS موجود ہیں جن سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ آپ اس وقت کدھر موجود ہیں۔ چہرے پہچاننے کی ٹیکنالوجی بھی اب کافی حد تک میچور ہو رہی ہے اور وہ وقت شاید دور نہیں جب آپ کہیں بھی جائیں تو خود بخود آپ کو پہچان لیا جائے۔ اس سب ڈیٹا کو کون کب اور کیسے استعمال کر سکتا ہے اس بارے میں ابھی فیصلہ مشکل ہے البتہ یہ لازم ہے کہ کچھ نسلوں بعد انسان کی پرائیویسی کا آئیڈیا آج سے کافی مختلف ہو گا۔

سال کے شروع میں ایج نے سائنسدانوں، مصنفین اور نامور لوگوں سے پوچھا کہ ان کے خیال میں ان کی زندگی میں ایسا کونسا سا سائنسی آئیڈیا سامنے آئے گا جو دنیا کو بدل ڈالے گا۔ ہر کسی نے اپنا خیال پیش کیا۔ اگر مجھ سے پوچھتے تو میرا جواب ہوتا: بائیوٹیکنالوجی۔ اس میں سٹیفن پنکر کا اپنا ذاتی جینوم sequence کرانا اور اس کے نتیجے میں آپ کی جینز کے مطابق آپ کے ڈاکٹر کا آپ کا علاج کرنا بھی شامل ہے اور جینز یعنی وارثت کے ذریعہ پھیلنے والی بیماریوں‌کا تدارک بھی۔ اس کے ساتھ ساتھ جینز کی بدولت ہم شاید یہ بھی معلوم کر سکیں کہ ہمارے اباؤاجداد کہاں سے تھے۔

کیا ہم مستقبل کی ٹیکنالوجی سے مثبت فوائد حاصل کر سکتے ہیں؟ ایک ٹیکنوفائل کی حیثیت سے میں تو یہی کہوں گا کہ بالکل بلکہ سائنس اور ٹیکنالوجی ہی ہمیں کئ مسائل سے نجات دلانے میں ممد و معاون ثابت ہو گی۔ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں انسان اور دنیا جس تباہی اور تبدیلی کا شکار ہو رہی ہے اور ہو گی اس کا تدارک energy conservation کے ساتھ ساتھ نئ ٹیکنالوجی کی ایجاد اور استعمال بھی ہو گا۔

ہفتہ بلاگستان: یوم کچن

معلوم نہیں یہ ہفتہ بلاگستان کب ختم ہو گا۔ فی الحال تو ہم دنبے کے اسٹو کی ایک اطالوی ترکیب کے ساتھ یومِ باورچی خانہ منا رہے ہیں۔

کھانے بنانے اور اچھے ریستوران جانے کے ہم شوقین ہیں اور کھانے بھی ہر قسم کے۔ مگر اگر فیورٹ کی بات ہو تو اطالوی کھانے سب سے زیادہ بناتا ہوں اور فرنچ میٹھے کی بات ہی کچھ اور ہے۔ اب ہفتہ بلاگستان کی چوتھی قسط کے لئے ایک ترکیب حاضر ہے۔

یہ ترکیب دنبے کے اسٹو کی ہے جو جدید اطالوی پکوان سے لی گئ ہے۔

اجزاء

  • اڑھائ پاونڈ بغیر ہڈی کے دنبے کے کندھے کا گوشت
  • چوتھائ کپ زیتون کا تیل
  • ایک چھوٹا پیاز باریک کٹا ہوا
  • لہسن کے دو ٹکڑے چھوٹے کٹے ہوئے
  • سیلیری کی ٹہنی باریک کٹی ہوئ
  • آدھا کپ مارسلا Marsala یا انگور کا جوس
  • دو بڑے چمچ آٹا
  • تین بڑے چمچ ٹماٹر کی پیسٹ
  • ڈیڑھ کپ چکن یا گوشت کی یخنی
  • نمک
  • معمولی سی cayenne pepper
  • چار گاجریں
  • ایک پاونڈ چھوٹے سفید پیاز
  • دو بڑے چمچ کٹا ہوا پارسلے

ترکیب

دنبے کے گوشت کو دو انچ کے کیوب کی شکل میں کاٹ لیں۔

تیل کو دیگچے میں گرم کریں اور اس میں ایک پیاز، لہسن اور سیلیری ڈال دیں۔ اسے چار پانچ منٹ کر براون کریں۔ پھر دنبے کا گوشت شامل کریں اور تیز آنچ پر پکائیں یہاں تک کہ گوشت کو رنگ آنے لگے۔ پھر آٹا تھوڑا تھوڑا کر کے گوشت پر ڈال دیں اور دیگچے میں چمچ ہلاتے رہیں۔ مارسلا یا جوس بھی شامل کریں اور اس وقت تک تیز آنچ پر پکاتے رہیں جب تک وہ تقریباً ختم نہ ہو جائے۔

ٹماٹر کی پیسٹ کو یخنی میں گھول لیں اور دیگچے میں شامل کر دیں۔ نمک اور مرچ حسبِ ذائقہ ڈال دیں۔ اب دیگچے پر ڈھکنا ڈال دیں مگر تھوڑا سا سائڈ پر۔ کچھ ہلکی آنچ پر ایک سے ڈیڑھ گھنٹے simmer کرنے دیں۔ کچھ دیر بعد دیگچے میں چمچ مار لیا کریں۔

جب گوشت پک رہا ہو اس دوران گاجروں کو آدھ انچ کے گول ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ پھر معمولی سے نمکین پانی میں انہیں ابالیں یہاں تک کہ وہ کچھ نرم ہو جائیں مگر بہت زیادہ نہیں۔

اب ایک الگ دیگچے میں پانی ابالیں۔ جب پانی ابلنے لگے تو اس میں چھوٹے چھوٹے پیاز ڈال دیں۔ کوئ آدھے منٹ بعد انہیں نکال کر انہیں چھیل لیں مگر ثابت ہی رہنے دیں۔ اب دوبارہ پانی ابالیں اور اس میں کچھ نمک ڈالیں۔ پھر اس میں یہ چھلے پیاز بھی ڈال دیں اور انہیں پندرہ سے بیس منٹ تک ابالیں۔ اس کے نتیجے میں پیاز کچھ حد تک نرم ہو جائیں گے۔

جب گوشت پک جائے تو اس میں یہ نرم گاجریں، پیاز اور پارسلے کے کٹے پتے ڈال دیں۔ اب ان سب کو گوشت کے ساتھ کوئ آٹھ دس منٹ پکائیں۔ جب کھانا تیار ہو گا تو دنبے کا گوشت انتہائ نرم ہو گا اور سالن گاڑھا اور گہرا سرخ رنگ کا ہو گا۔

اب اسے اطالوی بریڈ کے ساتھ خوب مزے لے کر کھائیں۔

ہفتہ بلاگستان: اردو بلاگنگ

ہفتہ بلاگستان کے سلسلے میں آج ہم اردو بلاگنگ کے حوالے سے گفتگو کریں گے اور یہ دیکھیں کہ اردو بلاگنگ آج بھی اتنی غیرمقبول کیوں ہے۔

ہفتہ بلاگستان کے سلسلے کی یہ تیسری قسط ہے۔ جیسا کہ خیال تھا شگفتہ یہ آئیڈیا پیش کرنے کے بعد سے گم ہیں اور ان کے اس سال بلاگنگ کے منظر پر واپس آنے کا کوئ چانس نہیں۔ شاید ایک دو صدیوں میں وہ اس ہفتہ بلاگستان کو بھی منا لیں۔

آج میں نقل مارنے کے ارادے سے آیا ہوں اور اردوویب بلاگ پر اپنی ایک تحریر کا زیادہ حصہ (مختلف اضافوں کے ساتھ) یہاں بھی نقل کر رہا ہوں۔

پہلی اہم بات یہ ہے کہ جب آپ کوئی پوسٹ لکھیں تو اخبار یا بلاگ کو حوالہ دیں اور اس خبر یا پوسٹ کو لنک کریں۔ یہ خیال رہے کہ لنک اخبار یا بلاگ کے ہوم پیج کا نہ ہو بلکہ سیدھا اس صفحے کی طرف جاتا ہو جو آپ کے زیرِ بحث ہے۔ اسی طرح اگر آپ کسی ویب سائٹ یا کسی بلاگر کا ذکر کرتے ہیں تو ان کا لنک بھی اپنی پوسٹ میں شامل کریں۔ یاد رہے کہ آپ کی سائڈبار میں موجود لنک بہت کم لوگ فالو کرتے ہیں مگر پوسٹ میں لنک زیادہ‌تر قارئین فالو کرتے ہیں۔

اسی طرح جب آپ کسی بلاگ پوسٹ کا جواب لکھیں تو لنک کے ساتھ ساتھ اس کا ایسا اقتباس بھی اپنی پوسٹ میں شامل کریں تاکہ گفتگو سمجھنے میں آسانی رہے۔ یہی نکتہ اخبارات کی خبروں کے لئے بھی ہے۔ پوری خبر یا پوسٹ کبھی شامل نہ کریں بلکہ صرف اقتباس دیں۔ اس اقتباس کو اپنے بلاگ پر اپنی تحریر سے نمایاں کریں۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ اس اقتباس کے گرد <blockquote> ٹیگ ڈالیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آپ کی تحریر کونسی ہے اور کسی اور کی کونسی۔

ایک اور چیز ہر پوسٹ کے ساتھ اس سے متعلقہ پوسٹس کے روابط ہیں۔ اس کے لئے ٹیگز اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اپنے بلاگ پر آپ کسی قسم کا ہٹ کاونٹر ضرور لگائیں۔ اس کے لئے میں سائٹ‌میٹر تجویز کرتا ہوں۔ اس کی پرائیویسی سیٹنگ ایسی رکھیں کہ تمام قارئین اس کا سمری پیج دیکھ سکیں۔ اس طرح عوام یہ جان سکیں گے کہ آپ کا بلاگ روزانہ کتنے لوگ پڑھتے ہیں مگر تفصیلی ڈیٹا صرف آپ ہی دیکھ سکیں گے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سائٹ‌میٹر میں اپنے وزٹ اگنور کرنے کی بھی آپشن ہے۔ یہ ضرور سیٹ کریں تاکہ جب آپ اپنے بلاگ پر جائیں تو وہ شمار نہ ہو۔

اپنے بلاگ کی مقبولیت بڑھانے کے لئے اس کے علاوہ بھی کئی چیزیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ باقاعدگی سے بلاگ پر لکھیں۔ میں نے نوٹ کیا ہے کہ دو تین بلاگرز کو چھوڑ کر باقی اردو بلاگر مہینے میں دو تین سے زیادہ بار نہیں لکھتے۔ دوسرے بلاگز پر تبصرہ کریں اور ان کی تحریروں پر اپنے بلاگ میں لکھیں۔ جب کسی دوسرے بلاگ پر تبصرہ کریں تو اپنے بلاگ کا لنک یو‌آر‌ایل فیلڈ میں ضرور دیں۔ دوسرے بلاگز کے ساتھ گفتگو بلاگ کی دنیا کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ صرف اردو بلاگز ہی تک محدود نہ رہیں بلکہ انگریزی اور دوسری زبانوں کے بلاگز پر بھی تبصرے کریں خاص طور پر پاکستانی انگریزی بلاگز پر تاکہ گفتگو کا دائرہ بڑھ سکے۔ اگر آپ کسی بلاگ پر باقاعدگی سے تبصرے کرتے ہیں تو ممکن ہے وہاں سے کئی قارئین آپ کے بلاگ پر آئیں اور یہ بھی کہ وہ بلاگر آپ کی کسی پوسٹ کے بارے میں لکھے۔

اپنے بلاگ پر ایک صفحہ اپنے بارے میں ضرور شامل کریں جس میں کم از کم آپ کے بارے میں ایسی معلومات ہوں جس سے قاری کو آپ اور آپ کے بلاگ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ ضروری نہیں کہ یہاں آپ اپنی سوانح حیات اور اصل نام ہی لکھیں مگر اپنے بارے میں لکھیں۔ ساتھ ہی خود سے رابطہ کرنے کا کوئی طریقہ بھی فراہم کریں۔

دو سال پہلے کی طرح آج بھی میرا یہی خیال ہے کہ اردو بلاگنگ ابھی کہیں نہیں جا رہی۔ چھ سالوں میں شاید چند سو بلاگ ہیں۔ اس کے مقابلے میں کل بلاگ ہر چار پانچ ماہ میں دوگنے ہو جاتے ہیں۔ پاکستانی انگریزی بلاگ لے لیں یا فارسی بلاگ یا انڈین بلاگ سب ہی انتہائی تیزی سے بڑھے ہیں۔ ان سب کی exponential growth ہے جبکہ اردو بلاگز کی linear growth ۔ یہ بات پریشان‌کن ہے۔ لیکن اس سے زیادہ پریشان کرنے والی بات یہ ہے کہ اردو بلاگ یا فورمز کے قارئین بہت کم ہیں اور بہت سستی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایک عام اردو بلاگ کو 20 سے 30 قاری روزانہ پڑھتے ہیں اور زیادہ اردو بلاگز کو پڑھنے والے وہی لوگ ہیں یعنی تمام اردو بلاگز کے قاری اکٹھے کئے جائیں تو شاید چند سو سے زیادہ نہ ہوں۔ ایسی صورت میں نئے اردو بلاگز کہاں سے آئیں گے؟ اس اعداد و شمار کا مقابلہ بڑے بڑے بلاگز کی بجائے عام پاکستانی انگریزی بلاگ سے بھی کیا جائے تو شرمندگی ہی ہوتی ہے۔

اگرچہ پچھلے کچھ سالوں میں اردو بلاگز کے موضوعات میں اضافہ ہوا ہے مگر آج بھی زیادہ سیاست، مذہب، ادب اور ذاتی ڈائری ہی پر بلاگنگ عام ہے۔ کدھر ہیں معاشیات، معاشرتی علوم، فنون لطیفہ، سیاحت، فوٹوگرافی، بےبی بلاگ، مخلتف مشاغل پر بلاگ؟ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ان متنوع موضوعات کی کمیونٹیز کہاں ہیں؟

ایک بات خوش‌آئیند ہے کہ حال میں اردو بلاگرز کے درمیان گفتگو میں اضافہ ہوا ہے۔ اب بلاگرز ایک دوسرے کی تحریر کا جواب اپنے بلاگ پر دے رہے ہیں۔

اردو بلاگستان کی جب بھی بات آتی ہے تو لوگ ضابطہ اخلاق کی بات کرتے ہیں۔ تمیز اور انسانیت انتہائ اہم ہیں مگر بلاگنگ کے ضابطہ اخلاق کی بات کچھ عجیب لگتی ہے۔ یہ ضابطہ کوئ کسی پر لاگو نہیں کر سکتا۔ ہاں ہر شخص کو اپنی آن‌لائن اور آف‌لائن زندگی میں اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔ اگر آپ بلاگنگ کا ضابطہ اخلاق ہی چاہتے ہیں تو کوئ اردو بلاگنگ کا شہزادہ ان دو ضابطہ اخلاق کا ترجمہ کر دے۔

نیٹ پر اردو لکھنے اور پڑھنے والوں کی طرف سے نستعلیق فونٹ کی طرف شدید رجحان یہاں تک کہ وہ نسخ میں اردو پڑھنا لکھنا ہی گوارا نہیں کرتے آج تک میری سمجھ میں نہیں آیا۔ لوگ اس وجہ سے آج تک انپیج استعمال کر کے اردو تحریر کا امیج آن‌لائن پوسٹ کرتے ہیں۔ اب تو خیر چند نستعلیق فونٹ بھی میدان میں آ گئے ہیں۔

ہفتہ بلاگستان: یومِ تعلیم

ہم نے سوچا کہ بیٹی نے ابھی کنڈرگارٹن میں داخلہ لیا ہے تو کیوں نہ اسی موضوع پر کچھ لکھا جائے۔

ہفتہ بلاگستان کے سلسلے کی دوسری کڑی تعلیم سے متعلق ہے۔ پہلے میں نے سوچا کہ “تلیم کی کمی” پر کچھ لکھوں مگر اس موضوع پر تو جتنا مواد اردو میں ہو گا کسی اور زبان میں نہیں۔

پچھلی قسط میں اپنے بچپن کا ذکر تھا۔ اس قسط میں سیدھی چھلانگ لگاتے ہیں حال میں کہ ایک ہفتہ پہلے میری بیٹٰی مشیل نے کنڈرگارٹن شروع کیا ہے۔

یہاں ہماری ریاست جارجیا میں کنڈرگارٹن پانچ سال کی عمر میں شروع ہوتا ہے۔ جو بچے یکم ستمبر تک پانچ سال کے ہو چکے ہوتے ہیں وہ کنڈرگارٹن میں جاتے ہیں اور چھ سال کے بچے پہلے گریڈ میں۔ یہاں چار سالہ بچوں کے لئے پبلک پری‌کے بھی ہے مگر وہ عام نہیں ہے۔ البتہ پرائیویٹ پری‌سکول عام ہیں۔ کنڈرگارٹن ہر پرائمری سکول میں ہے مگر اس میں داخلہ لازمی نہیں۔ چھ سے سولہ سال کے بچوں کے لئے کسی پبلک، پرائیویٹ یا ہوم سکول میں پڑھنا لازم ہے۔

ہوم سکول یعنی کسی باقاعدہ طریقے سے گھر پر پڑھانا عام طور سے وہ لوگ کرتے ہیں جو معاشرے سے خوب الگ تھلگ ہوتے ہیں جیسے کچھ مذہبی فرقے۔ پرائیویٹ سکول کافی مختلف سٹینڈرڈ کے ہوتے ہیں اور اکثر کافی مہنگے۔ یہ بڑے شہروں میں کافی عام ہیں۔ زیادہ بچے پبلک سکولوں میں پڑھتے ہیں۔

سکولوں کے تین درجے ہیں۔ ایلیمنٹری سکول کنڈرگارٹن سے شروع ہو کر پانچویں گریڈ تک ہوتا ہے۔ پھر مڈل سکول چھٹے سے آٹھویں گریڈ تک اور ہائ سکول نویں سے بارہویں گریڈ تک۔

ہر ریاست میں پبلک سکول مختلف سکول اضلاع میں تقسیم ہوتے ہیں جن کا بورڈ آف ایجوکیشن سکولوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ جارجیا میں زیادہ سکول اضلاع کاونٹی کی سطح پر ہیں البتہ اٹلانٹا کا اپنا سکولوں کا ضلع ہے۔ سکولوں کو زیادہ‌تر فنڈز ریاست اور کاونٹی کی طرف سے ملتے ہیں جو عام طور سے پراپرٹی ٹیکس سے وصول کئے جاتے ہیں۔

آپ کا بچہ کس سکول میں جائے گا اس کا فیصلہ آپ کی رہائش سے ہوتا ہے۔ ایک سکول کے ضلع میں تمام گھروں کو مختلف سکولوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے تاکہ تمام سکولوں میں بچوں کی تعداد مناسب ہو اور بچے اپنے گھر سے کچھ قریب ہی سکول جا سکیں۔

ہمارے علاقے میں پچھلے کچھ سال میں آبادی میں کافی اضافہ ہوا۔ اس لئے اس سال ایک نیا پرائمری سکول کھلا ہے۔ اس وجہ سے بچوں کو سکولوں میں تقسیم کرنے کے لئے بورڈ آف ایجوکیشن نے پچھلے سال کے آخر میں کئ میٹنگز رکھیں جس میں والدین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس کے نتیجے میں نئے نقشے ترتیب دیئے۔ میں نے بھی ان میٹنگز میں شرکت کی تھی اور والدین کا جوش و خروش دیکھا تھا۔

چونکہ آپ کا بچہ کس سکول میں جائے گا یہ آپ کے گھر کے ایڈریس پر منحصر ہے اس لئے اچھے سکولوں کے آس پاس کے گھروں کی قیمت بھی کچھ مہنگی ہوتی ہے اور بچوں کے والدین اکثر گھر خریدتے ہوئے اس بات کا خیال رکھتے ہیں۔ ہم نے بھی جب گھر خریدنا تھا تو قیمت کے علاوہ اہم‌ترین شرط اچھے سکولوں کی رکھی تھی۔ اسی وجہ سے مشیل کے سکول کا شمار ہماری ریاست کے بہترین پرائمری سکولوں میں ہوتا ہے۔

سکول کے سال کا آغاز اگست میں ہوتا ہے اور اس سال ہمارے ہاں یہ 10 تاریخ کو پہلا دن تھا۔ لہذا ہم نے فروری میں سکول کو فون کیا کہ معلوم کریں کہ ہم کب جا کر سکول دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اپریل کے آخر میں کنڈرگارٹن میں داخل ہونے والے بچوں اور والدین کے لئے سکول دیکھنے کا دن ہے۔ اس دن ہم شام کو مشیل کو لے کر سکول گئے۔ وہاں ہم نے کلاسز کے علاوہ پلے‌گراونڈ، جم، بسیں اور کیفیٹیریا بھی دیکھے۔ مشیل کو سکول بس بہت پسند آئ اور اس نے وہیں فیصلہ کر لیا کہ وہ بس پر سکول جایا کرے گی۔

مئ کے آغاز میں سکول رجسٹریشن شروع ہو گئ اور میں ٹھہرا جلدباز پہلے ہی دن جا کر مشیل کو رجسٹر کرا دیا۔ رجسٹریشن کے لئے سکول والوں کو مشیل کی پیدائش کا سرٹیفیکیٹ اور ہمارے گھر کے ایڈریس کا ثبوت چاہیئے تھا۔ اس کے علاوہ ایک حلف‌نامہ بھی کہ ہم اسی ایڈریس پر رہتے ہیں۔ ایک چیز جس نے کچھ مسئلہ کیا وہ مشیل کا ویکسین سرٹیفیکیٹ تھا۔ سکول والوں کا کہنا تھا کہ یہ اگست یا اس کے بعد تک کی میعاد کا ہونا لازم ہے۔ مشیل چونکہ اگست میں پانچ سال کی ہونے والی تھی اس لئے اس کا ایک دو ٹیکوں کا کورس رہتا تھا جو اگست میں پورا ہونا تھا۔ کچھ نامعلوم وجوہات کی بنا پر ریاستی ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کا ویکسین سرٹیفیکیٹ جولائ میں ایکسپائر ہو رہا تھا۔ ڈاکٹر اور سکول سے بات کرنے پر آخر یہی نتیجہ نکلا کہ اگست میں چیک‌اپ کے بعد انہیں نیا سرٹیفیکیٹ مہیا کر دیں گے۔

ایک ہفتے بعد مشیل کی کنڈرگارٹن کے لئے سکریننگ تھی جس میں بچوں سے اے بی سی، گنتی اور شکلوں وغیرہ کے بارے میں پوچھا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ بچے کو کیا آتا ہے اور اسے کس سیکشن میں ڈالا جائے۔

اس کے بعد ہمیں اگست کا انتظار تھا۔ 5 اگست کو صبح میں اور مشیل اوپن ہاوس کے لئے سکول روانہ ہوئے۔ وہاں کیفے میں تمام کلاسوں کی فہرستیں لگی تھیں۔ ہم نے معلوم کیا کہ مشیل کنڈرگارٹن کے سات سیکشنز میں سے کس میں ہے اور اس کی ٹیچر کا کیا نام ہے۔ وہیں کیفے میں پیرنٹ ٹیچر ایسوسی‌ایشن اور مختلف آفٹر سکول پروگراموں کے سٹال لگے تھے۔ ہسپانوی زبان سے لے کر کراٹے اور فٹبال سب کچھ وہاں موجود تھا۔ ہم وہاں سے فارغ ہو کر مشیل کی کلاس میں گئے اور مشیل کی دونوں ٹیچرز سے ملاقات کی۔ اس کی ٹیچر تیس سال سے پڑھا رہی ہے اور کافی نفیس اور ہنس مکھ خاتون ہے۔ مشیل تو کلاس میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل کود میں مشغول ہو گئ اور میں ٹیچر سے بات چیت اور فارم پر کرنے میں جت گیا۔

اگلے دن شام کو کنڈرگارٹن کے بچوں کے والدین کے لئے بیک ٹو سکول نائٹ تھی۔ اس میں پہلے سکول کی پیرنٹ ٹیچر ایسوسی‌ایشن نے کچھ تعارف کرایا اور پھر پرنسپل نے خطاب کیا۔ کنڈرگارٹن کی تمام ٹیچرز کا بھی تعارف کرایا گیا۔ اس کے بعد تمام والدین اپنے اپنے بچوں کے سیکشن میں چلے گئے جہاں ٹیچر نے بتایا کہ بچوں کا روزانہ کا روٹین کیا ہو گا اور انہیں کیا اور کیسے سکھایا جائے گا۔ وہیں مختلف کاموں کے لئے والدین نے رضاکارانہ کام کرنے کی حامی بھری۔ میں نے بچوں کی تصاویر لینے اور ائیربک کی تصاویر کی ذمہ‌داری لی۔

ہمیں بتایا گیا کہ سکول کے پہلے دن ہم کنڈرگارٹن کے بچوں کو ان کی کلاس تک لے جا سکتے ہیں۔ مگر دوسرے دن سے یا تو ہم کار پول میں انہیں باہر ہی چھوڑ جائیں اور ٹیچر اور باقی سٹاف انہیں کلاسز تک پہنچائے گا یا پھر بچے بس پر آ سکتے ہیں۔ میں نے مشیل سے پوچھا کہ وہ کیا پسند کرے گی۔ اس نے بس میں جانے کا کہا۔ لہذا 10 اگست کو صبح چھ بجے ہم اٹھے۔ ناشتہ کر کے تیار ہوئے اور پھر میں اور عنبر مشیل کو لے کر اپنی سڑک کے آخر تک گئے جہاں پر سکول بس آتی ہے۔ وہاں کئ اور بچے اور ان کے والدین موجود تھے۔ سات بجے کے قریب بس آئ اور مشیل اس میں بیٹح کر خوشی خوشی سکول چلی گئ۔

دوپہر کو سکول سوا دو ختم ہوتا ہے۔ ہم نے مشیل کو آفٹر سکول پروگرام میں داخل کرا رکھا ہے۔ سو میں اسے پہلے دن سکول سے پک کرنے گیا تو میں نے پوچھا کہ اسے سکول میں کیا اچھا لگا۔ مشیل کا جواب تھا کہ سب سے اچھا اسے پلے‌گراونڈ میں see-saw لگا۔

سکول کے تیسرے دن مشیل کی سالگرہ تھی۔ سکول میں اسے سلاگرہ وش کی گئ اور ایک گتے کا تاج بھی بنا کر دیا گیا جس پر وہ بہت خوش تھی۔ میں نے اس دن مشیل کی ٹیچر کو نوٹ بھیجا تھا کہ وہ مشیل کو آفٹرسکول پروگرام کی بجائے بس پر گھر بھیج دے۔ میں سوا دو کے کچھ دیر بعد بس سٹاپ پر پہنچ گیا۔ جب بس آئ تو مشیل نہ اتری۔ دیکھا تو بس کے اندر بھی نہ تھی۔ ڈرائیور سے پوچھا تو اس نے کہا کہ اوہ وہ تو پچھلے سٹاپ پر اتر گئ۔ پچھلا سٹاپ ہمارے ہی سب‌ڈویژن میں ہے۔ میں پیدل سٹاپ کی طرف روانہ ہوا اور بس ڈرائیور بھی دوسرے رستے سے اسی طرف چلا۔ جب میں سٹاپ کے قریب پہنچا تو بس آتی نظر آئی، پاس آ کر رکی اور اس میں سے مشیل اتری۔ غلطی سے مشیل ایک سٹاپ پہلے اتر گئ تھی۔ پہلے تو وہ کچھ بچوں کے ساتھ چلی مگر پھر اسے احساس ہوا کہ میں موجود نہیں اور نہ ہی یہ ہماری سڑک ہے۔ سو وہ رک گئ۔ جب بس دوبارہ آئی تو اس پر بیٹھ کر مجھ تک پہنچ گئ۔ وہ بالکل بھی پریشان نہیں لگ رہی تھی۔ میں نے اسے کہا کہ آئیندہ وہ دھیان رکھے اور ڈرائیور سے پوچھ لے کہ یہ ہماری سڑک کا سٹاپ ہے یا نہیں۔ مشیل کو ہمارا ایڈریس اور فون نمبر تو یاد ہی ہے۔

سکول میں جو فارم پر کئے تھے ان میں ایک میں یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ مشیل کو کونسی زبانیں آتی ہیں اور گھر میں ہم کونسی زبانیں بولتے ہیں۔ ہم نے انگریزی اور اردو دونوں لکھی تھیں کہ ہم دونوں ہی بولتے ہیں۔ اگر انگریزی کے علاوہ آپ کوئ زبان لکھیں تو سکول میں انگریزی بطور دوسری زبان کی تعلیم دینے والی ٹیچر بچے کا ٹیسٹ لیتی ہے۔ جمعہ کو اس ٹیسٹ کی رپورٹ بھی آئ کہ مشیل انگریزی اچھی طرح بولتی اور سمجھتی ہے اس لئے اسے ان اضافی لیسنز کی ضرورت نہیں۔

اتوار کو شام کو مشیل کی ٹیچر کا فون بھی آیا۔ انہوں نے بتایا کہ مشیل بہت سویٹ ہے اور وہ سکول میں کیسی جا رہی ہے اور اس ہفتے کن چیزوں پر ہمیں گھر میں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ ہمارے ایک دوست میاں بیوی ہیں وہ خاتون حال ہی میں اسی پرائمری سکول کی ٹیچر کے طور پر ریٹائر ہوئ ہیں اور مشیل کی ٹٰچر کی اچھی دوست ہیں۔

کچھ لوگوں کی خام خیالی کے برعکس ہمارے ہاں سکول ٹٰچر کو پہلے نام سے نہیں بلاتے بلکہ مسٹر، مس یا مسز کے ساتھ فیملی نام لیتے ہیں جیسے کہ مسٹر سمتھ، مس جانسن یا مسز براون۔

مشیل کی ٹیچر نے کہا تھا کہ پہلے مہینے والدین کلاس میں نہیں آ سکتے تاکہ بچے سکول کے عادی ہو جائیں۔ خیر مشیل تو عادی ہی تھی کہ پری‌سکول جاتی تھی مگر ان کی یہی پالیسی ہے۔ لیبر ڈے کے بعد والدین اپنی رضاکارانہ خدمات کے لئے صبح 9 بجے سکول آ سکتے ہیں اور چاہیں تو اپنے بچے کے ساتھ لنچ بھی کر سکتے ہیں۔ سو میں لیبر ڈے کا انتظار کر رہا ہوں۔

ہفتہ بلاگستان: یوم بچپن

سنا ہے کہ اردو بلاگرز کی دنیا میں ہفتہ بلاگستان منایا جا رہا ہے۔ پہلی قسط بچپن کے بارے میں ہے۔ ہم ٹھہرے اردو لکھنے سے بھاگنے والے سو تصاویر پوسٹ کر کے جان چھڑا رہے ہیں۔

شگفتہ نے بلاگستان کا ہفتہ منانے کا آئیڈیا پیش کیا جو کسی طرح دو ہفتے پر پھیل گیا۔ تمام پروگرام کی تفصیل منظرنامہ پر ہے۔ میرا تو ارادہ تھا کہ اسے چپکے سے نکل جانے دوں کہ عرصہ ہوا آن ڈیمانڈ بلاگنگ نہیں کی اور نہ ہی اردو میں بلاگ پر کھ لکھا ہے مگر پھر بدتمیز نے ایم‌ایس‌این پر کان کھائے اور میں نے یہ پوسٹ لکھ ڈالی۔

میری یادداشت کافی خراب ہے اس لئے بچپن کا واقعہ تو نہیں سنا سکتا البتہ کچھ تصاویر جو حال ہی میں ابو نے سکین کر کے بھیجی ہیں وہ پوسٹ کر رہا ہوں۔

1 day old
Baby Zack
Baby Zack
Baby Zack
Zack and his mom
First step
3rd birthday
Riding
In qameez shalwar
In Nathiagali
Tricycle
At Jahangir Tomb
Zack and cousin
5th birthday
With siblings
Lahore zoo
With elephant
 

تمام تصاویر عمر کی ترتیب سے نہیں ہیں۔ کوشش کروں گا کہ انہیں درست ترتیب میں کر دوں۔

حج مبارک

آپ سب کو حج اور عید مبارک ہو۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ سے حج یا عمرہ کرنے کی شرائط میں کیا کیا شامل ہے۔

آج عرفات کے میدان میں حج ہے۔ حج مبارک!

چاہے آپ آج عید منا رہے ہیں یا 21 تاریخ کو آپ سب کو عید مبارک ہو۔

امریکہ سے حج کے متعلق معلومات حاصل کرتے ہوئے یہاں کی ایک مسجد سے کچھ عجیب باتیں پتہ چلیں۔

If you are not carrying a Muslim name, a certificate from the Imam of your mosques indicating that you are a Muslim is required.

یہ مسلمان نام کیا ہوتا ہے؟ اس بارے میں میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں۔ اور اگر ان عقلمندوں کے نزدیک آپ کا نام مسلمان والا نہیں ہے تو پھر آپ کو مسجد سے اپنے مسلمان ہونے کا سرٹیفیکیٹ لانا ہو گا۔ واہ کیا بات ہے!! کیا واقعی لاکھوں غیرمسلم حج اور عمرے پر جانے کے لئے اتنے بےتاب ہیں کہ ان اقدامات کی ضرورت پیش آئی؟ مسجد والے آپ کو کیسے سرٹیفکیٹ دیں گے؟ کیا آپ کا اسلام کے متعلق ٹیسٹ ہو گا؟ یا ضروری ہے کہ آپ سال بھر اس مسجد میں جاتے رہے ہوں؟ اگر ایک شخص کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور حج کرنے جانا چاہتا ہوں تو ہم اس کا یقین کیوں نہیں کر لیتے؟ کیا یہ امریکہ اور مغرب کے مسلمانوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہے کہ پاکستان اور دوسرے مسلمان ممالک میں تو ایسی کوئی شرائط نہیں؟

اس شرط پر تو ہم بھی پورے نہیں اترتے کہ مشیل کے لئے مسلمان ہونے کا سرٹیفکیٹ لینا پڑے گا اور میں مسجد سے ایسا سرٹیفکیٹ تو کبھی نہیں لوں گا۔

Women traveling alone without husband, brother or adolescent son, a NOTARIZED permission letter is required from the husband, brother, or adolescent son, indicating that he has no objection and permits her to travel for (Hajj/Umra) .

خواتین کے اکیلے سفر پر جو قدغن ہے اس کی ہم آج بات نہیں کرتے۔ نہ ہی ہم حقوقِ نسواں کی بات کریں گے۔ مگر اوپر کی شرط پر غور کریں۔ باپ، شوہر یا بھائی کی اجازت کی بات بھی مان لیتے ہیں۔ جوان بیٹے پر کچھ اعتراض ہے مگر اسے بھی جانے دیتے ہیں۔ مگر یہاں تو ٹین‌ایجر بیٹے کی بھی اجازت درکار ہے! خیال رہے کہ یہ وہی ٹین‌ایجر بیٹا ہے جو معاشرے میں کچھ بھی خود سے نہیں کر سکتا اور اسے اپنے والدین کی اجازت کی ضرورت قدم قدم پر ہوتی ہے۔ اس ٹین‌ایجر بیٹے کی اجازت لینا عورت کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ یعنی عورت کی حیثیت ایک ٹین‌ایجر لڑکے سے بھی گئی گزری ہے۔

سقوطِ ڈھاکہ

آج 16 دسمبر ہے۔ آج سے 36 سال پہلے پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈالے اور بنگلہ‌دیش دنیا میں نمودار ہوا۔ چلیں اس تاریخ کو کچھ کھنگالیں کہ شاید ہم کچھ سیکھ سکیں۔

آج 16 دسمبر ہے۔ آج سے 36 سال پہلے پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈالے اور بنگلہ‌دیش دنیا میں نمودار ہوا۔

Gen Niazi signing instruments of surrender

چلیں اس تاریخ کو کچھ کھنگالیں کہ شاید ہم کچھ سیکھ سکیں۔

پانچ سال پہلے جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں نیشنل سیکورٹی آرکائیوز نے 1971 میں مشرقی پاکستان اور بنگلہ‌دیش سے متعلق کچھ امریکی دستاویزات ویب پر شائع کی تھیں۔ ان دستاویزات سے کچھ اقتباسات کے ترجمے پیشِ خدمت ہیں۔

دستاویز 1 مورخہ 28 مارچ جو ڈھاکہ میں امریکی قونصلخانے سے بھیجی گئی:

یہاں ڈھاکہ میں ہم پاکستانی فوج کے دہشت کے راج کے گونگے اور پریشان شاہد ہیں۔ شواہد سامنے آ رہے ہیں کہ پاکستانی حکام کے پاس عوامی لیگ کے حمایتیوں کی فہرستیں ہیں جنہیں وہ باقاعدہ طور پر ان کے گھروں میں ڈھونڈ کر گولی مار رہے ہیں۔ عوامی لیگ کے لیڈروں کے علاوہ سٹوڈنٹ لیڈر اور یونیورسٹی کے اساتذہ بھی ان کے نشانے پر ہیں۔

دستاویز 4 جو 30 مارچ کو ڈھاکہ قونصلخانے سے ڈھاکہ یونیورسٹی میں قتل و غارت کے متعلق ہے۔

ایف‌اے‌او کے ساتھ کام کرنے والے ایک امریکی نے ڈھاکہ یونیورسٹی کے اقبال ہال میں 25 طلباء کی لاشیں دیکھیں۔ اسے رقیہ گرلز ہال کے بارے میں بتایا گیا جہاں فوج نے عمارت کو آگ لگائی اور پھر بھاگتی لڑکیوں کو مشین‌گن سے مار دیا۔ اندازہ ہے کہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں کل 1000 لوگوں کو مار دیا گیا۔

دستاویز 5 31 مارچ کو بھیجی گئی:

آرمی اپریشن کے نتجے میں مرنوں والوں کی تعداد کا اندازہ لگانا ابھی مشکل ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی میں مرنے والے سٹوڈنٹس کی تعداد کا سب سے محتاط اندازہ 500 ہے اور 1000 تک جاتا ہے۔ پولیس کے ذرائع کے مطابق 25 مارچ کی رات کی شدید لڑائی میں 600 سے 800 پاکستانی پولیس والے مارے گئے۔ پرانا شہر جہاں فوج نے ہندو اور بنگالی علاقوں کو آگ لگائی اور پھر مکینوں کو گولیاں ماریں وہاں مرنے والوں کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ عینی شاہد ان مرنے والوں کی تعداد 2000 سے 4000 تک بتاتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اس وقت تک فوجی ایکشن کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد شاید 4000 سے 6000 تک ہے۔ ہمیں علم نہیں کہ کتنے فوجی مر چکے ہیں۔

دستاویز 6 بھی پڑھیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندو خاص طور پر پاکستانی فوج کا نشانہ تھے اور کیسے خواتین ریپ کا شکار ہوئیں۔

کچھ بنگالی بزنسمین جو عوامی لیگ کے حامی نہیں ہیں انہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں رقیہ ہال میں 6 لڑکیوں کی ننگی لاشیں دیکھیں جنہیں زنا بالجبر اور گولی مارنے کے بعد پنکھوں سے لٹکا دیا گیا تھا۔ یونیورسٹی میں دو اجتماعی قبریں بھی ہیں جن میں سے ایک میں 140 لاشیں پائی گئیں۔

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ویب سائٹ پر آپ 1971 سے متعلق بہت سی امریکی دستاویزات پڑھ سکتے ہیں۔

جنگ کے اختتام کے بعد پاکستانی حکومت نے حمود الرحمان کمیشن قائم کیا جس کا مقصد اس ساری صورتحال کے بارے میں تفتیش کرنا تھا۔ اس کمیشن کی رپورٹ سالہا سال تک پاکستانی حکمرانوں نے چھپائے رکھی۔ پھر اگست 2000 میں اس رپورٹ کا ایک حصہ انڈیا ٹوڈے نے چھاپ دیا۔ اس کے بعد پاکستانی حکومت نے رپورٹ کے کچھ حصے حذف کر کے باقی کی رپرٹ شائع کر دی جسے آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ اس وقت اس کا اردو ترجمہ جنگ اخبار میں چھپا جس کا کچھ حصہ آپ اردو محفل پر پڑھ سکتے ہیں۔

حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پڑھتے ہوئے حیرت ہوتی ہے کہ پاکستانی حکمرانوں نے اسے کیوں 28 سال تک چھپائے رکھا۔ ویسے تو رپورٹ اچھی ہے اور کئی فوجی کمانڈرز کو موردِ الزام ٹھہراتی ہے مگر کچھ لطیفے بھی ہیں۔

مثال کے طور پر پاکستانی فوج کے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ حیرانی کا اظہار کرتی ہے کہ پاکستانی فوج 9 ماہ میں 3 ملین لوگوں کو کیسے مار سکتی تھی اور جی‌ایچ‌کیو کی بات ماننے میں عار محسوس نہیں کرتی کہ فوج نے صرف 26 ہزار بنگالی مارے۔ مگر ساتھ ہی یہ دعوٰی بھی کرتی ہے کہ فوجی ایکشن سے پہلے مارچ کے 24 دنوں میں عوامی لیگ نے ایک سے پانچ لاکھ لوگوں کو مار دیا۔ اگر 24 دن میں ایک لاکھ لوگوں کو مارنا ممکن تھا تو پھر فوج جس کے پاس بڑے ہتھیار تھے وہ 8، 9 ماہ میں 3 ملین کیوں نہیں مار سکتی تھی؟ تین ملین کی تعداد کو مبالغہ کہنا اور صحیح نہ ماننا ایک بات ہے اور اسے اس طرح ناممکن قرار دینا بالکل دوسری۔ خیال رہے کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ 3 ملین کی تعداد صحیح ہے۔ جتنا اس سال کے واقعات کے بارے میں میں نے پڑھا ہے کوئی غیرجانبدار تحقیق اس معاملے میں نہیں ہوئی۔ بہرحال شواہد کے مطابق مغربی پاکستانی فوج نے یقیناً 26 ہزار سے زیادہ اور 3 ملین سے کم لوگ مارے۔

اب آتے ہیں بنگلہ‌دیشی بلاگز کی طرف کہ وہ اس دن کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔

کچھ بنگالی بلاگز سے مجھے ڈھاکہ میں جنگِ آزادی میوزیم کے ویب سائٹ کا پتہ چلا۔ اس سائٹ پر فی‌الحال صرف چند بنیادی معلومات ہی ہیں۔

درشتی‌پت بلاگ پر 1971 میں بنگالی دانشوروں کے قتل سے متعلق دو پوسٹس موجود ہیں۔

یا کیسے میں نے پریشان نہ ہونا سیکھا بلاگ کے معشوق الرحمان نے تو بہت سے مضامین 1971 کے واقعات پر لکھے ہیں۔ ان میں سے قابلِ ذکر اس وقت کی اخباری رپورٹس کو سکین کر کے آن‌لائن لانا ہے: بنگلہ‌دیش آبزرور ، ڈان اور بین الاقوامی اخبارات ۔ اس کے علاوہ اس کا ایک مضمون جو ایک بنگالی اخبار میں بھی چھپا ہے وہ شرمیلہ بوس کے اس دعوے کی تردید میں ہے کہ 1971 میں مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج نے لاکھوں خواتین کی عزت نہیں لوٹی تھی۔ بلاگر کین یونیورسٹی نیو جرسی میں بنگلہ‌دیش میں ہونے والی نسل‌کشی پر ایک سیمینار کی رپورٹ بھی پیش کرتا ہے جس میں وہاں کے نسل‌کشی سٹڈیز کے پروگرام میں 1971 کے بنگلہ‌دیش کے واقعات پر ایک کورس آفر کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس سیمینار میں 1971 میں مارے جانے والوں کی فیملی کے افراد بھی اپنے اور اپنی فیملی کے ساتھ ہونے والے واقعات بیان کرتے ہیں جو آپ بلاگ پر پڑھ سکتے ہیں۔ معشوق کے بلاگ پر بنگلہ‌دیش کی جنگِ آزادی کے متعلق بہت زیادہ مواد ہے اور میرا مشورہ ہے کہ آپ اسے ضرور پڑھیں۔

خدا کے لئے

شعیب منصور کی فلم خدا کے لئے میں میری کی زبردستی شادی اور حبسِ بےجا نے مجھے سب سے متاثر کیا۔ لالی‌وڈ کی عام فلموں سے بہت مختلف یہ ایک اچھی فلم ہے اور دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

آخر فلم خدا کے لئے دیکھی۔ اچھی فلم ہے۔

فلم کے متعلق تمام تبصرے موسیقی اور اسلام پر ہی پڑھے اور اس سے زیادہ بیکار بحث نہیں دیکھی۔ مگر فلم کا سب سے پراثر حصہ اس برطانوی پاکستانی لڑکی سے متعلق ہے جس کی زبردستی شادی کر دی جاتی ہے۔

مجھے اس بات پر بھی کافی دکھ ہوا کہ موسیقی کی ممانعت سے متعلق تو لوگوں نے اتنا چور مچایا مگر کسی نے یہ ذکر بھی نہیں کیا کہ فلم کے دوسرے مولوی صاحب زبردستی کی شادی کو بھی درست قرار دیتے ہیں۔

پاکستانی فلموں کی نسبت بہت بہتر فلم ہے اور دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ مگر اس میں کچھ خامیاں بھی ہیں۔ ایک تو ایمان علی کو برطانوی پاکستانی کا رول دیا گیا ہے مگر اس کا لہجہ بالکل بھی برطانوی نہیں۔ دوسرے فلم میں کئی لیکچر نما ڈائیلاگ ہیں۔

فلم میں سب سے متاثرکن حصہ ایک برطانوی پاکستانی کی زبردستی شادی اور پھر قبائلی علاقے میں اپنے “شوہر” کے ہاتھوں قید میں رہنا ہے۔ زبردستی کی شادی واقعی ایک مسئلہ ہے اور کچھ بیرون ملک رہنے والے پاکستانی بھی اس میں ملوث ہیں۔

فلم کا کمزورترین حصہ امریکہ والا ہے۔ شان موسیقی کی اعلٰی تعلیم کے لئے امریکہ آتا ہے اور وہاں آسٹن میری سیئر سے محبت اور شادی کر لیتا ہے۔ مگر ان میں محبت ہونے کا عمل کچھ ایسا پیش نہیں کیا گیا کہ سامعین اسے قابلِ یقین سمجھیں۔

پھر شان کو امریکی پولیس پکڑ لیتی ہے اور اس پر دہشت‌گرد ہونے کا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بناتی ہے۔ یہاں بھی معاملات گوانتامو بے اور ابوغریب سے نقل کئے گئے ہیں جو غلط نہیں۔ مگر اس سے یہ غلط تاثر ملتا ہے کہ امریکہ میں موجود پاکستانی یا مسلمان طلباء کے ساتھ ایسا کچھ سلوگ ستمبر 11 کے بعد ہوا تھا۔ اس وقت سینکڑوں لوگ پکڑے گئے جنہوں نے کسی قسم کی امیگریشن کے قوانین کی خلاف‌ورزی کی تھی اور انہیں مہینوں جیل میں رکھا گیا جہاں انہیں کچھ مارا پیٹا بھی گیا اور بعد میں زیادہ‌تر کو قوانین کی خلاف‌ورزی کی بنیاد پر ملک سے نکال دیا گیا۔ اس بارے میں امریکی حکومت اور دوسرے ادارے تحقیق کر چکے ہیں اور شاید میں بھی اس پر اپنے بلاگ پر لکھ چکا ہوں۔ بہرحال جیسے فلم میں شان پر شدید تشدد کیا گیا ویسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔

فلم کی موسیقی بھی سننے سے تعلق رکھتی ہے۔

میں اس فلم کو 10 میں سے 7 نمبر دیتا ہوں۔