سقوطِ ڈھاکہ

آج 16 دسمبر ہے۔ آج سے 36 سال پہلے پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈالے اور بنگلہ‌دیش دنیا میں نمودار ہوا۔ چلیں اس تاریخ کو کچھ کھنگالیں کہ شاید ہم کچھ سیکھ سکیں۔

آج 16 دسمبر ہے۔ آج سے 36 سال پہلے پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈالے اور بنگلہ‌دیش دنیا میں نمودار ہوا۔

Gen Niazi signing instruments of surrender

چلیں اس تاریخ کو کچھ کھنگالیں کہ شاید ہم کچھ سیکھ سکیں۔

پانچ سال پہلے جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں نیشنل سیکورٹی آرکائیوز نے 1971 میں مشرقی پاکستان اور بنگلہ‌دیش سے متعلق کچھ امریکی دستاویزات ویب پر شائع کی تھیں۔ ان دستاویزات سے کچھ اقتباسات کے ترجمے پیشِ خدمت ہیں۔

دستاویز 1 مورخہ 28 مارچ جو ڈھاکہ میں امریکی قونصلخانے سے بھیجی گئی:

یہاں ڈھاکہ میں ہم پاکستانی فوج کے دہشت کے راج کے گونگے اور پریشان شاہد ہیں۔ شواہد سامنے آ رہے ہیں کہ پاکستانی حکام کے پاس عوامی لیگ کے حمایتیوں کی فہرستیں ہیں جنہیں وہ باقاعدہ طور پر ان کے گھروں میں ڈھونڈ کر گولی مار رہے ہیں۔ عوامی لیگ کے لیڈروں کے علاوہ سٹوڈنٹ لیڈر اور یونیورسٹی کے اساتذہ بھی ان کے نشانے پر ہیں۔

دستاویز 4 جو 30 مارچ کو ڈھاکہ قونصلخانے سے ڈھاکہ یونیورسٹی میں قتل و غارت کے متعلق ہے۔

ایف‌اے‌او کے ساتھ کام کرنے والے ایک امریکی نے ڈھاکہ یونیورسٹی کے اقبال ہال میں 25 طلباء کی لاشیں دیکھیں۔ اسے رقیہ گرلز ہال کے بارے میں بتایا گیا جہاں فوج نے عمارت کو آگ لگائی اور پھر بھاگتی لڑکیوں کو مشین‌گن سے مار دیا۔ اندازہ ہے کہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں کل 1000 لوگوں کو مار دیا گیا۔

دستاویز 5 31 مارچ کو بھیجی گئی:

آرمی اپریشن کے نتجے میں مرنوں والوں کی تعداد کا اندازہ لگانا ابھی مشکل ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی میں مرنے والے سٹوڈنٹس کی تعداد کا سب سے محتاط اندازہ 500 ہے اور 1000 تک جاتا ہے۔ پولیس کے ذرائع کے مطابق 25 مارچ کی رات کی شدید لڑائی میں 600 سے 800 پاکستانی پولیس والے مارے گئے۔ پرانا شہر جہاں فوج نے ہندو اور بنگالی علاقوں کو آگ لگائی اور پھر مکینوں کو گولیاں ماریں وہاں مرنے والوں کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ عینی شاہد ان مرنے والوں کی تعداد 2000 سے 4000 تک بتاتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اس وقت تک فوجی ایکشن کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد شاید 4000 سے 6000 تک ہے۔ ہمیں علم نہیں کہ کتنے فوجی مر چکے ہیں۔

دستاویز 6 بھی پڑھیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندو خاص طور پر پاکستانی فوج کا نشانہ تھے اور کیسے خواتین ریپ کا شکار ہوئیں۔

کچھ بنگالی بزنسمین جو عوامی لیگ کے حامی نہیں ہیں انہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں رقیہ ہال میں 6 لڑکیوں کی ننگی لاشیں دیکھیں جنہیں زنا بالجبر اور گولی مارنے کے بعد پنکھوں سے لٹکا دیا گیا تھا۔ یونیورسٹی میں دو اجتماعی قبریں بھی ہیں جن میں سے ایک میں 140 لاشیں پائی گئیں۔

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ویب سائٹ پر آپ 1971 سے متعلق بہت سی امریکی دستاویزات پڑھ سکتے ہیں۔

جنگ کے اختتام کے بعد پاکستانی حکومت نے حمود الرحمان کمیشن قائم کیا جس کا مقصد اس ساری صورتحال کے بارے میں تفتیش کرنا تھا۔ اس کمیشن کی رپورٹ سالہا سال تک پاکستانی حکمرانوں نے چھپائے رکھی۔ پھر اگست 2000 میں اس رپورٹ کا ایک حصہ انڈیا ٹوڈے نے چھاپ دیا۔ اس کے بعد پاکستانی حکومت نے رپورٹ کے کچھ حصے حذف کر کے باقی کی رپرٹ شائع کر دی جسے آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ اس وقت اس کا اردو ترجمہ جنگ اخبار میں چھپا جس کا کچھ حصہ آپ اردو محفل پر پڑھ سکتے ہیں۔

حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پڑھتے ہوئے حیرت ہوتی ہے کہ پاکستانی حکمرانوں نے اسے کیوں 28 سال تک چھپائے رکھا۔ ویسے تو رپورٹ اچھی ہے اور کئی فوجی کمانڈرز کو موردِ الزام ٹھہراتی ہے مگر کچھ لطیفے بھی ہیں۔

مثال کے طور پر پاکستانی فوج کے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ حیرانی کا اظہار کرتی ہے کہ پاکستانی فوج 9 ماہ میں 3 ملین لوگوں کو کیسے مار سکتی تھی اور جی‌ایچ‌کیو کی بات ماننے میں عار محسوس نہیں کرتی کہ فوج نے صرف 26 ہزار بنگالی مارے۔ مگر ساتھ ہی یہ دعوٰی بھی کرتی ہے کہ فوجی ایکشن سے پہلے مارچ کے 24 دنوں میں عوامی لیگ نے ایک سے پانچ لاکھ لوگوں کو مار دیا۔ اگر 24 دن میں ایک لاکھ لوگوں کو مارنا ممکن تھا تو پھر فوج جس کے پاس بڑے ہتھیار تھے وہ 8، 9 ماہ میں 3 ملین کیوں نہیں مار سکتی تھی؟ تین ملین کی تعداد کو مبالغہ کہنا اور صحیح نہ ماننا ایک بات ہے اور اسے اس طرح ناممکن قرار دینا بالکل دوسری۔ خیال رہے کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ 3 ملین کی تعداد صحیح ہے۔ جتنا اس سال کے واقعات کے بارے میں میں نے پڑھا ہے کوئی غیرجانبدار تحقیق اس معاملے میں نہیں ہوئی۔ بہرحال شواہد کے مطابق مغربی پاکستانی فوج نے یقیناً 26 ہزار سے زیادہ اور 3 ملین سے کم لوگ مارے۔

اب آتے ہیں بنگلہ‌دیشی بلاگز کی طرف کہ وہ اس دن کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔

کچھ بنگالی بلاگز سے مجھے ڈھاکہ میں جنگِ آزادی میوزیم کے ویب سائٹ کا پتہ چلا۔ اس سائٹ پر فی‌الحال صرف چند بنیادی معلومات ہی ہیں۔

درشتی‌پت بلاگ پر 1971 میں بنگالی دانشوروں کے قتل سے متعلق دو پوسٹس موجود ہیں۔

یا کیسے میں نے پریشان نہ ہونا سیکھا بلاگ کے معشوق الرحمان نے تو بہت سے مضامین 1971 کے واقعات پر لکھے ہیں۔ ان میں سے قابلِ ذکر اس وقت کی اخباری رپورٹس کو سکین کر کے آن‌لائن لانا ہے: بنگلہ‌دیش آبزرور ، ڈان اور بین الاقوامی اخبارات ۔ اس کے علاوہ اس کا ایک مضمون جو ایک بنگالی اخبار میں بھی چھپا ہے وہ شرمیلہ بوس کے اس دعوے کی تردید میں ہے کہ 1971 میں مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج نے لاکھوں خواتین کی عزت نہیں لوٹی تھی۔ بلاگر کین یونیورسٹی نیو جرسی میں بنگلہ‌دیش میں ہونے والی نسل‌کشی پر ایک سیمینار کی رپورٹ بھی پیش کرتا ہے جس میں وہاں کے نسل‌کشی سٹڈیز کے پروگرام میں 1971 کے بنگلہ‌دیش کے واقعات پر ایک کورس آفر کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس سیمینار میں 1971 میں مارے جانے والوں کی فیملی کے افراد بھی اپنے اور اپنی فیملی کے ساتھ ہونے والے واقعات بیان کرتے ہیں جو آپ بلاگ پر پڑھ سکتے ہیں۔ معشوق کے بلاگ پر بنگلہ‌دیش کی جنگِ آزادی کے متعلق بہت زیادہ مواد ہے اور میرا مشورہ ہے کہ آپ اسے ضرور پڑھیں۔

خدا کے لئے

شعیب منصور کی فلم خدا کے لئے میں میری کی زبردستی شادی اور حبسِ بےجا نے مجھے سب سے متاثر کیا۔ لالی‌وڈ کی عام فلموں سے بہت مختلف یہ ایک اچھی فلم ہے اور دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

آخر فلم خدا کے لئے دیکھی۔ اچھی فلم ہے۔

فلم کے متعلق تمام تبصرے موسیقی اور اسلام پر ہی پڑھے اور اس سے زیادہ بیکار بحث نہیں دیکھی۔ مگر فلم کا سب سے پراثر حصہ اس برطانوی پاکستانی لڑکی سے متعلق ہے جس کی زبردستی شادی کر دی جاتی ہے۔

مجھے اس بات پر بھی کافی دکھ ہوا کہ موسیقی کی ممانعت سے متعلق تو لوگوں نے اتنا چور مچایا مگر کسی نے یہ ذکر بھی نہیں کیا کہ فلم کے دوسرے مولوی صاحب زبردستی کی شادی کو بھی درست قرار دیتے ہیں۔

پاکستانی فلموں کی نسبت بہت بہتر فلم ہے اور دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ مگر اس میں کچھ خامیاں بھی ہیں۔ ایک تو ایمان علی کو برطانوی پاکستانی کا رول دیا گیا ہے مگر اس کا لہجہ بالکل بھی برطانوی نہیں۔ دوسرے فلم میں کئی لیکچر نما ڈائیلاگ ہیں۔

فلم میں سب سے متاثرکن حصہ ایک برطانوی پاکستانی کی زبردستی شادی اور پھر قبائلی علاقے میں اپنے “شوہر” کے ہاتھوں قید میں رہنا ہے۔ زبردستی کی شادی واقعی ایک مسئلہ ہے اور کچھ بیرون ملک رہنے والے پاکستانی بھی اس میں ملوث ہیں۔

فلم کا کمزورترین حصہ امریکہ والا ہے۔ شان موسیقی کی اعلٰی تعلیم کے لئے امریکہ آتا ہے اور وہاں آسٹن میری سیئر سے محبت اور شادی کر لیتا ہے۔ مگر ان میں محبت ہونے کا عمل کچھ ایسا پیش نہیں کیا گیا کہ سامعین اسے قابلِ یقین سمجھیں۔

پھر شان کو امریکی پولیس پکڑ لیتی ہے اور اس پر دہشت‌گرد ہونے کا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بناتی ہے۔ یہاں بھی معاملات گوانتامو بے اور ابوغریب سے نقل کئے گئے ہیں جو غلط نہیں۔ مگر اس سے یہ غلط تاثر ملتا ہے کہ امریکہ میں موجود پاکستانی یا مسلمان طلباء کے ساتھ ایسا کچھ سلوگ ستمبر 11 کے بعد ہوا تھا۔ اس وقت سینکڑوں لوگ پکڑے گئے جنہوں نے کسی قسم کی امیگریشن کے قوانین کی خلاف‌ورزی کی تھی اور انہیں مہینوں جیل میں رکھا گیا جہاں انہیں کچھ مارا پیٹا بھی گیا اور بعد میں زیادہ‌تر کو قوانین کی خلاف‌ورزی کی بنیاد پر ملک سے نکال دیا گیا۔ اس بارے میں امریکی حکومت اور دوسرے ادارے تحقیق کر چکے ہیں اور شاید میں بھی اس پر اپنے بلاگ پر لکھ چکا ہوں۔ بہرحال جیسے فلم میں شان پر شدید تشدد کیا گیا ویسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔

فلم کی موسیقی بھی سننے سے تعلق رکھتی ہے۔

میں اس فلم کو 10 میں سے 7 نمبر دیتا ہوں۔

ڈان

کافی عرصے بعد ہم نے بالی‌وڈ کی کوئی فلم دیکھی۔ یہ نئی ڈان ہے شاہ‌رخ خان والی۔ بالی‌وڈ کے سٹینڈرڈ کے حساب سے ٹھیک فلم ہے۔

پچھلے دنوں بہت عرصے بعد بالی‌وڈ کی کوئی فلم دیکھی۔ عنبر ایک دن ڈان کی ڈی‌وی‌ڈی اٹھا لائی۔ یہ امیتابھ بچن کی نہیں بلکہ نئی والی شاہرخ خان والی فلم ہے۔

اس میں شاہرخ خان کے دو رول ہیں: ایک معصوم اور دوسرا مجرم ماسٹرمائنڈ۔

فلم ٹھیک ہی ہے۔ عام بالی‌وڈ فلموں کی طرح اس کی کہانی کا اندازہ لگانا بھی بہت آسان ہے۔ میں اسے 10 میں سے 6 نمبر دیتا ہوں۔

عید مبارک

آپ سب کو عید مبارک۔

کہیں کل عید تھی۔ کچھ جگہوں پر آج عید ہے۔ کہیں کل ہو گی اور کہیں شاید اتوار کو بھی ہو۔ اس ساری کنفیوژن میں میں یہ بھول ہی گیا ہوں کہ ہم عید کب منا رہے ہیں۔ خیر عید اسی ویک‌اینڈ پر ہے۔ سو آپ سب کو عید مبارک۔

اس بار عنبر نے عید پر مشیل کے لئے غرارہ بنایا ہے اور اسے مہندی بھی لگائی ہے۔ میشل نے چوڑیاں بھی لی ہیں اپنے فیورٹ جامنی رنگ کی۔

اتوار کو ہم نے دوست یاروں کو دعوت پر بلایا ہوا ہے۔ امید ہے اچھا شغل رہے گا۔

کچھ روابط: اسلامی کیلنڈر اور چاند دیکھنا ، چاند نظر آنے سے متعلق دنیا کا نقشہ ، چاند نظر آنے سے متعلق ایک اور سائٹ ۔

It’s Eid today in some areas while others will celebrate it tomorrow. There might even be Eid on Sunday somewhere while Nigeria celebrated Eid yesterday. In all this confusion, I have forgotten when we are celebrating it. Anyway, it’s this weekend. So, a Happy Eid to everyone!

For the occasion, Amber has sewn a gharara for Michelle and done some henna designs on her hands. Michelle also bought some bangles, in purple of course since that’s her favorite color.

On Sunday, we are having some friends over for an Eid dinner.

UPDATE: Some links related to the Islamic calendar and moonsighting: US Naval Observatory’s page on the topic, Moonsighting curves on world map and another moonsighting calculation site. Also, see Robert Van Gent’s page on lunar visibility.

رمضان اور روش ہشانا مبارک

آج سے روزے شروع ہو گئے ہیں۔ رمضان مبارک۔ اور روش ہشانا یعنی نیا سال بھی مبارک۔

آج یہاں پہلا روزہ تھا۔ آپ سب کو رمضان مبارک ہو۔

ساتھ ہی آج عبرانی کیلنڈر کے نئے سال کا آغاز ہوا۔ آپ کو روش ہشانا بھی مبارک ہو۔ Shana Tova!

برقعہ اور جہاد

لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز نے دھمکیاں تو خودکش حملوں کی دی تھیں مگر خود برقعے میں بھاگنے کی کوشش کی۔

اسلام‌آباد میں لال مسجد میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ قابلِ افسوس ہے۔ 19 لوگوں کی موت کا سن کر ہی انسان پریشان ہو جاتا ہے۔ مگر اس سب کی ذمہ‌داری کافی حد تک آنٹی عبدالعزیز اور عبدالرشید پر آتی ہے۔ کچھ چینیوں کے اغواء کے بعد حکومت کا اپریشن یقینی تھا۔ مگر اس طرح کے حالات میں بھی کچھ باتیں انسان کو ہنسنے پر مجبور کر دیتی ہیں:

اسلام آباد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ برقعہ پہن کر مسجد سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ پولیس نے مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام حسن کو بھی گرفتار کر لیا۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ مولانا عبدالعزیز برقعہ پہن کر جامعہ حفصہ کی ان طالبات کی لائن میں کھڑے ہو گئے جنہوں نے حکومت کی طرف سے عام معافی کے اعلان کے بعد خود کو حکام کے حوالے کر دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تلاشی کے دوران لیڈی پولیس کانسٹیبل نے جب بظاہر ایک خاتون کا برقعہ اتارا تو اندر سے مولانا عبدالعزیزبرآمد ہوئے جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

اب میں کیا کہہ سکتا ہوں کہ کیا یہ وہی شخص ہے جس نے خودکش حملوں کی دھمکیاں دی تھیں؟

اپڈیٹ: یہ پوسٹ تو بس کچھ طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں کی تھی۔ لال مسجد کے سارے قصے کے بارے میں کہنے کو بہت کچھ ہے مگر کس کس کی غلطیاں نکالوں کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ اگر لال مسجد والے غلطی پر تھے تو حکومت نے بھی کچھ صحیح نہیں کیا۔

بش کے دیس میں خدا

امریکہ مذہبی ملک ہے۔ یہاں ایتھیئسٹ کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ خدا پر یقین کو اچھے انسان ہونے کے لئے لازمی قرار دیا جاتا ہے۔ ذاتی اور عوامی دائرہ‌کار میں ایتھیئسٹ کے بارے میں ایک عام امریکی کیا خیالات رکھتا ہے اس بارے میں کچھ سروے کے نتائج حاضر ہیں۔

بدتمیز نے اپنے بلاگ پر ایک سلسلہ شروع کیا تھا بش کے دیس میں جس میں وہ امریکہ کے بارے میں لکھتا ہے۔ پھر حال ہی میں بدتمیز نے پوچھا کہ خدا کیا ہے؟ ۔ اس سے مجھے اس پوسٹ کا خیال آیا۔

جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ مجھے امریکہ آنے سے پہلے اندازہ نہیں تھا کہ امریکی اتنے مذہبی ہوں گے۔ مگر یہاں آ کر احساس ہوا کہ یہاں atheist کافی کم ہیں اور عام لوگ انہیں اچھا بھی نہیں سمجھتے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اردو وکی‌پیڈیا کے افراز کی طرح بہت سے امریکی agnostic اور atheist میں فرق نہیں سمجھتے۔ ایسا نہیں ہے کہ atheists کے خلاف active hostility ہو مگر مذہبی لوگوں کا خیال ہے کہ خدا کو مانے بغیر انسان ایک اچھا انسان ہو ہی نہیں سکتا۔ شاید اسی قسم کی کوئی رائے پہلے صدر بش نے بھی دی تھی۔

پچھلے سال یونیورسٹی آف منیسوٹا نے ایک سٹڈی شائع کی جس کے مطابق ایتھیئسٹ امریکہ کی سب سے کم قابلِ بھروسہ اقلیت ہیں۔ اس سٹڈی کی تفصیلات کے مطابق امریکی نہ ایتھیئسٹ کو ووٹ دینا چاہتے ہیں، نہ اپنے بچے کی اس سے شادی کرنا چاہتے ہیں اور نہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایتھیئسٹ اور ان کا امریکہ کے لئے ایک ہی وژن ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان ساری باتوں میں ایتھیئسٹ مسلمانوں سے بھی بدتر سمجھے جاتے ہیں۔

گیلپ کے ایک سروے کے مطابق 2008 کے صدارتی انتخابات میں زیادہ‌تر لوگ کیتھولک، افریقی امریکی، یہودی، عورت،ہسپانک یا مورمن کو ووٹ دینے کو تیار ہیں مگر ایک ایتھیئسٹ کو صرف 45 ووٹ دینے کے بارے میں غور کریں گے۔ یہ ایک ہم‌جنس‌پرست سے بھی بری پرفارمنس ہے جسے 55 فیصد لوگ ووٹ دے سکتے ہیں۔ 1958 میں جب ایٹھیئسٹ صدارتی امیدوار کے بارے میں سروے کیا گیا تو صرف 18 فیصد اسے ووٹ دینے پر تیار تھے۔ یہ تناسب 1978 میں بڑھ کر 40 فیصد ہو گیا مگر اس کے بعد سے زیادہ نہیں بڑھا۔

اسی سال ایک اور سروے کے مطابق 32 فیصد ووٹر مورمن امیدوار کو ووٹ دینے سے کترائیں گے، 45 فیصد مسلمان صدارتی امیدوار کو ووٹ دینے سے کترائیں گے جبکہ 50 فیصد ایتھیئسٹ امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے۔ یہاں بھی ایتھیئسٹ مسلمان سے بھ بدتر ثابت ہوا۔

پیٹ ٹلمین ایک امریکی فٹبال کا کھلاڑی تھا جو فوج میں شامل ہوا اور افغانستان میں فرینڈلی فائر سے مارا گیا۔ پینٹاگون نے پہلے اس کو ہیرو قرار دیا اور کہا کہ وہ دشمن سے مقابلے میں مارا گیا۔ ٹلمین کی فیملی حقائق جاننے کی کوشش میں رہی اور اب بھی مزید کوشش جاری ہے جب اس کی موت سے متعلق کافی حقیقت سامنے آ چکی ہے۔ اس بارے میں یہ آرٹیکل کافی تفصیل بتاتا ہے۔ مگر ہم ایتھیئسٹس پر بات کر رہے تھے۔ اس آرٹیکل میں فوج کے ایک لیفٹیننٹ کرنل صاحب فرماتے ہیں کہ ٹلمین کی فیملی اس کی موت کی تفصیل اور ذمہ‌داری کے تعین پر اس لئے مصر ہے کہ وہ خدا پر یقین نہیں رکھتے اور اس لئے انہیں چین نہیں آ رہا۔ اس بیان سے کرنل کا ایتھیئسٹس کے خلاف تعصب صاف ظاہر ہے۔

یہ کیسا جہاد ہے

پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟ جہاد کے نام پر مسلمان کن کاموں میں پڑ چکے ہیں؟ کیا اسلام صرف سیاست اور تشدد ہی کا نام ہے؟

پاکستان کس طرف جا رہا ہے؟ اب تو وہاں کی خبریں ایسی ہی لگتی ہیں جیسے کسی اجنبی ملک کی۔ وقت کے ساتھ ساتھ روز پاکستانی اخبار پڑھنے کی عادت بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ مگر پھر بھی کچھ سن گن رہتی ہے اور کچھ جذبات بھی اس جگہ سے جہاں عمر کے بیس اکیس سال گزرے اور جہاں آج بھی بہت سے جاننے والے رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کچھ معلومات اور اندازے لگا سکتا ہوں پاکستان میں ہونے والے واقعات کے متعلق۔

پاکستان میں خودکش دھماکوں کا سلسلہ تو کچھ سالوں سے جاری تھا مگر اس سال اوپر تلے اسلام‌آباد، کھاریاں، کوئٹہ وغیرہ میں بم دھماکے ہوئے۔ کیا اب خودکش بمبار ساری دنیا میں پھیل جائیں گے؟ کیا یہی نتیجہ ہے فلسطین، افغانستان، کشمیر وغیرہ کے جہاد کا؟ یا یہ تامل ٹائیگرز کی پیروی ہے؟

فروری میں پنجاب کی صوبائی وزیر ظل ہما کو گجرانوالہ مسلم لیگ ہاؤس میں مجمع میں سے ایک شخص نے گول مار کر قتل کر دیا۔

پنجاب کی صوبائی وزیر ظل ہما کو قاتلانہ حملے میں ہلاک کرنے کے ملزم غلام سرور نے عدالت میں اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے یہ قتل کرکے جہاد کیا ہے اور اسے اس بات پر فخر ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم پانچ سال پہلے بھی لاہور اور گوجرانوالہ چھ ایسی خواتین کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ہوا تھا جنیں مبینہ طور پر کال گرل بتایا گیاتھا۔

پولیس کے مطابق غلام سرور بارہ جنوری دو ہزار تین کو گرفتار ہوا تھا لیکن مدعیوں کے اسے بے گناہ قرار دیئے جانے کے بعد دسمبر دو ہزار پانچ کو رہا ہو گیا تھا۔

وہ ایک بار حج اور دو بار عمرہ کرچکا ہے۔ اس کے نو بچے ہیں۔

اپریل سنہ دو ہزار پانچ میں گوجرانوالہ میں حکومت نے پہلی بار میراتھن منعقد کرائی تو ظل ہما نے اس کے انتظامات میں سرگرمی سے حصہ لیا تھا جبکہ مذہبی جماعتوں نے اس دوڑ کی سخت مخالفت کی تھی۔

اب ظل ہما کو قتل کرنے کی وجہ میراتھن تھی یا عورتوں سے غلام سرور کا عناد مگر یہ بات قابل غور ہے کہ ملزم کے نزدیک وہ جہاد کر رہا تھا۔ جہاد کی ایسی مثالیں مسلمانوں میں عام ہوتی جا رہی ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے اور مذہبی لوگ بھی جہاد کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور ہر فسادی کو محرب کی بجائے مجاہد سمجھتے ہیں۔

اب ہم آتے ہیں جامعہ حفصہ کی طالبات کی طرف جنہوں نے حکومت کی طرف سے غیرقانونی مساجد کے گرانے کے خلاف احتجاج کے طور پر ایک لائبریری پر قبضہ کر رکھا ہے۔ میں اسلام‌آباد کی مساجد کی قانونی حیثیت کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا اور نہ ہی میں حکومت کا حامی ہوں۔ پاکستان کی حکومت کام سوچ سمجھ کر اور صحیح طریقے سے نہیں کرتی اس لئے میں اس بات پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ البتہ کچھ دن پہلے ان طالبات نے جی سکس میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر وہاں کی عورتوں کو یرغمال بنا لیا۔

مدرسہ حفصہ کی انتظامیہ نے دھمکی دی ہے کہ اسلام آباد کے ایک مکان پر طالبات کے چھاپے اور تین خواتین کو یرغمال بنانے کے الزام میں گرفتار کی گئی چار استانیوں کو بدھ کی شام تک رہا نہ کیا گیا تو جہاد کا اعلان کر دیا جائے گا۔

مدرسے کی طالبات نے اسلام آباد کے ایک رہائشی علاقے جی سکس کے ایک مکان پر منگل کی شام کو چھاپہ مار کر ایک خاتون اور اس کی بہو اور بیٹی کو ’جنسی کاروبار میں ملوث ہونے پر‘ یرغمال بنا لیا تھا۔ مقامی پولیس نے طالبات کی طرف سے کی جانے والی اس کارروائی کے جواب میں مدرسے کی چار خواتین اساتذہ کو گرفتار کر لیا تھا۔

پولیس کی کارروائی کے بعد مدرسے کی سینکٹروں طالبات ڈنڈے اٹھا کر سڑک پر نکل آئیں۔ مشتعل طالبات نے جنھیں طلباء کی معاونت بھی حاصل تھی پولیس کی دو گاڑیوں کو ان کے ڈرائیوروں سمیت مدرسے کے احاطے میں بند کر دیا۔

مدرسے کے منتظم غازی عبدالرشید نے بعد ازاں ایک پریس کانفرنس کو بتایا کہ اسلام آباد کی رہائشی تین خواتین ان کے قبضے میں ہیں۔ انہوں نے مقامی انتظامیہ کو خبردار کیا کہ اگر فوری طور مدرسے کی چار اساتذہ کو رہا نہ کیا گیا تو جہاد کا اعلان کر دیا جائے گا۔

غازی عبدالرشید نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان خواتین پر زنا کے الزام میں مقدمات چلائے جائیں اور قرار واقعی سزائیں دی جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکام نے ان پر مقدمات دائر نہ کیئے تو مدرسے کے اندر قاضی عدالت قائم کی جائے گی اور شریعت کے مطابق انہیں سزائیں سنائی جائیں گی۔

اس مدرسے کی طالبات اور طلباء نے آبپارہ مارکیٹ میں واقع ویڈیو شاپس کے مالکان کو بھی خبردار کیا ہے کہ جنسی مواد پر مبنی سی ڈیز کی فروخت بند کردیں۔

جب غازی عبدالرشید سے پوچھا کہ ان کے مدرسے کی طالبات نے کس اختیار کے تحت کارروائی کی تو انہوں نے کہا کہ یہ اسلامی ملک ہے اور اسلام کہتا ہے کہ برائی کو روکیں۔

بعد میں پولیس نے مدرسے کی استانیوں کو رہا کر دیا اور طالبات نے بھی جن پولیس اہلکاروں کو پکڑ لیا تھا انہیں چھوڑ دیا گیا۔ کچھ دن بعد لال مسجد میں ایک پریس کانفرنس میں یرغمالی شمیم اختر کے اقبالِ جرم کے بعد ان خواتین کو چھوڑ دیا گیا۔ گھر پہنچنے کے بعد شمیم اختر نے کہا کہ وہ بیان تو اس سے زبردستی دلوایا گیا تھا۔

یہ اسلام‌آباد ہے پاکستان سے دس کلومیٹر باہر ۔ یہاں قانون کا کوئی پاس نہیں۔ حکومت شہریوں کی حفاظت کی بجائے نجانے کس کام میں مصروف ہے اور مذہبی جنونی جس کو چاہتے ہیں یرغمال بناتے ہیں جسے برا سمجھتے ہیں اسے دھمکیاں دیتے ہیں۔ بے‌گناہی کا انہیں کوئی پاس نہیں کہ innocent until proven guilty والا مقولہ انہوں نے کبھی نہیں سنا۔

یہ خبر پڑھتے ہوئے مجھے جامعہ حفصہ کے پرنسپل عبدالعزیز کا نام کچھ جانا پہچانا لگا۔ عبدالعزیز آجکل لال مسجد کے امام ہیں۔ جب میں پاکستان میں تھا تو ان کے والد عبداللہ وہاں کے امام تھے اور عبدالعزیز ایف 8 کی مسجد میں ہوتے تھے۔ یہ صاحب پڑھے لکھے اور مزاج میں سلجھے ہوئے انسان ہیں۔ مگر صد افسوس کہ ایسے ہی مسلمان ہمیں دہشت‌گردی میں ملوث نظر آتے ہیں۔ عبدالعزیز صاحب نوے کی دہائی میں افغانستان میں طالبان کے قصیدے پڑھا کرتے تھے اور ان کی مسجد میں اکثر حرکت الانصار (کشمیر میں حربی گروہ) کے ارکان اور کرتا دھرتا چندے مانگنے آیا کرتے تھے۔ آجکل بھی سنا ہے عبدالعزیز کی مسعود اظہر اور جیش محمد والوں سے گاڑھی چھنتی ہے۔ ایک بات کا خیال رہے کہ ایف 8 کی مسجد بھی شاید سرکاری تھی اور لال مسجد بھی۔ تو کیا عبدالعزیز ایک سرکاری ملازم ہیں؟ اور اگر ہیں تو کیسے جہاد کی کال دے رہے ہیں؟

آجکل جہاد کا نام آتا ہے تو ہمارے ذہن میں کچھ عجیب سا خاکہ بنتا ہے جس میں قتل و غارت کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ باقی دنیا کو چھوڑیں مسلمانوں کا یہی حال ہے بلکہ بہت سے مسلمان سیاست اور تشدد سے جہاد کا سرا باندھتے ہیں اور ایسے جہاد کو نہ ماننے والوں کو مسلمان ہی نہیں سمجھتے۔ حالانکہ اگر آپ شروع اسلام سے مسلمانوں کی تحاریر پڑھیں تو جہاد کے متعلق آپ کو کافی مختلف خیالات ملیں گے۔ آج کے مسلمان تو کچھ باتوں میں بالکل خوارج لگتے ہیں۔

ناپسندیدگیاں

آجکل کا اردو بلاگز کا میم ہے کہ اپنی ناپسندیدہ باتیں لکھیں۔ سو میں بھی لکھ رہا ہوں۔

بدتمیز نے مجھے ٹیگ کیا تھا کہ میں اپنی ناپسندیدہ باتیں لکھوں۔ دیر سے سہی مگر حاضر ہیں:

  1. گفتار کے غازی
  2. جنگ اور جہاد کے شیدائی
  3. بڑی بڑی جیپوں میں اکیلے لوگ
  4. نیکوکار جو اپنی نیکوکاری آپ پر جھاڑتے رہیں
  5. ہر مسئلے کے پیچھے سازش کا ہاتھ دیکھنے والے
  6. نسل‌پرست
  7. پاکستان کے اردو اخبار
  8. ٹی‌وی کی خبریں چاہے امریکہ میں چاہے پاکستان میں
  9. کاروں میں بہت اونچی موسیقی
  10. لوگوں میں قوتِ فیصلہ کی کمی
  11. روز صبح سویرے اٹھنا

میرا خیال ہے کہ سب اردو بلاگر ٹیگ ہو چکے ہیں اس لئے میں کسی کو ٹیگ نہیں کر رہا۔ اگر قارئین میں سے کوئی چاہے تو اپنے بلاگ پر اپنی ناپسندیدہ باتیں لکھ سکتا ہے۔

محفل اور سیارہ کی فیڈ اپنے بلاگ پر

اگر آپ اردو محفل یا اردو سیارہ کی تازہ پوسٹس کے روابط اپنے بلاگ پر دکھانا چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ کچھ مشکل نہیں اگر آپ موویبل ٹائپ، ورڈپریس یا ورڈپریس ڈاٹ کام پر بلاگ کرتے ہیں۔

اگر آپ میرے بلاگ کی سائیڈبار دیکھیں تو وہاں نیچے آپ کو اردو محفل اور اردو سیارہ کی تازہ‌ترین پوسٹس نظر آئیں گی۔ اس بات کی تجویز بدتمیز نے محفل پر پیش کی تھی۔ بدتمیز کی یہ تجویز مجھے پسند آئی اور میں نے سوچا کہ آپ میں سے کوئی اگر اپنے بلاگ پر محفل کی تازی تھریڈز دکھانا چاہے تو اس کا طریقہ بتا دوں۔

چونکہ میرا بلاگ موویبل ٹائپ پر ہے اس لئے پہلے اس کا طریقہ۔ اگر آپ موویبل ٹائپ کی ورژن 3.3 چلا رہے ہیں تو اس میں ایک پلگ‌ان ساتھ آتا ہے فیڈز ایپ لائٹ ۔ اسے استعمال کرنے کے لئے اپنے بلاگ کے مین مینو والے صفحے پر جائیں۔ وہاں آپ کو دائیں طرف نیچے Plugin Actions میں Create a Feed Widget کا ربط ملے گا۔ اسے کلک کریں۔ وہ آپ سے فیڈ کا یو‌آر‌ایل پوچھے گا۔ آپ درج ذیل یو‌آر‌ایل ٹائپ کریں:

http://www.urduweb.org/mehfil/forum_backend.php

خیال رہے کہ یہ وہ ر‌س‌س فیڈ نہیں ہے جو آپ محفل پر پوسٹس پڑھنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اس فیڈ میں تازہ تھریڈز کے ربط ہیں جبکہ پڑھنے والی فیڈ میں پوسٹس کے روابط۔

جب فیڈ کا ایڈریس دینے کے بعد آپ اگلے صفحے پر جائیں گے تو وہاں اس کا عنوان “اردو محفل” لکھا ہو گا۔ اسے ایسے ہی رہنے دیں اور یہ فیصلہ کریں کہ آپ اپنے بلاگ پر کتنی تھریڈز کے روابط چاہتے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ 5 یا 10 منتخب کریں۔ اب اسے سیو کر دیں۔ اس کے نتیجے میں ایک ٹمپلیٹ موڈیول بن جائے گا جس کا نام “Widget: اُردو محفل” ہو گا۔ اس ٹمپلیٹ میں یہ کوڈ ہو گا:

<div class="module-feed module">
<div class="module-content">
<MTFeed uri="http://www.urduweb.org/mehfil/forum_backend.php">
<h2 class="module-header">اُردو محفل</h2>
<ul><MTFeedEntries lastn="5">
<li><a href="<$MTFeedEntryLink encode_html="1"$>"><$MTFeedEntryTitle$></a></li>
</MTFeedEntries></ul>
</MTFeed>
</div>
</div>

اب آپ اپنی Main Index ٹمپلیٹ کھولیں اور سائیڈبار کے کوڈ میں جہاں آپ محفل کے روابط چاہتے ہیں وہاں یہ کوڈ پیسٹ کر دیں:

<$MTInclude module="Widget: اُردو محفل"$>

اب اس ٹمپلیٹ کو rebuild کریں تو آپ کو اپنے بلاگ پر محفل کی تازہ پوسٹس کے روابط نظر آئیں گے۔ یہ خیال رہے کہ اگر آپ موویبل ٹائپ کی static publishing استعمال کرتے ہیں تو یہ روابط صرف اس وقت تبدیل ہونگے جب آپ کی یہ ٹمپلیٹ rebuild ہوا کرے گی۔ میں اس وجہ سے اپنی سائیڈبار کو کرون جاب کے ذریعہ ہر گھنٹے بعد rebuild کرتا ہوں۔

اب آتے ہیں ورڈپریس کی طرف کہ بہت سے اردو بلاگ ورڈپریس استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ ورڈپریس میں اس کام کے لئے کئی پلگ‌ان ہیں مگر مجھے سائیڈر‌س‌س آسان لگا۔ سب سے پہلے اس پلگ‌ان کو ڈاؤنلوڈ کریں اور اس کی readme.txt میں دی گئی ہدایات کے مطابق اسے نصب کر لیں۔

ورڈپریس میں سائیڈ‌ر‌س‌س کو فعال کرنے کے بعد اوپر مینو میں Presentation پر کلک کریں اور پھر سب‌مینو میں Theme Editor پر۔ اب آپ اپنے تھیم کی Sidebar کو ایڈٹ کریں۔ اگر آپ ورڈپریس میں سے اس فائل کو ایڈٹ نہیں کر سکتے تو پھر ایف‌ٹی‌پی کے ذریعہ اپنا ورڈپریس کا فولڈر کھولیں اور اس میں wp-content/themes فولڈر میں اپنے تھیم کے فولڈر سے sidebar.php ڈاؤنلوڈ کریں۔ پھر اسے نوٹپیڈ یا کسی اور ایڈیٹر میں کھول لیں۔ اس فائل میں یہ لائن تلاش کریں:

<?php wp_list_bookmarks(); ?>

اور اگر آپ ورڈپریس کی 2.1 سے پرانی ورژن استعمال کر رہے ہیں تو یہ لائن ڈھونڈیں:

<?php get_links_list(); ?>

اس لائن کے بعد مندرجہ ذیل کوڈ پیسٹ کر دیں:

<li><?php echo ujc_siderss('http://www.urduweb.org/mehfil/forum_backend.php', 'اردو محفل', 5); ?></li>

اگر آپ ورڈپریس کے ایڈمن والے صفحے سے ایڈٹ کر رہے تھے تو فائل سیو کر لیں۔ اگر ایف‌ٹی‌پی استعمال کر رہے تھے تو فائل سیو کرنے کے بعد واپس سرور پر منتقل کر دیں۔ اب آپ کو محفل کی 5 تازہ‌ترین تھریڈز کے روابط اپنے بلاگ کی سائیڈبار پر نظر آئیں گے۔

ورڈپریس پر ایک اور بھی طریقہ ہے جو کافی کام کا ہے۔ اس کے لئے آپ وجیٹس پلگ‌ان ڈاؤنلوڈ کریں اور اس کی ہدایات کے مطابق نصب کریں۔ یہ صرف اسی صورت میں کام کرے گا اگر آپ کے بلاگ کی تھیم اس کے ساتھ موزوں ہے۔ اس پلگ‌ان کو نصب کرنے کے بعد ورڈپریس ڈاٹ کام والا نیچے دیا طریقہ استعمال کریں۔

اب آتے ہیں ان بلاگرز کی طرف جو ورڈپریس ڈاٹ کام استعمال کرتے ہیں۔ ان کے لئے طریقہ فرق ہے مگر کافی آسان بھی۔ اپنے بلاگ کے ایڈمن انٹرفیس میں مینو میں سے Presentation پر کلک کریں اور سب‌مینو میں Sidebar Widgets پر کلک کریں۔ وہاں آپ کو Available Widgets میں RSS 1 نامی ایک بلاک نظر آئے گا۔ اسے ماؤس سے کھینچ کر اوپر سائیڈبار والے بلاک میں لے آئیں۔ اب اس ر‌س‌س بلاک کے دائیں حصے میں کلک کریں تو اس کی آپشنز کی ونڈو کھل جائے گی۔ اس میں یو‌آر‌ایل کے خانے میں یہ لکھیں:

http://www.urduweb.org/mehfil/forum_backend.php

عنوان کے خانے میں “اردو محفل” اور تعداد کے باکس سے 5 کا انتخاب کریں۔ اب اس ونڈو کو بند کریں اور اپنی تبدیلیاں سیو کر لیں۔ اور بس!

اگر آپ محفل کے علاوہ اردو سیارہ کی نئی پوسٹس کو بھی اپنے بلاگ پر ظاہر کرنا چاہتے ہیں تو یہی ہدایات استعمال کریں مگر فیڈ کا یو‌آر‌ایل یہ ہو گا:

http://www.urduweb.org/planet/atom.xml

اگر آپ کو کوئی مشکل ہو تو اپنے تبصرے میں اس کی تفصیل بتائیں۔ میں کوشش کروں گا کہ آپ کی مدد کر سکوں۔