یہ کیسا جہاد ہے

پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟ جہاد کے نام پر مسلمان کن کاموں میں پڑ چکے ہیں؟ کیا اسلام صرف سیاست اور تشدد ہی کا نام ہے؟

پاکستان کس طرف جا رہا ہے؟ اب تو وہاں کی خبریں ایسی ہی لگتی ہیں جیسے کسی اجنبی ملک کی۔ وقت کے ساتھ ساتھ روز پاکستانی اخبار پڑھنے کی عادت بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ مگر پھر بھی کچھ سن گن رہتی ہے اور کچھ جذبات بھی اس جگہ سے جہاں عمر کے بیس اکیس سال گزرے اور جہاں آج بھی بہت سے جاننے والے رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کچھ معلومات اور اندازے لگا سکتا ہوں پاکستان میں ہونے والے واقعات کے متعلق۔

پاکستان میں خودکش دھماکوں کا سلسلہ تو کچھ سالوں سے جاری تھا مگر اس سال اوپر تلے اسلام‌آباد، کھاریاں، کوئٹہ وغیرہ میں بم دھماکے ہوئے۔ کیا اب خودکش بمبار ساری دنیا میں پھیل جائیں گے؟ کیا یہی نتیجہ ہے فلسطین، افغانستان، کشمیر وغیرہ کے جہاد کا؟ یا یہ تامل ٹائیگرز کی پیروی ہے؟

فروری میں پنجاب کی صوبائی وزیر ظل ہما کو گجرانوالہ مسلم لیگ ہاؤس میں مجمع میں سے ایک شخص نے گول مار کر قتل کر دیا۔

پنجاب کی صوبائی وزیر ظل ہما کو قاتلانہ حملے میں ہلاک کرنے کے ملزم غلام سرور نے عدالت میں اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے یہ قتل کرکے جہاد کیا ہے اور اسے اس بات پر فخر ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم پانچ سال پہلے بھی لاہور اور گوجرانوالہ چھ ایسی خواتین کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ہوا تھا جنیں مبینہ طور پر کال گرل بتایا گیاتھا۔

پولیس کے مطابق غلام سرور بارہ جنوری دو ہزار تین کو گرفتار ہوا تھا لیکن مدعیوں کے اسے بے گناہ قرار دیئے جانے کے بعد دسمبر دو ہزار پانچ کو رہا ہو گیا تھا۔

وہ ایک بار حج اور دو بار عمرہ کرچکا ہے۔ اس کے نو بچے ہیں۔

اپریل سنہ دو ہزار پانچ میں گوجرانوالہ میں حکومت نے پہلی بار میراتھن منعقد کرائی تو ظل ہما نے اس کے انتظامات میں سرگرمی سے حصہ لیا تھا جبکہ مذہبی جماعتوں نے اس دوڑ کی سخت مخالفت کی تھی۔

اب ظل ہما کو قتل کرنے کی وجہ میراتھن تھی یا عورتوں سے غلام سرور کا عناد مگر یہ بات قابل غور ہے کہ ملزم کے نزدیک وہ جہاد کر رہا تھا۔ جہاد کی ایسی مثالیں مسلمانوں میں عام ہوتی جا رہی ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے اور مذہبی لوگ بھی جہاد کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور ہر فسادی کو محرب کی بجائے مجاہد سمجھتے ہیں۔

اب ہم آتے ہیں جامعہ حفصہ کی طالبات کی طرف جنہوں نے حکومت کی طرف سے غیرقانونی مساجد کے گرانے کے خلاف احتجاج کے طور پر ایک لائبریری پر قبضہ کر رکھا ہے۔ میں اسلام‌آباد کی مساجد کی قانونی حیثیت کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا اور نہ ہی میں حکومت کا حامی ہوں۔ پاکستان کی حکومت کام سوچ سمجھ کر اور صحیح طریقے سے نہیں کرتی اس لئے میں اس بات پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ البتہ کچھ دن پہلے ان طالبات نے جی سکس میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر وہاں کی عورتوں کو یرغمال بنا لیا۔

مدرسہ حفصہ کی انتظامیہ نے دھمکی دی ہے کہ اسلام آباد کے ایک مکان پر طالبات کے چھاپے اور تین خواتین کو یرغمال بنانے کے الزام میں گرفتار کی گئی چار استانیوں کو بدھ کی شام تک رہا نہ کیا گیا تو جہاد کا اعلان کر دیا جائے گا۔

مدرسے کی طالبات نے اسلام آباد کے ایک رہائشی علاقے جی سکس کے ایک مکان پر منگل کی شام کو چھاپہ مار کر ایک خاتون اور اس کی بہو اور بیٹی کو ’جنسی کاروبار میں ملوث ہونے پر‘ یرغمال بنا لیا تھا۔ مقامی پولیس نے طالبات کی طرف سے کی جانے والی اس کارروائی کے جواب میں مدرسے کی چار خواتین اساتذہ کو گرفتار کر لیا تھا۔

پولیس کی کارروائی کے بعد مدرسے کی سینکٹروں طالبات ڈنڈے اٹھا کر سڑک پر نکل آئیں۔ مشتعل طالبات نے جنھیں طلباء کی معاونت بھی حاصل تھی پولیس کی دو گاڑیوں کو ان کے ڈرائیوروں سمیت مدرسے کے احاطے میں بند کر دیا۔

مدرسے کے منتظم غازی عبدالرشید نے بعد ازاں ایک پریس کانفرنس کو بتایا کہ اسلام آباد کی رہائشی تین خواتین ان کے قبضے میں ہیں۔ انہوں نے مقامی انتظامیہ کو خبردار کیا کہ اگر فوری طور مدرسے کی چار اساتذہ کو رہا نہ کیا گیا تو جہاد کا اعلان کر دیا جائے گا۔

غازی عبدالرشید نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان خواتین پر زنا کے الزام میں مقدمات چلائے جائیں اور قرار واقعی سزائیں دی جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکام نے ان پر مقدمات دائر نہ کیئے تو مدرسے کے اندر قاضی عدالت قائم کی جائے گی اور شریعت کے مطابق انہیں سزائیں سنائی جائیں گی۔

اس مدرسے کی طالبات اور طلباء نے آبپارہ مارکیٹ میں واقع ویڈیو شاپس کے مالکان کو بھی خبردار کیا ہے کہ جنسی مواد پر مبنی سی ڈیز کی فروخت بند کردیں۔

جب غازی عبدالرشید سے پوچھا کہ ان کے مدرسے کی طالبات نے کس اختیار کے تحت کارروائی کی تو انہوں نے کہا کہ یہ اسلامی ملک ہے اور اسلام کہتا ہے کہ برائی کو روکیں۔

بعد میں پولیس نے مدرسے کی استانیوں کو رہا کر دیا اور طالبات نے بھی جن پولیس اہلکاروں کو پکڑ لیا تھا انہیں چھوڑ دیا گیا۔ کچھ دن بعد لال مسجد میں ایک پریس کانفرنس میں یرغمالی شمیم اختر کے اقبالِ جرم کے بعد ان خواتین کو چھوڑ دیا گیا۔ گھر پہنچنے کے بعد شمیم اختر نے کہا کہ وہ بیان تو اس سے زبردستی دلوایا گیا تھا۔

یہ اسلام‌آباد ہے پاکستان سے دس کلومیٹر باہر ۔ یہاں قانون کا کوئی پاس نہیں۔ حکومت شہریوں کی حفاظت کی بجائے نجانے کس کام میں مصروف ہے اور مذہبی جنونی جس کو چاہتے ہیں یرغمال بناتے ہیں جسے برا سمجھتے ہیں اسے دھمکیاں دیتے ہیں۔ بے‌گناہی کا انہیں کوئی پاس نہیں کہ innocent until proven guilty والا مقولہ انہوں نے کبھی نہیں سنا۔

یہ خبر پڑھتے ہوئے مجھے جامعہ حفصہ کے پرنسپل عبدالعزیز کا نام کچھ جانا پہچانا لگا۔ عبدالعزیز آجکل لال مسجد کے امام ہیں۔ جب میں پاکستان میں تھا تو ان کے والد عبداللہ وہاں کے امام تھے اور عبدالعزیز ایف 8 کی مسجد میں ہوتے تھے۔ یہ صاحب پڑھے لکھے اور مزاج میں سلجھے ہوئے انسان ہیں۔ مگر صد افسوس کہ ایسے ہی مسلمان ہمیں دہشت‌گردی میں ملوث نظر آتے ہیں۔ عبدالعزیز صاحب نوے کی دہائی میں افغانستان میں طالبان کے قصیدے پڑھا کرتے تھے اور ان کی مسجد میں اکثر حرکت الانصار (کشمیر میں حربی گروہ) کے ارکان اور کرتا دھرتا چندے مانگنے آیا کرتے تھے۔ آجکل بھی سنا ہے عبدالعزیز کی مسعود اظہر اور جیش محمد والوں سے گاڑھی چھنتی ہے۔ ایک بات کا خیال رہے کہ ایف 8 کی مسجد بھی شاید سرکاری تھی اور لال مسجد بھی۔ تو کیا عبدالعزیز ایک سرکاری ملازم ہیں؟ اور اگر ہیں تو کیسے جہاد کی کال دے رہے ہیں؟

آجکل جہاد کا نام آتا ہے تو ہمارے ذہن میں کچھ عجیب سا خاکہ بنتا ہے جس میں قتل و غارت کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ باقی دنیا کو چھوڑیں مسلمانوں کا یہی حال ہے بلکہ بہت سے مسلمان سیاست اور تشدد سے جہاد کا سرا باندھتے ہیں اور ایسے جہاد کو نہ ماننے والوں کو مسلمان ہی نہیں سمجھتے۔ حالانکہ اگر آپ شروع اسلام سے مسلمانوں کی تحاریر پڑھیں تو جہاد کے متعلق آپ کو کافی مختلف خیالات ملیں گے۔ آج کے مسلمان تو کچھ باتوں میں بالکل خوارج لگتے ہیں۔