ہفتہ بلاگستان: یوم بچپن

سنا ہے کہ اردو بلاگرز کی دنیا میں ہفتہ بلاگستان منایا جا رہا ہے۔ پہلی قسط بچپن کے بارے میں ہے۔ ہم ٹھہرے اردو لکھنے سے بھاگنے والے سو تصاویر پوسٹ کر کے جان چھڑا رہے ہیں۔

شگفتہ نے بلاگستان کا ہفتہ منانے کا آئیڈیا پیش کیا جو کسی طرح دو ہفتے پر پھیل گیا۔ تمام پروگرام کی تفصیل منظرنامہ پر ہے۔ میرا تو ارادہ تھا کہ اسے چپکے سے نکل جانے دوں کہ عرصہ ہوا آن ڈیمانڈ بلاگنگ نہیں کی اور نہ ہی اردو میں بلاگ پر کھ لکھا ہے مگر پھر بدتمیز نے ایم‌ایس‌این پر کان کھائے اور میں نے یہ پوسٹ لکھ ڈالی۔

میری یادداشت کافی خراب ہے اس لئے بچپن کا واقعہ تو نہیں سنا سکتا البتہ کچھ تصاویر جو حال ہی میں ابو نے سکین کر کے بھیجی ہیں وہ پوسٹ کر رہا ہوں۔

1 day old
Baby Zack
Baby Zack
Baby Zack
Zack and his mom
First step
3rd birthday
Riding
In qameez shalwar
In Nathiagali
Tricycle
At Jahangir Tomb
Zack and cousin
5th birthday
With siblings
Lahore zoo
With elephant
 

تمام تصاویر عمر کی ترتیب سے نہیں ہیں۔ کوشش کروں گا کہ انہیں درست ترتیب میں کر دوں۔

حج مبارک

آپ سب کو حج اور عید مبارک ہو۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ سے حج یا عمرہ کرنے کی شرائط میں کیا کیا شامل ہے۔

آج عرفات کے میدان میں حج ہے۔ حج مبارک!

چاہے آپ آج عید منا رہے ہیں یا 21 تاریخ کو آپ سب کو عید مبارک ہو۔

امریکہ سے حج کے متعلق معلومات حاصل کرتے ہوئے یہاں کی ایک مسجد سے کچھ عجیب باتیں پتہ چلیں۔

If you are not carrying a Muslim name, a certificate from the Imam of your mosques indicating that you are a Muslim is required.

یہ مسلمان نام کیا ہوتا ہے؟ اس بارے میں میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں۔ اور اگر ان عقلمندوں کے نزدیک آپ کا نام مسلمان والا نہیں ہے تو پھر آپ کو مسجد سے اپنے مسلمان ہونے کا سرٹیفیکیٹ لانا ہو گا۔ واہ کیا بات ہے!! کیا واقعی لاکھوں غیرمسلم حج اور عمرے پر جانے کے لئے اتنے بےتاب ہیں کہ ان اقدامات کی ضرورت پیش آئی؟ مسجد والے آپ کو کیسے سرٹیفکیٹ دیں گے؟ کیا آپ کا اسلام کے متعلق ٹیسٹ ہو گا؟ یا ضروری ہے کہ آپ سال بھر اس مسجد میں جاتے رہے ہوں؟ اگر ایک شخص کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور حج کرنے جانا چاہتا ہوں تو ہم اس کا یقین کیوں نہیں کر لیتے؟ کیا یہ امریکہ اور مغرب کے مسلمانوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہے کہ پاکستان اور دوسرے مسلمان ممالک میں تو ایسی کوئی شرائط نہیں؟

اس شرط پر تو ہم بھی پورے نہیں اترتے کہ مشیل کے لئے مسلمان ہونے کا سرٹیفکیٹ لینا پڑے گا اور میں مسجد سے ایسا سرٹیفکیٹ تو کبھی نہیں لوں گا۔

Women traveling alone without husband, brother or adolescent son, a NOTARIZED permission letter is required from the husband, brother, or adolescent son, indicating that he has no objection and permits her to travel for (Hajj/Umra) .

خواتین کے اکیلے سفر پر جو قدغن ہے اس کی ہم آج بات نہیں کرتے۔ نہ ہی ہم حقوقِ نسواں کی بات کریں گے۔ مگر اوپر کی شرط پر غور کریں۔ باپ، شوہر یا بھائی کی اجازت کی بات بھی مان لیتے ہیں۔ جوان بیٹے پر کچھ اعتراض ہے مگر اسے بھی جانے دیتے ہیں۔ مگر یہاں تو ٹین‌ایجر بیٹے کی بھی اجازت درکار ہے! خیال رہے کہ یہ وہی ٹین‌ایجر بیٹا ہے جو معاشرے میں کچھ بھی خود سے نہیں کر سکتا اور اسے اپنے والدین کی اجازت کی ضرورت قدم قدم پر ہوتی ہے۔ اس ٹین‌ایجر بیٹے کی اجازت لینا عورت کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ یعنی عورت کی حیثیت ایک ٹین‌ایجر لڑکے سے بھی گئی گزری ہے۔

سقوطِ ڈھاکہ

آج 16 دسمبر ہے۔ آج سے 36 سال پہلے پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈالے اور بنگلہ‌دیش دنیا میں نمودار ہوا۔ چلیں اس تاریخ کو کچھ کھنگالیں کہ شاید ہم کچھ سیکھ سکیں۔

آج 16 دسمبر ہے۔ آج سے 36 سال پہلے پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈالے اور بنگلہ‌دیش دنیا میں نمودار ہوا۔

Gen Niazi signing instruments of surrender

چلیں اس تاریخ کو کچھ کھنگالیں کہ شاید ہم کچھ سیکھ سکیں۔

پانچ سال پہلے جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں نیشنل سیکورٹی آرکائیوز نے 1971 میں مشرقی پاکستان اور بنگلہ‌دیش سے متعلق کچھ امریکی دستاویزات ویب پر شائع کی تھیں۔ ان دستاویزات سے کچھ اقتباسات کے ترجمے پیشِ خدمت ہیں۔

دستاویز 1 مورخہ 28 مارچ جو ڈھاکہ میں امریکی قونصلخانے سے بھیجی گئی:

یہاں ڈھاکہ میں ہم پاکستانی فوج کے دہشت کے راج کے گونگے اور پریشان شاہد ہیں۔ شواہد سامنے آ رہے ہیں کہ پاکستانی حکام کے پاس عوامی لیگ کے حمایتیوں کی فہرستیں ہیں جنہیں وہ باقاعدہ طور پر ان کے گھروں میں ڈھونڈ کر گولی مار رہے ہیں۔ عوامی لیگ کے لیڈروں کے علاوہ سٹوڈنٹ لیڈر اور یونیورسٹی کے اساتذہ بھی ان کے نشانے پر ہیں۔

دستاویز 4 جو 30 مارچ کو ڈھاکہ قونصلخانے سے ڈھاکہ یونیورسٹی میں قتل و غارت کے متعلق ہے۔

ایف‌اے‌او کے ساتھ کام کرنے والے ایک امریکی نے ڈھاکہ یونیورسٹی کے اقبال ہال میں 25 طلباء کی لاشیں دیکھیں۔ اسے رقیہ گرلز ہال کے بارے میں بتایا گیا جہاں فوج نے عمارت کو آگ لگائی اور پھر بھاگتی لڑکیوں کو مشین‌گن سے مار دیا۔ اندازہ ہے کہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں کل 1000 لوگوں کو مار دیا گیا۔

دستاویز 5 31 مارچ کو بھیجی گئی:

آرمی اپریشن کے نتجے میں مرنوں والوں کی تعداد کا اندازہ لگانا ابھی مشکل ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی میں مرنے والے سٹوڈنٹس کی تعداد کا سب سے محتاط اندازہ 500 ہے اور 1000 تک جاتا ہے۔ پولیس کے ذرائع کے مطابق 25 مارچ کی رات کی شدید لڑائی میں 600 سے 800 پاکستانی پولیس والے مارے گئے۔ پرانا شہر جہاں فوج نے ہندو اور بنگالی علاقوں کو آگ لگائی اور پھر مکینوں کو گولیاں ماریں وہاں مرنے والوں کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ عینی شاہد ان مرنے والوں کی تعداد 2000 سے 4000 تک بتاتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اس وقت تک فوجی ایکشن کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد شاید 4000 سے 6000 تک ہے۔ ہمیں علم نہیں کہ کتنے فوجی مر چکے ہیں۔

دستاویز 6 بھی پڑھیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندو خاص طور پر پاکستانی فوج کا نشانہ تھے اور کیسے خواتین ریپ کا شکار ہوئیں۔

کچھ بنگالی بزنسمین جو عوامی لیگ کے حامی نہیں ہیں انہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں رقیہ ہال میں 6 لڑکیوں کی ننگی لاشیں دیکھیں جنہیں زنا بالجبر اور گولی مارنے کے بعد پنکھوں سے لٹکا دیا گیا تھا۔ یونیورسٹی میں دو اجتماعی قبریں بھی ہیں جن میں سے ایک میں 140 لاشیں پائی گئیں۔

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ویب سائٹ پر آپ 1971 سے متعلق بہت سی امریکی دستاویزات پڑھ سکتے ہیں۔

جنگ کے اختتام کے بعد پاکستانی حکومت نے حمود الرحمان کمیشن قائم کیا جس کا مقصد اس ساری صورتحال کے بارے میں تفتیش کرنا تھا۔ اس کمیشن کی رپورٹ سالہا سال تک پاکستانی حکمرانوں نے چھپائے رکھی۔ پھر اگست 2000 میں اس رپورٹ کا ایک حصہ انڈیا ٹوڈے نے چھاپ دیا۔ اس کے بعد پاکستانی حکومت نے رپورٹ کے کچھ حصے حذف کر کے باقی کی رپرٹ شائع کر دی جسے آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ اس وقت اس کا اردو ترجمہ جنگ اخبار میں چھپا جس کا کچھ حصہ آپ اردو محفل پر پڑھ سکتے ہیں۔

حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پڑھتے ہوئے حیرت ہوتی ہے کہ پاکستانی حکمرانوں نے اسے کیوں 28 سال تک چھپائے رکھا۔ ویسے تو رپورٹ اچھی ہے اور کئی فوجی کمانڈرز کو موردِ الزام ٹھہراتی ہے مگر کچھ لطیفے بھی ہیں۔

مثال کے طور پر پاکستانی فوج کے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ حیرانی کا اظہار کرتی ہے کہ پاکستانی فوج 9 ماہ میں 3 ملین لوگوں کو کیسے مار سکتی تھی اور جی‌ایچ‌کیو کی بات ماننے میں عار محسوس نہیں کرتی کہ فوج نے صرف 26 ہزار بنگالی مارے۔ مگر ساتھ ہی یہ دعوٰی بھی کرتی ہے کہ فوجی ایکشن سے پہلے مارچ کے 24 دنوں میں عوامی لیگ نے ایک سے پانچ لاکھ لوگوں کو مار دیا۔ اگر 24 دن میں ایک لاکھ لوگوں کو مارنا ممکن تھا تو پھر فوج جس کے پاس بڑے ہتھیار تھے وہ 8، 9 ماہ میں 3 ملین کیوں نہیں مار سکتی تھی؟ تین ملین کی تعداد کو مبالغہ کہنا اور صحیح نہ ماننا ایک بات ہے اور اسے اس طرح ناممکن قرار دینا بالکل دوسری۔ خیال رہے کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ 3 ملین کی تعداد صحیح ہے۔ جتنا اس سال کے واقعات کے بارے میں میں نے پڑھا ہے کوئی غیرجانبدار تحقیق اس معاملے میں نہیں ہوئی۔ بہرحال شواہد کے مطابق مغربی پاکستانی فوج نے یقیناً 26 ہزار سے زیادہ اور 3 ملین سے کم لوگ مارے۔

اب آتے ہیں بنگلہ‌دیشی بلاگز کی طرف کہ وہ اس دن کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔

کچھ بنگالی بلاگز سے مجھے ڈھاکہ میں جنگِ آزادی میوزیم کے ویب سائٹ کا پتہ چلا۔ اس سائٹ پر فی‌الحال صرف چند بنیادی معلومات ہی ہیں۔

درشتی‌پت بلاگ پر 1971 میں بنگالی دانشوروں کے قتل سے متعلق دو پوسٹس موجود ہیں۔

یا کیسے میں نے پریشان نہ ہونا سیکھا بلاگ کے معشوق الرحمان نے تو بہت سے مضامین 1971 کے واقعات پر لکھے ہیں۔ ان میں سے قابلِ ذکر اس وقت کی اخباری رپورٹس کو سکین کر کے آن‌لائن لانا ہے: بنگلہ‌دیش آبزرور ، ڈان اور بین الاقوامی اخبارات ۔ اس کے علاوہ اس کا ایک مضمون جو ایک بنگالی اخبار میں بھی چھپا ہے وہ شرمیلہ بوس کے اس دعوے کی تردید میں ہے کہ 1971 میں مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج نے لاکھوں خواتین کی عزت نہیں لوٹی تھی۔ بلاگر کین یونیورسٹی نیو جرسی میں بنگلہ‌دیش میں ہونے والی نسل‌کشی پر ایک سیمینار کی رپورٹ بھی پیش کرتا ہے جس میں وہاں کے نسل‌کشی سٹڈیز کے پروگرام میں 1971 کے بنگلہ‌دیش کے واقعات پر ایک کورس آفر کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس سیمینار میں 1971 میں مارے جانے والوں کی فیملی کے افراد بھی اپنے اور اپنی فیملی کے ساتھ ہونے والے واقعات بیان کرتے ہیں جو آپ بلاگ پر پڑھ سکتے ہیں۔ معشوق کے بلاگ پر بنگلہ‌دیش کی جنگِ آزادی کے متعلق بہت زیادہ مواد ہے اور میرا مشورہ ہے کہ آپ اسے ضرور پڑھیں۔

خدا کے لئے

شعیب منصور کی فلم خدا کے لئے میں میری کی زبردستی شادی اور حبسِ بےجا نے مجھے سب سے متاثر کیا۔ لالی‌وڈ کی عام فلموں سے بہت مختلف یہ ایک اچھی فلم ہے اور دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

آخر فلم خدا کے لئے دیکھی۔ اچھی فلم ہے۔

فلم کے متعلق تمام تبصرے موسیقی اور اسلام پر ہی پڑھے اور اس سے زیادہ بیکار بحث نہیں دیکھی۔ مگر فلم کا سب سے پراثر حصہ اس برطانوی پاکستانی لڑکی سے متعلق ہے جس کی زبردستی شادی کر دی جاتی ہے۔

مجھے اس بات پر بھی کافی دکھ ہوا کہ موسیقی کی ممانعت سے متعلق تو لوگوں نے اتنا چور مچایا مگر کسی نے یہ ذکر بھی نہیں کیا کہ فلم کے دوسرے مولوی صاحب زبردستی کی شادی کو بھی درست قرار دیتے ہیں۔

پاکستانی فلموں کی نسبت بہت بہتر فلم ہے اور دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ مگر اس میں کچھ خامیاں بھی ہیں۔ ایک تو ایمان علی کو برطانوی پاکستانی کا رول دیا گیا ہے مگر اس کا لہجہ بالکل بھی برطانوی نہیں۔ دوسرے فلم میں کئی لیکچر نما ڈائیلاگ ہیں۔

فلم میں سب سے متاثرکن حصہ ایک برطانوی پاکستانی کی زبردستی شادی اور پھر قبائلی علاقے میں اپنے “شوہر” کے ہاتھوں قید میں رہنا ہے۔ زبردستی کی شادی واقعی ایک مسئلہ ہے اور کچھ بیرون ملک رہنے والے پاکستانی بھی اس میں ملوث ہیں۔

فلم کا کمزورترین حصہ امریکہ والا ہے۔ شان موسیقی کی اعلٰی تعلیم کے لئے امریکہ آتا ہے اور وہاں آسٹن میری سیئر سے محبت اور شادی کر لیتا ہے۔ مگر ان میں محبت ہونے کا عمل کچھ ایسا پیش نہیں کیا گیا کہ سامعین اسے قابلِ یقین سمجھیں۔

پھر شان کو امریکی پولیس پکڑ لیتی ہے اور اس پر دہشت‌گرد ہونے کا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بناتی ہے۔ یہاں بھی معاملات گوانتامو بے اور ابوغریب سے نقل کئے گئے ہیں جو غلط نہیں۔ مگر اس سے یہ غلط تاثر ملتا ہے کہ امریکہ میں موجود پاکستانی یا مسلمان طلباء کے ساتھ ایسا کچھ سلوگ ستمبر 11 کے بعد ہوا تھا۔ اس وقت سینکڑوں لوگ پکڑے گئے جنہوں نے کسی قسم کی امیگریشن کے قوانین کی خلاف‌ورزی کی تھی اور انہیں مہینوں جیل میں رکھا گیا جہاں انہیں کچھ مارا پیٹا بھی گیا اور بعد میں زیادہ‌تر کو قوانین کی خلاف‌ورزی کی بنیاد پر ملک سے نکال دیا گیا۔ اس بارے میں امریکی حکومت اور دوسرے ادارے تحقیق کر چکے ہیں اور شاید میں بھی اس پر اپنے بلاگ پر لکھ چکا ہوں۔ بہرحال جیسے فلم میں شان پر شدید تشدد کیا گیا ویسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔

فلم کی موسیقی بھی سننے سے تعلق رکھتی ہے۔

میں اس فلم کو 10 میں سے 7 نمبر دیتا ہوں۔

ڈان

کافی عرصے بعد ہم نے بالی‌وڈ کی کوئی فلم دیکھی۔ یہ نئی ڈان ہے شاہ‌رخ خان والی۔ بالی‌وڈ کے سٹینڈرڈ کے حساب سے ٹھیک فلم ہے۔

پچھلے دنوں بہت عرصے بعد بالی‌وڈ کی کوئی فلم دیکھی۔ عنبر ایک دن ڈان کی ڈی‌وی‌ڈی اٹھا لائی۔ یہ امیتابھ بچن کی نہیں بلکہ نئی والی شاہرخ خان والی فلم ہے۔

اس میں شاہرخ خان کے دو رول ہیں: ایک معصوم اور دوسرا مجرم ماسٹرمائنڈ۔

فلم ٹھیک ہی ہے۔ عام بالی‌وڈ فلموں کی طرح اس کی کہانی کا اندازہ لگانا بھی بہت آسان ہے۔ میں اسے 10 میں سے 6 نمبر دیتا ہوں۔

عید مبارک

آپ سب کو عید مبارک۔

کہیں کل عید تھی۔ کچھ جگہوں پر آج عید ہے۔ کہیں کل ہو گی اور کہیں شاید اتوار کو بھی ہو۔ اس ساری کنفیوژن میں میں یہ بھول ہی گیا ہوں کہ ہم عید کب منا رہے ہیں۔ خیر عید اسی ویک‌اینڈ پر ہے۔ سو آپ سب کو عید مبارک۔

اس بار عنبر نے عید پر مشیل کے لئے غرارہ بنایا ہے اور اسے مہندی بھی لگائی ہے۔ میشل نے چوڑیاں بھی لی ہیں اپنے فیورٹ جامنی رنگ کی۔

اتوار کو ہم نے دوست یاروں کو دعوت پر بلایا ہوا ہے۔ امید ہے اچھا شغل رہے گا۔

کچھ روابط: اسلامی کیلنڈر اور چاند دیکھنا ، چاند نظر آنے سے متعلق دنیا کا نقشہ ، چاند نظر آنے سے متعلق ایک اور سائٹ ۔

It’s Eid today in some areas while others will celebrate it tomorrow. There might even be Eid on Sunday somewhere while Nigeria celebrated Eid yesterday. In all this confusion, I have forgotten when we are celebrating it. Anyway, it’s this weekend. So, a Happy Eid to everyone!

For the occasion, Amber has sewn a gharara for Michelle and done some henna designs on her hands. Michelle also bought some bangles, in purple of course since that’s her favorite color.

On Sunday, we are having some friends over for an Eid dinner.

UPDATE: Some links related to the Islamic calendar and moonsighting: US Naval Observatory’s page on the topic, Moonsighting curves on world map and another moonsighting calculation site. Also, see Robert Van Gent’s page on lunar visibility.

رمضان اور روش ہشانا مبارک

آج سے روزے شروع ہو گئے ہیں۔ رمضان مبارک۔ اور روش ہشانا یعنی نیا سال بھی مبارک۔

آج یہاں پہلا روزہ تھا۔ آپ سب کو رمضان مبارک ہو۔

ساتھ ہی آج عبرانی کیلنڈر کے نئے سال کا آغاز ہوا۔ آپ کو روش ہشانا بھی مبارک ہو۔ Shana Tova!