ڈان

کافی عرصے بعد ہم نے بالی‌وڈ کی کوئی فلم دیکھی۔ یہ نئی ڈان ہے شاہ‌رخ خان والی۔ بالی‌وڈ کے سٹینڈرڈ کے حساب سے ٹھیک فلم ہے۔

پچھلے دنوں بہت عرصے بعد بالی‌وڈ کی کوئی فلم دیکھی۔ عنبر ایک دن ڈان کی ڈی‌وی‌ڈی اٹھا لائی۔ یہ امیتابھ بچن کی نہیں بلکہ نئی والی شاہرخ خان والی فلم ہے۔

اس میں شاہرخ خان کے دو رول ہیں: ایک معصوم اور دوسرا مجرم ماسٹرمائنڈ۔

فلم ٹھیک ہی ہے۔ عام بالی‌وڈ فلموں کی طرح اس کی کہانی کا اندازہ لگانا بھی بہت آسان ہے۔ میں اسے 10 میں سے 6 نمبر دیتا ہوں۔

عید مبارک

آپ سب کو عید مبارک۔

کہیں کل عید تھی۔ کچھ جگہوں پر آج عید ہے۔ کہیں کل ہو گی اور کہیں شاید اتوار کو بھی ہو۔ اس ساری کنفیوژن میں میں یہ بھول ہی گیا ہوں کہ ہم عید کب منا رہے ہیں۔ خیر عید اسی ویک‌اینڈ پر ہے۔ سو آپ سب کو عید مبارک۔

اس بار عنبر نے عید پر مشیل کے لئے غرارہ بنایا ہے اور اسے مہندی بھی لگائی ہے۔ میشل نے چوڑیاں بھی لی ہیں اپنے فیورٹ جامنی رنگ کی۔

اتوار کو ہم نے دوست یاروں کو دعوت پر بلایا ہوا ہے۔ امید ہے اچھا شغل رہے گا۔

کچھ روابط: اسلامی کیلنڈر اور چاند دیکھنا ، چاند نظر آنے سے متعلق دنیا کا نقشہ ، چاند نظر آنے سے متعلق ایک اور سائٹ ۔

It’s Eid today in some areas while others will celebrate it tomorrow. There might even be Eid on Sunday somewhere while Nigeria celebrated Eid yesterday. In all this confusion, I have forgotten when we are celebrating it. Anyway, it’s this weekend. So, a Happy Eid to everyone!

For the occasion, Amber has sewn a gharara for Michelle and done some henna designs on her hands. Michelle also bought some bangles, in purple of course since that’s her favorite color.

On Sunday, we are having some friends over for an Eid dinner.

UPDATE: Some links related to the Islamic calendar and moonsighting: US Naval Observatory’s page on the topic, Moonsighting curves on world map and another moonsighting calculation site. Also, see Robert Van Gent’s page on lunar visibility.

رمضان اور روش ہشانا مبارک

آج سے روزے شروع ہو گئے ہیں۔ رمضان مبارک۔ اور روش ہشانا یعنی نیا سال بھی مبارک۔

آج یہاں پہلا روزہ تھا۔ آپ سب کو رمضان مبارک ہو۔

ساتھ ہی آج عبرانی کیلنڈر کے نئے سال کا آغاز ہوا۔ آپ کو روش ہشانا بھی مبارک ہو۔ Shana Tova!

برقعہ اور جہاد

لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز نے دھمکیاں تو خودکش حملوں کی دی تھیں مگر خود برقعے میں بھاگنے کی کوشش کی۔

اسلام‌آباد میں لال مسجد میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ قابلِ افسوس ہے۔ 19 لوگوں کی موت کا سن کر ہی انسان پریشان ہو جاتا ہے۔ مگر اس سب کی ذمہ‌داری کافی حد تک آنٹی عبدالعزیز اور عبدالرشید پر آتی ہے۔ کچھ چینیوں کے اغواء کے بعد حکومت کا اپریشن یقینی تھا۔ مگر اس طرح کے حالات میں بھی کچھ باتیں انسان کو ہنسنے پر مجبور کر دیتی ہیں:

اسلام آباد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ برقعہ پہن کر مسجد سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ پولیس نے مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام حسن کو بھی گرفتار کر لیا۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ مولانا عبدالعزیز برقعہ پہن کر جامعہ حفصہ کی ان طالبات کی لائن میں کھڑے ہو گئے جنہوں نے حکومت کی طرف سے عام معافی کے اعلان کے بعد خود کو حکام کے حوالے کر دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تلاشی کے دوران لیڈی پولیس کانسٹیبل نے جب بظاہر ایک خاتون کا برقعہ اتارا تو اندر سے مولانا عبدالعزیزبرآمد ہوئے جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

اب میں کیا کہہ سکتا ہوں کہ کیا یہ وہی شخص ہے جس نے خودکش حملوں کی دھمکیاں دی تھیں؟

اپڈیٹ: یہ پوسٹ تو بس کچھ طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں کی تھی۔ لال مسجد کے سارے قصے کے بارے میں کہنے کو بہت کچھ ہے مگر کس کس کی غلطیاں نکالوں کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ اگر لال مسجد والے غلطی پر تھے تو حکومت نے بھی کچھ صحیح نہیں کیا۔

بش کے دیس میں خدا

امریکہ مذہبی ملک ہے۔ یہاں ایتھیئسٹ کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ خدا پر یقین کو اچھے انسان ہونے کے لئے لازمی قرار دیا جاتا ہے۔ ذاتی اور عوامی دائرہ‌کار میں ایتھیئسٹ کے بارے میں ایک عام امریکی کیا خیالات رکھتا ہے اس بارے میں کچھ سروے کے نتائج حاضر ہیں۔

بدتمیز نے اپنے بلاگ پر ایک سلسلہ شروع کیا تھا بش کے دیس میں جس میں وہ امریکہ کے بارے میں لکھتا ہے۔ پھر حال ہی میں بدتمیز نے پوچھا کہ خدا کیا ہے؟ ۔ اس سے مجھے اس پوسٹ کا خیال آیا۔

جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ مجھے امریکہ آنے سے پہلے اندازہ نہیں تھا کہ امریکی اتنے مذہبی ہوں گے۔ مگر یہاں آ کر احساس ہوا کہ یہاں atheist کافی کم ہیں اور عام لوگ انہیں اچھا بھی نہیں سمجھتے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اردو وکی‌پیڈیا کے افراز کی طرح بہت سے امریکی agnostic اور atheist میں فرق نہیں سمجھتے۔ ایسا نہیں ہے کہ atheists کے خلاف active hostility ہو مگر مذہبی لوگوں کا خیال ہے کہ خدا کو مانے بغیر انسان ایک اچھا انسان ہو ہی نہیں سکتا۔ شاید اسی قسم کی کوئی رائے پہلے صدر بش نے بھی دی تھی۔

پچھلے سال یونیورسٹی آف منیسوٹا نے ایک سٹڈی شائع کی جس کے مطابق ایتھیئسٹ امریکہ کی سب سے کم قابلِ بھروسہ اقلیت ہیں۔ اس سٹڈی کی تفصیلات کے مطابق امریکی نہ ایتھیئسٹ کو ووٹ دینا چاہتے ہیں، نہ اپنے بچے کی اس سے شادی کرنا چاہتے ہیں اور نہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایتھیئسٹ اور ان کا امریکہ کے لئے ایک ہی وژن ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان ساری باتوں میں ایتھیئسٹ مسلمانوں سے بھی بدتر سمجھے جاتے ہیں۔

گیلپ کے ایک سروے کے مطابق 2008 کے صدارتی انتخابات میں زیادہ‌تر لوگ کیتھولک، افریقی امریکی، یہودی، عورت،ہسپانک یا مورمن کو ووٹ دینے کو تیار ہیں مگر ایک ایتھیئسٹ کو صرف 45 ووٹ دینے کے بارے میں غور کریں گے۔ یہ ایک ہم‌جنس‌پرست سے بھی بری پرفارمنس ہے جسے 55 فیصد لوگ ووٹ دے سکتے ہیں۔ 1958 میں جب ایٹھیئسٹ صدارتی امیدوار کے بارے میں سروے کیا گیا تو صرف 18 فیصد اسے ووٹ دینے پر تیار تھے۔ یہ تناسب 1978 میں بڑھ کر 40 فیصد ہو گیا مگر اس کے بعد سے زیادہ نہیں بڑھا۔

اسی سال ایک اور سروے کے مطابق 32 فیصد ووٹر مورمن امیدوار کو ووٹ دینے سے کترائیں گے، 45 فیصد مسلمان صدارتی امیدوار کو ووٹ دینے سے کترائیں گے جبکہ 50 فیصد ایتھیئسٹ امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے۔ یہاں بھی ایتھیئسٹ مسلمان سے بھ بدتر ثابت ہوا۔

پیٹ ٹلمین ایک امریکی فٹبال کا کھلاڑی تھا جو فوج میں شامل ہوا اور افغانستان میں فرینڈلی فائر سے مارا گیا۔ پینٹاگون نے پہلے اس کو ہیرو قرار دیا اور کہا کہ وہ دشمن سے مقابلے میں مارا گیا۔ ٹلمین کی فیملی حقائق جاننے کی کوشش میں رہی اور اب بھی مزید کوشش جاری ہے جب اس کی موت سے متعلق کافی حقیقت سامنے آ چکی ہے۔ اس بارے میں یہ آرٹیکل کافی تفصیل بتاتا ہے۔ مگر ہم ایتھیئسٹس پر بات کر رہے تھے۔ اس آرٹیکل میں فوج کے ایک لیفٹیننٹ کرنل صاحب فرماتے ہیں کہ ٹلمین کی فیملی اس کی موت کی تفصیل اور ذمہ‌داری کے تعین پر اس لئے مصر ہے کہ وہ خدا پر یقین نہیں رکھتے اور اس لئے انہیں چین نہیں آ رہا۔ اس بیان سے کرنل کا ایتھیئسٹس کے خلاف تعصب صاف ظاہر ہے۔

یہ کیسا جہاد ہے

پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟ جہاد کے نام پر مسلمان کن کاموں میں پڑ چکے ہیں؟ کیا اسلام صرف سیاست اور تشدد ہی کا نام ہے؟

پاکستان کس طرف جا رہا ہے؟ اب تو وہاں کی خبریں ایسی ہی لگتی ہیں جیسے کسی اجنبی ملک کی۔ وقت کے ساتھ ساتھ روز پاکستانی اخبار پڑھنے کی عادت بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ مگر پھر بھی کچھ سن گن رہتی ہے اور کچھ جذبات بھی اس جگہ سے جہاں عمر کے بیس اکیس سال گزرے اور جہاں آج بھی بہت سے جاننے والے رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کچھ معلومات اور اندازے لگا سکتا ہوں پاکستان میں ہونے والے واقعات کے متعلق۔

پاکستان میں خودکش دھماکوں کا سلسلہ تو کچھ سالوں سے جاری تھا مگر اس سال اوپر تلے اسلام‌آباد، کھاریاں، کوئٹہ وغیرہ میں بم دھماکے ہوئے۔ کیا اب خودکش بمبار ساری دنیا میں پھیل جائیں گے؟ کیا یہی نتیجہ ہے فلسطین، افغانستان، کشمیر وغیرہ کے جہاد کا؟ یا یہ تامل ٹائیگرز کی پیروی ہے؟

فروری میں پنجاب کی صوبائی وزیر ظل ہما کو گجرانوالہ مسلم لیگ ہاؤس میں مجمع میں سے ایک شخص نے گول مار کر قتل کر دیا۔

پنجاب کی صوبائی وزیر ظل ہما کو قاتلانہ حملے میں ہلاک کرنے کے ملزم غلام سرور نے عدالت میں اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے یہ قتل کرکے جہاد کیا ہے اور اسے اس بات پر فخر ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم پانچ سال پہلے بھی لاہور اور گوجرانوالہ چھ ایسی خواتین کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ہوا تھا جنیں مبینہ طور پر کال گرل بتایا گیاتھا۔

پولیس کے مطابق غلام سرور بارہ جنوری دو ہزار تین کو گرفتار ہوا تھا لیکن مدعیوں کے اسے بے گناہ قرار دیئے جانے کے بعد دسمبر دو ہزار پانچ کو رہا ہو گیا تھا۔

وہ ایک بار حج اور دو بار عمرہ کرچکا ہے۔ اس کے نو بچے ہیں۔

اپریل سنہ دو ہزار پانچ میں گوجرانوالہ میں حکومت نے پہلی بار میراتھن منعقد کرائی تو ظل ہما نے اس کے انتظامات میں سرگرمی سے حصہ لیا تھا جبکہ مذہبی جماعتوں نے اس دوڑ کی سخت مخالفت کی تھی۔

اب ظل ہما کو قتل کرنے کی وجہ میراتھن تھی یا عورتوں سے غلام سرور کا عناد مگر یہ بات قابل غور ہے کہ ملزم کے نزدیک وہ جہاد کر رہا تھا۔ جہاد کی ایسی مثالیں مسلمانوں میں عام ہوتی جا رہی ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے اور مذہبی لوگ بھی جہاد کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور ہر فسادی کو محرب کی بجائے مجاہد سمجھتے ہیں۔

اب ہم آتے ہیں جامعہ حفصہ کی طالبات کی طرف جنہوں نے حکومت کی طرف سے غیرقانونی مساجد کے گرانے کے خلاف احتجاج کے طور پر ایک لائبریری پر قبضہ کر رکھا ہے۔ میں اسلام‌آباد کی مساجد کی قانونی حیثیت کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا اور نہ ہی میں حکومت کا حامی ہوں۔ پاکستان کی حکومت کام سوچ سمجھ کر اور صحیح طریقے سے نہیں کرتی اس لئے میں اس بات پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ البتہ کچھ دن پہلے ان طالبات نے جی سکس میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر وہاں کی عورتوں کو یرغمال بنا لیا۔

مدرسہ حفصہ کی انتظامیہ نے دھمکی دی ہے کہ اسلام آباد کے ایک مکان پر طالبات کے چھاپے اور تین خواتین کو یرغمال بنانے کے الزام میں گرفتار کی گئی چار استانیوں کو بدھ کی شام تک رہا نہ کیا گیا تو جہاد کا اعلان کر دیا جائے گا۔

مدرسے کی طالبات نے اسلام آباد کے ایک رہائشی علاقے جی سکس کے ایک مکان پر منگل کی شام کو چھاپہ مار کر ایک خاتون اور اس کی بہو اور بیٹی کو ’جنسی کاروبار میں ملوث ہونے پر‘ یرغمال بنا لیا تھا۔ مقامی پولیس نے طالبات کی طرف سے کی جانے والی اس کارروائی کے جواب میں مدرسے کی چار خواتین اساتذہ کو گرفتار کر لیا تھا۔

پولیس کی کارروائی کے بعد مدرسے کی سینکٹروں طالبات ڈنڈے اٹھا کر سڑک پر نکل آئیں۔ مشتعل طالبات نے جنھیں طلباء کی معاونت بھی حاصل تھی پولیس کی دو گاڑیوں کو ان کے ڈرائیوروں سمیت مدرسے کے احاطے میں بند کر دیا۔

مدرسے کے منتظم غازی عبدالرشید نے بعد ازاں ایک پریس کانفرنس کو بتایا کہ اسلام آباد کی رہائشی تین خواتین ان کے قبضے میں ہیں۔ انہوں نے مقامی انتظامیہ کو خبردار کیا کہ اگر فوری طور مدرسے کی چار اساتذہ کو رہا نہ کیا گیا تو جہاد کا اعلان کر دیا جائے گا۔

غازی عبدالرشید نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان خواتین پر زنا کے الزام میں مقدمات چلائے جائیں اور قرار واقعی سزائیں دی جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکام نے ان پر مقدمات دائر نہ کیئے تو مدرسے کے اندر قاضی عدالت قائم کی جائے گی اور شریعت کے مطابق انہیں سزائیں سنائی جائیں گی۔

اس مدرسے کی طالبات اور طلباء نے آبپارہ مارکیٹ میں واقع ویڈیو شاپس کے مالکان کو بھی خبردار کیا ہے کہ جنسی مواد پر مبنی سی ڈیز کی فروخت بند کردیں۔

جب غازی عبدالرشید سے پوچھا کہ ان کے مدرسے کی طالبات نے کس اختیار کے تحت کارروائی کی تو انہوں نے کہا کہ یہ اسلامی ملک ہے اور اسلام کہتا ہے کہ برائی کو روکیں۔

بعد میں پولیس نے مدرسے کی استانیوں کو رہا کر دیا اور طالبات نے بھی جن پولیس اہلکاروں کو پکڑ لیا تھا انہیں چھوڑ دیا گیا۔ کچھ دن بعد لال مسجد میں ایک پریس کانفرنس میں یرغمالی شمیم اختر کے اقبالِ جرم کے بعد ان خواتین کو چھوڑ دیا گیا۔ گھر پہنچنے کے بعد شمیم اختر نے کہا کہ وہ بیان تو اس سے زبردستی دلوایا گیا تھا۔

یہ اسلام‌آباد ہے پاکستان سے دس کلومیٹر باہر ۔ یہاں قانون کا کوئی پاس نہیں۔ حکومت شہریوں کی حفاظت کی بجائے نجانے کس کام میں مصروف ہے اور مذہبی جنونی جس کو چاہتے ہیں یرغمال بناتے ہیں جسے برا سمجھتے ہیں اسے دھمکیاں دیتے ہیں۔ بے‌گناہی کا انہیں کوئی پاس نہیں کہ innocent until proven guilty والا مقولہ انہوں نے کبھی نہیں سنا۔

یہ خبر پڑھتے ہوئے مجھے جامعہ حفصہ کے پرنسپل عبدالعزیز کا نام کچھ جانا پہچانا لگا۔ عبدالعزیز آجکل لال مسجد کے امام ہیں۔ جب میں پاکستان میں تھا تو ان کے والد عبداللہ وہاں کے امام تھے اور عبدالعزیز ایف 8 کی مسجد میں ہوتے تھے۔ یہ صاحب پڑھے لکھے اور مزاج میں سلجھے ہوئے انسان ہیں۔ مگر صد افسوس کہ ایسے ہی مسلمان ہمیں دہشت‌گردی میں ملوث نظر آتے ہیں۔ عبدالعزیز صاحب نوے کی دہائی میں افغانستان میں طالبان کے قصیدے پڑھا کرتے تھے اور ان کی مسجد میں اکثر حرکت الانصار (کشمیر میں حربی گروہ) کے ارکان اور کرتا دھرتا چندے مانگنے آیا کرتے تھے۔ آجکل بھی سنا ہے عبدالعزیز کی مسعود اظہر اور جیش محمد والوں سے گاڑھی چھنتی ہے۔ ایک بات کا خیال رہے کہ ایف 8 کی مسجد بھی شاید سرکاری تھی اور لال مسجد بھی۔ تو کیا عبدالعزیز ایک سرکاری ملازم ہیں؟ اور اگر ہیں تو کیسے جہاد کی کال دے رہے ہیں؟

آجکل جہاد کا نام آتا ہے تو ہمارے ذہن میں کچھ عجیب سا خاکہ بنتا ہے جس میں قتل و غارت کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ باقی دنیا کو چھوڑیں مسلمانوں کا یہی حال ہے بلکہ بہت سے مسلمان سیاست اور تشدد سے جہاد کا سرا باندھتے ہیں اور ایسے جہاد کو نہ ماننے والوں کو مسلمان ہی نہیں سمجھتے۔ حالانکہ اگر آپ شروع اسلام سے مسلمانوں کی تحاریر پڑھیں تو جہاد کے متعلق آپ کو کافی مختلف خیالات ملیں گے۔ آج کے مسلمان تو کچھ باتوں میں بالکل خوارج لگتے ہیں۔

ناپسندیدگیاں

آجکل کا اردو بلاگز کا میم ہے کہ اپنی ناپسندیدہ باتیں لکھیں۔ سو میں بھی لکھ رہا ہوں۔

بدتمیز نے مجھے ٹیگ کیا تھا کہ میں اپنی ناپسندیدہ باتیں لکھوں۔ دیر سے سہی مگر حاضر ہیں:

  1. گفتار کے غازی
  2. جنگ اور جہاد کے شیدائی
  3. بڑی بڑی جیپوں میں اکیلے لوگ
  4. نیکوکار جو اپنی نیکوکاری آپ پر جھاڑتے رہیں
  5. ہر مسئلے کے پیچھے سازش کا ہاتھ دیکھنے والے
  6. نسل‌پرست
  7. پاکستان کے اردو اخبار
  8. ٹی‌وی کی خبریں چاہے امریکہ میں چاہے پاکستان میں
  9. کاروں میں بہت اونچی موسیقی
  10. لوگوں میں قوتِ فیصلہ کی کمی
  11. روز صبح سویرے اٹھنا

میرا خیال ہے کہ سب اردو بلاگر ٹیگ ہو چکے ہیں اس لئے میں کسی کو ٹیگ نہیں کر رہا۔ اگر قارئین میں سے کوئی چاہے تو اپنے بلاگ پر اپنی ناپسندیدہ باتیں لکھ سکتا ہے۔

محفل اور سیارہ کی فیڈ اپنے بلاگ پر

اگر آپ اردو محفل یا اردو سیارہ کی تازہ پوسٹس کے روابط اپنے بلاگ پر دکھانا چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ کچھ مشکل نہیں اگر آپ موویبل ٹائپ، ورڈپریس یا ورڈپریس ڈاٹ کام پر بلاگ کرتے ہیں۔

اگر آپ میرے بلاگ کی سائیڈبار دیکھیں تو وہاں نیچے آپ کو اردو محفل اور اردو سیارہ کی تازہ‌ترین پوسٹس نظر آئیں گی۔ اس بات کی تجویز بدتمیز نے محفل پر پیش کی تھی۔ بدتمیز کی یہ تجویز مجھے پسند آئی اور میں نے سوچا کہ آپ میں سے کوئی اگر اپنے بلاگ پر محفل کی تازی تھریڈز دکھانا چاہے تو اس کا طریقہ بتا دوں۔

چونکہ میرا بلاگ موویبل ٹائپ پر ہے اس لئے پہلے اس کا طریقہ۔ اگر آپ موویبل ٹائپ کی ورژن 3.3 چلا رہے ہیں تو اس میں ایک پلگ‌ان ساتھ آتا ہے فیڈز ایپ لائٹ ۔ اسے استعمال کرنے کے لئے اپنے بلاگ کے مین مینو والے صفحے پر جائیں۔ وہاں آپ کو دائیں طرف نیچے Plugin Actions میں Create a Feed Widget کا ربط ملے گا۔ اسے کلک کریں۔ وہ آپ سے فیڈ کا یو‌آر‌ایل پوچھے گا۔ آپ درج ذیل یو‌آر‌ایل ٹائپ کریں:

http://www.urduweb.org/mehfil/forum_backend.php

خیال رہے کہ یہ وہ ر‌س‌س فیڈ نہیں ہے جو آپ محفل پر پوسٹس پڑھنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اس فیڈ میں تازہ تھریڈز کے ربط ہیں جبکہ پڑھنے والی فیڈ میں پوسٹس کے روابط۔

جب فیڈ کا ایڈریس دینے کے بعد آپ اگلے صفحے پر جائیں گے تو وہاں اس کا عنوان “اردو محفل” لکھا ہو گا۔ اسے ایسے ہی رہنے دیں اور یہ فیصلہ کریں کہ آپ اپنے بلاگ پر کتنی تھریڈز کے روابط چاہتے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ 5 یا 10 منتخب کریں۔ اب اسے سیو کر دیں۔ اس کے نتیجے میں ایک ٹمپلیٹ موڈیول بن جائے گا جس کا نام “Widget: اُردو محفل” ہو گا۔ اس ٹمپلیٹ میں یہ کوڈ ہو گا:

<div class="module-feed module">
<div class="module-content">
<MTFeed uri="http://www.urduweb.org/mehfil/forum_backend.php">
<h2 class="module-header">اُردو محفل</h2>
<ul><MTFeedEntries lastn="5">
<li><a href="<$MTFeedEntryLink encode_html="1"$>"><$MTFeedEntryTitle$></a></li>
</MTFeedEntries></ul>
</MTFeed>
</div>
</div>

اب آپ اپنی Main Index ٹمپلیٹ کھولیں اور سائیڈبار کے کوڈ میں جہاں آپ محفل کے روابط چاہتے ہیں وہاں یہ کوڈ پیسٹ کر دیں:

<$MTInclude module="Widget: اُردو محفل"$>

اب اس ٹمپلیٹ کو rebuild کریں تو آپ کو اپنے بلاگ پر محفل کی تازہ پوسٹس کے روابط نظر آئیں گے۔ یہ خیال رہے کہ اگر آپ موویبل ٹائپ کی static publishing استعمال کرتے ہیں تو یہ روابط صرف اس وقت تبدیل ہونگے جب آپ کی یہ ٹمپلیٹ rebuild ہوا کرے گی۔ میں اس وجہ سے اپنی سائیڈبار کو کرون جاب کے ذریعہ ہر گھنٹے بعد rebuild کرتا ہوں۔

اب آتے ہیں ورڈپریس کی طرف کہ بہت سے اردو بلاگ ورڈپریس استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ ورڈپریس میں اس کام کے لئے کئی پلگ‌ان ہیں مگر مجھے سائیڈر‌س‌س آسان لگا۔ سب سے پہلے اس پلگ‌ان کو ڈاؤنلوڈ کریں اور اس کی readme.txt میں دی گئی ہدایات کے مطابق اسے نصب کر لیں۔

ورڈپریس میں سائیڈ‌ر‌س‌س کو فعال کرنے کے بعد اوپر مینو میں Presentation پر کلک کریں اور پھر سب‌مینو میں Theme Editor پر۔ اب آپ اپنے تھیم کی Sidebar کو ایڈٹ کریں۔ اگر آپ ورڈپریس میں سے اس فائل کو ایڈٹ نہیں کر سکتے تو پھر ایف‌ٹی‌پی کے ذریعہ اپنا ورڈپریس کا فولڈر کھولیں اور اس میں wp-content/themes فولڈر میں اپنے تھیم کے فولڈر سے sidebar.php ڈاؤنلوڈ کریں۔ پھر اسے نوٹپیڈ یا کسی اور ایڈیٹر میں کھول لیں۔ اس فائل میں یہ لائن تلاش کریں:

<?php wp_list_bookmarks(); ?>

اور اگر آپ ورڈپریس کی 2.1 سے پرانی ورژن استعمال کر رہے ہیں تو یہ لائن ڈھونڈیں:

<?php get_links_list(); ?>

اس لائن کے بعد مندرجہ ذیل کوڈ پیسٹ کر دیں:

<li><?php echo ujc_siderss('http://www.urduweb.org/mehfil/forum_backend.php', 'اردو محفل', 5); ?></li>

اگر آپ ورڈپریس کے ایڈمن والے صفحے سے ایڈٹ کر رہے تھے تو فائل سیو کر لیں۔ اگر ایف‌ٹی‌پی استعمال کر رہے تھے تو فائل سیو کرنے کے بعد واپس سرور پر منتقل کر دیں۔ اب آپ کو محفل کی 5 تازہ‌ترین تھریڈز کے روابط اپنے بلاگ کی سائیڈبار پر نظر آئیں گے۔

ورڈپریس پر ایک اور بھی طریقہ ہے جو کافی کام کا ہے۔ اس کے لئے آپ وجیٹس پلگ‌ان ڈاؤنلوڈ کریں اور اس کی ہدایات کے مطابق نصب کریں۔ یہ صرف اسی صورت میں کام کرے گا اگر آپ کے بلاگ کی تھیم اس کے ساتھ موزوں ہے۔ اس پلگ‌ان کو نصب کرنے کے بعد ورڈپریس ڈاٹ کام والا نیچے دیا طریقہ استعمال کریں۔

اب آتے ہیں ان بلاگرز کی طرف جو ورڈپریس ڈاٹ کام استعمال کرتے ہیں۔ ان کے لئے طریقہ فرق ہے مگر کافی آسان بھی۔ اپنے بلاگ کے ایڈمن انٹرفیس میں مینو میں سے Presentation پر کلک کریں اور سب‌مینو میں Sidebar Widgets پر کلک کریں۔ وہاں آپ کو Available Widgets میں RSS 1 نامی ایک بلاک نظر آئے گا۔ اسے ماؤس سے کھینچ کر اوپر سائیڈبار والے بلاک میں لے آئیں۔ اب اس ر‌س‌س بلاک کے دائیں حصے میں کلک کریں تو اس کی آپشنز کی ونڈو کھل جائے گی۔ اس میں یو‌آر‌ایل کے خانے میں یہ لکھیں:

http://www.urduweb.org/mehfil/forum_backend.php

عنوان کے خانے میں “اردو محفل” اور تعداد کے باکس سے 5 کا انتخاب کریں۔ اب اس ونڈو کو بند کریں اور اپنی تبدیلیاں سیو کر لیں۔ اور بس!

اگر آپ محفل کے علاوہ اردو سیارہ کی نئی پوسٹس کو بھی اپنے بلاگ پر ظاہر کرنا چاہتے ہیں تو یہی ہدایات استعمال کریں مگر فیڈ کا یو‌آر‌ایل یہ ہو گا:

http://www.urduweb.org/planet/atom.xml

اگر آپ کو کوئی مشکل ہو تو اپنے تبصرے میں اس کی تفصیل بتائیں۔ میں کوشش کروں گا کہ آپ کی مدد کر سکوں۔

مزید درجن

آج میری سالگرہ ہے۔

یہ سال درجنوں کا سال ہے۔ ابھی پچھلے ہفتے ہم نے شادی کے 12 سال منائے تھے اور آج میری سالگرہ ہے۔ میری عمر اب تین درجن سال ہے۔ آج ہمارا سالگرہ گھر میں کیک کاٹ کر اور موم‌بتی بجھا کر منانے کا ہے کیونکہ مشیل ایک مہینے سے کیک اور موم‌بتی کے انتظار میں ہے۔

Baby me

Last week we celebrated a dozen years of marriage and today is my 36th birthday.

This year we are going to celebrate at home with a cake. Michelle has been excited about my birthdya for some time now. She wants a cake and even more than that, she wants to “blow a wish” i.e. a candle. This year, Michelle has been very much into birthdays. She likes the ones of other kids at her preschool as well as the ones of our friends’ kids. She was really happy about her own and has been mentioning her grandparents’, Amber’s and now mine for some time.

درجن

آج ہماری شادی کی بارہویں سالگرہ ہے۔ اسے منانے آج ہم سٹیک کھانے گئے اور سینما میں فلم دیکھی۔ فلم کا موضوع بھی محبت تھا اور میری آج کی پوسٹ کا بھی یہی موضوع ہے۔

درجن سال بہت ہوتے ہیں۔ بارہ سالوں میں دنیا بدل جاتی ہے۔ کہاں میں ایک 23 سالہ نوجوان تھا جو واہ کینٹ میں رہتا تھا اور کہاں اب 12 سال بعد شادی‌شدہ اور ایک بیٹی کا باپ اٹلانٹا میں۔

ایک شخص کے ساتھ 12 سال گزارنا بڑی بات ہے۔ ان سالوں میں محبت بھی بڑھتی ہے اور لڑائیاں بھی ہوتی ہیں۔ آپ ایک دوسرے کو مکمل طور پر جان لیتے ہیں جیسے کوئی اور نہیں جانتا۔

جب میں نے عنبر کے ساتھ اس سفر کا آغاز آج سے ٹھیک بارہ سال پہلے یکم دسمبر 1994 کو کیا تھا تو اندازہ بھی نہیں تھا کہ ان منزلوں سے بھی گزر ہو گا۔ سمجھتے تھے کہ ہمیں محبت ہے مگر شاید رائی برابر بھی پتا نہ تھا۔

آج اپنی شادی کی سالگرہ منانے ہم بونز ریستوران گئے جہاں کا سٹیک بہت مشہور ہے۔ واقعی بہت مزا آیا۔ اس کے بعد ہم کافی عرصہ بعد سینما میں فلم دیکھنے گئے۔ ارادہ تو جیمز بانڈ کی Casino Royaleدیکھنے کا تھا مگر دیکھی The Fountain۔ محبت، زندگی، موت اور روحانیت کی یہ کہانی معلوم نہیں آج کے دن کے لئے مناسب تھی یا نہیں مگر ہمیں کافی مزا آیا۔