ہفتہ بلاگستان: اردو بلاگنگ

ہفتہ بلاگستان کے سلسلے میں آج ہم اردو بلاگنگ کے حوالے سے گفتگو کریں گے اور یہ دیکھیں کہ اردو بلاگنگ آج بھی اتنی غیرمقبول کیوں ہے۔

ہفتہ بلاگستان کے سلسلے کی یہ تیسری قسط ہے۔ جیسا کہ خیال تھا شگفتہ یہ آئیڈیا پیش کرنے کے بعد سے گم ہیں اور ان کے اس سال بلاگنگ کے منظر پر واپس آنے کا کوئ چانس نہیں۔ شاید ایک دو صدیوں میں وہ اس ہفتہ بلاگستان کو بھی منا لیں۔

آج میں نقل مارنے کے ارادے سے آیا ہوں اور اردوویب بلاگ پر اپنی ایک تحریر کا زیادہ حصہ (مختلف اضافوں کے ساتھ) یہاں بھی نقل کر رہا ہوں۔

پہلی اہم بات یہ ہے کہ جب آپ کوئی پوسٹ لکھیں تو اخبار یا بلاگ کو حوالہ دیں اور اس خبر یا پوسٹ کو لنک کریں۔ یہ خیال رہے کہ لنک اخبار یا بلاگ کے ہوم پیج کا نہ ہو بلکہ سیدھا اس صفحے کی طرف جاتا ہو جو آپ کے زیرِ بحث ہے۔ اسی طرح اگر آپ کسی ویب سائٹ یا کسی بلاگر کا ذکر کرتے ہیں تو ان کا لنک بھی اپنی پوسٹ میں شامل کریں۔ یاد رہے کہ آپ کی سائڈبار میں موجود لنک بہت کم لوگ فالو کرتے ہیں مگر پوسٹ میں لنک زیادہ‌تر قارئین فالو کرتے ہیں۔

اسی طرح جب آپ کسی بلاگ پوسٹ کا جواب لکھیں تو لنک کے ساتھ ساتھ اس کا ایسا اقتباس بھی اپنی پوسٹ میں شامل کریں تاکہ گفتگو سمجھنے میں آسانی رہے۔ یہی نکتہ اخبارات کی خبروں کے لئے بھی ہے۔ پوری خبر یا پوسٹ کبھی شامل نہ کریں بلکہ صرف اقتباس دیں۔ اس اقتباس کو اپنے بلاگ پر اپنی تحریر سے نمایاں کریں۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ اس اقتباس کے گرد <blockquote> ٹیگ ڈالیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آپ کی تحریر کونسی ہے اور کسی اور کی کونسی۔

ایک اور چیز ہر پوسٹ کے ساتھ اس سے متعلقہ پوسٹس کے روابط ہیں۔ اس کے لئے ٹیگز اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اپنے بلاگ پر آپ کسی قسم کا ہٹ کاونٹر ضرور لگائیں۔ اس کے لئے میں سائٹ‌میٹر تجویز کرتا ہوں۔ اس کی پرائیویسی سیٹنگ ایسی رکھیں کہ تمام قارئین اس کا سمری پیج دیکھ سکیں۔ اس طرح عوام یہ جان سکیں گے کہ آپ کا بلاگ روزانہ کتنے لوگ پڑھتے ہیں مگر تفصیلی ڈیٹا صرف آپ ہی دیکھ سکیں گے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سائٹ‌میٹر میں اپنے وزٹ اگنور کرنے کی بھی آپشن ہے۔ یہ ضرور سیٹ کریں تاکہ جب آپ اپنے بلاگ پر جائیں تو وہ شمار نہ ہو۔

اپنے بلاگ کی مقبولیت بڑھانے کے لئے اس کے علاوہ بھی کئی چیزیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ باقاعدگی سے بلاگ پر لکھیں۔ میں نے نوٹ کیا ہے کہ دو تین بلاگرز کو چھوڑ کر باقی اردو بلاگر مہینے میں دو تین سے زیادہ بار نہیں لکھتے۔ دوسرے بلاگز پر تبصرہ کریں اور ان کی تحریروں پر اپنے بلاگ میں لکھیں۔ جب کسی دوسرے بلاگ پر تبصرہ کریں تو اپنے بلاگ کا لنک یو‌آر‌ایل فیلڈ میں ضرور دیں۔ دوسرے بلاگز کے ساتھ گفتگو بلاگ کی دنیا کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ صرف اردو بلاگز ہی تک محدود نہ رہیں بلکہ انگریزی اور دوسری زبانوں کے بلاگز پر بھی تبصرے کریں خاص طور پر پاکستانی انگریزی بلاگز پر تاکہ گفتگو کا دائرہ بڑھ سکے۔ اگر آپ کسی بلاگ پر باقاعدگی سے تبصرے کرتے ہیں تو ممکن ہے وہاں سے کئی قارئین آپ کے بلاگ پر آئیں اور یہ بھی کہ وہ بلاگر آپ کی کسی پوسٹ کے بارے میں لکھے۔

اپنے بلاگ پر ایک صفحہ اپنے بارے میں ضرور شامل کریں جس میں کم از کم آپ کے بارے میں ایسی معلومات ہوں جس سے قاری کو آپ اور آپ کے بلاگ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ ضروری نہیں کہ یہاں آپ اپنی سوانح حیات اور اصل نام ہی لکھیں مگر اپنے بارے میں لکھیں۔ ساتھ ہی خود سے رابطہ کرنے کا کوئی طریقہ بھی فراہم کریں۔

دو سال پہلے کی طرح آج بھی میرا یہی خیال ہے کہ اردو بلاگنگ ابھی کہیں نہیں جا رہی۔ چھ سالوں میں شاید چند سو بلاگ ہیں۔ اس کے مقابلے میں کل بلاگ ہر چار پانچ ماہ میں دوگنے ہو جاتے ہیں۔ پاکستانی انگریزی بلاگ لے لیں یا فارسی بلاگ یا انڈین بلاگ سب ہی انتہائی تیزی سے بڑھے ہیں۔ ان سب کی exponential growth ہے جبکہ اردو بلاگز کی linear growth ۔ یہ بات پریشان‌کن ہے۔ لیکن اس سے زیادہ پریشان کرنے والی بات یہ ہے کہ اردو بلاگ یا فورمز کے قارئین بہت کم ہیں اور بہت سستی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایک عام اردو بلاگ کو 20 سے 30 قاری روزانہ پڑھتے ہیں اور زیادہ اردو بلاگز کو پڑھنے والے وہی لوگ ہیں یعنی تمام اردو بلاگز کے قاری اکٹھے کئے جائیں تو شاید چند سو سے زیادہ نہ ہوں۔ ایسی صورت میں نئے اردو بلاگز کہاں سے آئیں گے؟ اس اعداد و شمار کا مقابلہ بڑے بڑے بلاگز کی بجائے عام پاکستانی انگریزی بلاگ سے بھی کیا جائے تو شرمندگی ہی ہوتی ہے۔

اگرچہ پچھلے کچھ سالوں میں اردو بلاگز کے موضوعات میں اضافہ ہوا ہے مگر آج بھی زیادہ سیاست، مذہب، ادب اور ذاتی ڈائری ہی پر بلاگنگ عام ہے۔ کدھر ہیں معاشیات، معاشرتی علوم، فنون لطیفہ، سیاحت، فوٹوگرافی، بےبی بلاگ، مخلتف مشاغل پر بلاگ؟ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ان متنوع موضوعات کی کمیونٹیز کہاں ہیں؟

ایک بات خوش‌آئیند ہے کہ حال میں اردو بلاگرز کے درمیان گفتگو میں اضافہ ہوا ہے۔ اب بلاگرز ایک دوسرے کی تحریر کا جواب اپنے بلاگ پر دے رہے ہیں۔

اردو بلاگستان کی جب بھی بات آتی ہے تو لوگ ضابطہ اخلاق کی بات کرتے ہیں۔ تمیز اور انسانیت انتہائ اہم ہیں مگر بلاگنگ کے ضابطہ اخلاق کی بات کچھ عجیب لگتی ہے۔ یہ ضابطہ کوئ کسی پر لاگو نہیں کر سکتا۔ ہاں ہر شخص کو اپنی آن‌لائن اور آف‌لائن زندگی میں اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔ اگر آپ بلاگنگ کا ضابطہ اخلاق ہی چاہتے ہیں تو کوئ اردو بلاگنگ کا شہزادہ ان دو ضابطہ اخلاق کا ترجمہ کر دے۔

نیٹ پر اردو لکھنے اور پڑھنے والوں کی طرف سے نستعلیق فونٹ کی طرف شدید رجحان یہاں تک کہ وہ نسخ میں اردو پڑھنا لکھنا ہی گوارا نہیں کرتے آج تک میری سمجھ میں نہیں آیا۔ لوگ اس وجہ سے آج تک انپیج استعمال کر کے اردو تحریر کا امیج آن‌لائن پوسٹ کرتے ہیں۔ اب تو خیر چند نستعلیق فونٹ بھی میدان میں آ گئے ہیں۔

Author: Zack

Dad, gadget guy, bookworm, political animal, global nomad, cyclist, hiker, tennis player, photographer

6 thoughts on “ہفتہ بلاگستان: اردو بلاگنگ”

  1. بہت اچھی تحریر ہے زیک بھائی ۔

    اردو بلاگنگ کو آسان فہم طریقہ سے پیش نہیں کیا جا رہا ۔۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اردو میں منفرد بلاگز شاید کم ہیں جیسے کہ بے بی بلاگ وغیرہ ۔

  2. آپ نے متنوع موضوعات کی بات کی ہے لیکن ابھی چار مہینے کے بلاگنگ تجربے میں، میں نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ اردو پڑھنے والے متنازع مسائل میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ ابھی میرے ایک ساتھی بلاگر کو سو کے قریب تبصرہ جات ملے مشرف کی وجہ سے۔ اور اس کے مقابلے میں کسی اور موضوع کو ڈالیں بہت کم دلچسپی سامنے آتی ہے۔ آپ نے انگریزی بلاگنگ کا حوالہ دیا ہے۔ یہ بھی ایک دلچسپ امر ہے کہ پاکستانی انگریزی بلاگنگ، انگریزی جرنلزم اور انگریزی ادب سب اپنے روئیے میں پاکستانی اردو سے تعلق رکھنے والے ذرائع سے بہت حد تک الگ ، بالغ اور مہم جو ہوتے ہیں۔ یہ اتنے الگ ہوتے ہیں کہ سوچنا پڑتا ہے کہ کیا اردو والے ان موضوعات پہ قلم اٹھا سکتے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ اسکی مختلف وجوہات پر اردو بلاگرز کو بات کرنا چاہئیے۔ اردو ہماری قومی زبان ہے اور اسے ہر ایک سمجھتا ہے اگر ہم سمجھتے ہیں کہ بحیثیت قوم ہمیں تبدیلیوں کی ضرورت ہے تو یہ تبدیلی کا عمل ہم اپنی اس دنیا سے شروع کر سکتے ہیں۔ انگریزی کے مقابلے پہ آنے کے لئے ہمیں بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔

  3. ملکی ذرائع ابلاغ کی بے راہ روی اور تعلیمی اداروں میں تربیت کے فقدان کا نتیجہ ہے کہ اکثر ہموطن دنگا فساد دیکھنا اور متنازع کردار پڑھنا پسند کرتے ہیں ۔ سنجیدہ تحاریر سے شاید انہیں زکام یا سردرد ہو جاتا ہے

Comments are closed.