اردوویب کو خیرباد

آج سے سات سال پہلے کی بات ہے جب کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر اردو میں بلاگ اور انٹرنیٹ کے بارے میں کچھ کام کرنے کا سوچا تھا۔ پھر جون 2005 میں اس کام کے لئے علیحدہ ڈومین urduweb.org لے لی۔

ان سات سالوں میں اردوویب سے کبھی زیادہ کبھی کم واسطہ رہا۔ جب وقت کے ساتھ میری مصروفیات بڑھ گئیں تو بھی اردوویب پھلتا پھولتا رہا۔

وقت گزرنے ساتھ زیادہ اردوویب نے انٹرنیٹ کی اردو دنیا کو بدل کے رکھ دیا وہاں اردو محفل پر ایک کمیونٹی بھی قائم ہوتی گئی۔

وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا مگر میرا یہ احساس بڑھتا گیا کہ میں اس اردوویب کمیونٹی میں سے نہیں ہوں۔ صرف یہ بات نہیں کہ سیاست اور مذہب وغیرہ پر مجھے اکثر ارکان محفل اور اردو بلاگرز سے اختلاف تھا بلکہ ہماری دنیا ہی الگ الگ تھی اور ہم ایک دوسرے کو سمجھنے سے قصر تھے۔

اگر میں اس کمیونٹی کا حصہ ہی نہیں ہوں تو پھر مجھے اردو محفل اور اردوویب پر رہنے کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔ میری اور بھی کافی مصروفیات ہیں جیسے ہڑپہ آبائی پراجیکٹ جن پر میں اپنا وقت بہتر طور پر استعمال کر سکتا ہوں۔

لہذا میں اردوویب اور اردو محفل کو خدا حافظ کہہ رہا ہوں۔

اردوویب کے لئے میری دعا ہے کہ وہ خوب سے خوب تر ہو اور انٹرنیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں اردو عام کرنے میں کامیاب ہو۔

میں خاص طور پر نبیل کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جس نے نہ صرف اردوویب کو کامیاب بنانے کے لئے کافی محنت کی بلکہ مجھے بھی سات سال خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔

Google Urdu Tools

Google Translate can now translate from and to 57 languages, including Urdu.

Don’t know how to write in Urdu script? The translate page allows you to write in Roman Urdu, i.e. Urdu using the English alphabet. The same transliteration (from Roman Urdu to Urdu script) is available independently here. Of course, this transliteration is available for a bunch of languages including Russian, Hebrew, Arabic and lots of Indian languages.

Got some Urdu text in the regular Urdu script and can’t read it? You can always convert it to the English alphabet using Google’s script converter.

کبھی کبھی

For some strange reason, I remembered this poem by Urdu poet Amjad Islam Amjad late Saturday night.

کبھی کبھی ان حبس بھری راتوں میں
جب
سب آوازیں سو جاتی ہیں
آدھی نیند کی گھائل سی مدہوشی میں
اک خواب انوکھا جاگتا ہے!
میں دیکھتا ہوں
گرد کی اس چادر سے اُدھر
(جو میرے اُس کے بیچ تنی ہے)
وہ بھی تنہا جاگ رہا ہے۔

My Dad translated it for me and my English speaking friends.

Sometimes in the nights so humid
When all the noises subside
Then in the beaten drunkenness of midnight
A strange dream opens eyes!
I see through this blanket of dust
(That is spread between me and her)
She too is awake alone.

ہفتہ بلاگستان: یوم ٹیکنالوجی

کیا ٹیکنالوجی ایک مفید شے ہے؟ کیا آج کا انسان کل سے بہتر ہے؟ ہمارا مستقبل کیسا ہو گا؟ میرا خیال ہے کہ اگرچہ ہمیں کئ چیلنج درپیش ہیں مگر ٹیکنالوجی ہمیں خوب سے خوب‌تر کی طرف لے جائے گی۔

ہفتہ بلاگستان آج اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ سو آخری قسط حاضر ہے۔

ٹیکنالوجی اور انسان کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ کچھ لوگوں کا تو کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ہی ہے جو ہمیں جانوروں سے ممیز کرتی ہے۔ اگرچہ کچھ جانور بھی محدود طور پر اوزار کا استعمال کرتے ہیں مگر انسان اوزار ایجاد کرنے اور مختلف ٹکنیکس استعمال کرنے میں ایک علیحدہ ہی کلاس میں ہے۔ اس کا آغاز لاکھوں سال پہلے ہومو ایریکٹس کے پتھر کے اوزار بنانے سے ہوتا ہے۔ مختلف ماہرِ عمرانیات و آنتھروپالوجی ٹیکنالوجی کی تاریخ کو مختلف طریقوں سے تقسیم کرتے ہیں۔ ماضی کی اہم ٹیکنالوجی میں پتھر کے اوزار (25 لاکھ سال پہلے)، آگ کا استعمال (شاید 10 سے 15 لاکھ سال پہلے)، کپڑے (ایک لاکھ سال پہلے)، جانوروں کو پالتو بنانا (15 ہزار سال پہلے)، زراعت (10 ہزار سال پہلے)، تانبا، کانسی اور پھر لوہے کا استعمال، پہیہ (6 ہزار سال پہلے)، لکھائ (6 ہزار سال پہلے) وغیرہ ہیں۔ ان مختلف ٹیکنالوجیز کی بدولت انسان شکار اور چیزیں اکٹھی کرنے سے بڑھ کر گنجان آباد زرعی سوسائٹی کا حصہ بنا۔ پھر اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں صنعتی انقلاب نے پہلے یورپ اور پھر دنیا کو بدل دیا۔

آج ہم post-industrial دور سے گزر رہے ہیں جہاں انفارمیشن کے انقلاب نے دنیا کے مختلف خطوں میں رہنے والوں کو قریب‌تر کر دیا ہے۔ کمپیوٹر، ٹیلی‌فون، انٹرنیٹ اور سروس اکنامی ہمارے دور کی اہم ایجادات ہیں۔ نہ صرف یہ کہ ہم باہم رابطے میں پرانے وقتوں سے بہت مختلف حالات میں رہتے ہیں بلکہ آج ترقی‌یافتہ ممالک میں صنعت سے زیادہ اہم انفارمیشن ہے اور بہت سے لوگ manufacturing کی بجائے information سے متعلقہ جاب کر رہے ہیں جن میں معلومات کو اخذ کرنا، انہیں شیئر کرنا، تعلیم، ریسرچ وغیرہ شامل ہیں۔

کل ہمیں کیسی ٹیکنالوجی دکھائے گا؟ اس سوال کا جواب ایک لحاظ سے مشکل ہے کہ ہم اپنے کل کو آج ہی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ جیسے بیسویں صدی کے پہلے حصے کے لوگوں‌کا خیال تھا کہ جیسے ان کے زمانے میں گاڑی اور جہاز کی ایجاد سے سفر بہت آسان ہوا اسی طرح مستقبل میں اسی فیلڈ میں ترقی ہو گی اور انتہائ تیزرفتار اور فضائ کاریں دستیاب ہوں گی۔ ایسا نہ ہو سکا بلکہ تیزرفتار کنکورڈ جہاز کچھ عرصہ پہلے بند ہو گیا۔ مگر آج ہوائ سفر اتنا سستا اور آسان ہو چکا ہے کہ سال میں کروڑوں لوگ دور دور کا سفر کرتے ہیں۔ اسی طرح 1969 میں چاند پر قدم رکھنے کے بعد انسان کا خیال تھا کہ چند ہی دہائیوں میں انسان خلاؤں کا سفر کرے گا مگر آج ہمیں لگتا ہے کہ unmanned space exploration ہی پر اکتفا کرنا پڑے گا۔ روبوٹس اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس اگرچہ کافی کامیاب رہے مگر ساتھ ہی انتہائ مشکل ثابت ہوئے۔ روبوٹس کا استعمال صنعت میں تو عام ہے مگر سائنس فکشن کے انداز میں مصنوعی ذہانت سے بھرپور جنرل پرپز روبوٹس دیکھنے میں نہیں آئے۔

ہم انفارمیشن کے زمانے میں رہتے ہیں تو بہت سی انفارمیشن آج ڈیجٹل شکل میں دستیاب ہے اور اسے کمپیوٹرز سے پراسیس کیا جا سکتا ہے۔ اس سے جہاں معلومات کو دنیا بھر میں پھیلانا آسان ہو گیا ہے اسی طرح انٹلیکچوئل پراپرٹی اور پرائیویسی بھی متاثر ہوئ ہے۔ آج بہت لوگ آسانی سے گانے اور فلمیں کاپی کر کے مفت میں بانٹ سکتے ہیں جس پر میوزک اور فلم انڈسٹری نالاں ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمارے متعلق بہت سی معلومات بھی ڈیجٹل فارمیٹ میں دستیاب ہیں۔ مثال کے طور پر ہم آجکل ای‌ٹکٹ پر جہاز میں سفر کرتے ہیں اور ہماری جہاز، ہوٹل، کار وغیرہ کی بکنگ تمام آن لائن ہی ہوتی ہے۔ کریڈ کارڈ اور بنک اکاؤنٹ کا تمام ریکارڈ بھی آن لائن ہوتا ہے۔ یہ تو پھر پرائیویٹ ڈیٹا ہے مگر ہمارے بلاگ، فورم، ٹویٹر، فیس‌بک وغیرہ بھی ہمارے متعلق بہت سی معلومات رکھتے ہیں۔ اسی طرح فون‌بک بھی آن لائن ہیں اور بہت سے کالج اور یونیورسٹی کی ڈائریکری بھی۔ ہم آن‌لائن سٹور سے خریداری کرتے ہیں تو وہ ڈیٹا بھی ہے اور اگر کسی لوکل سپرسٹور سے تو اس کے ڈسکاؤنٹ کارڈ ہیں جن سے آپ کی خریداری ٹریک کی جا سکتی ہے۔ بہت سے پبلک مقامات پر کیمرے نصب ہیں اور ہمارے سیل فون میں بھی اکثر assisted GPS موجود ہیں جن سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ آپ اس وقت کدھر موجود ہیں۔ چہرے پہچاننے کی ٹیکنالوجی بھی اب کافی حد تک میچور ہو رہی ہے اور وہ وقت شاید دور نہیں جب آپ کہیں بھی جائیں تو خود بخود آپ کو پہچان لیا جائے۔ اس سب ڈیٹا کو کون کب اور کیسے استعمال کر سکتا ہے اس بارے میں ابھی فیصلہ مشکل ہے البتہ یہ لازم ہے کہ کچھ نسلوں بعد انسان کی پرائیویسی کا آئیڈیا آج سے کافی مختلف ہو گا۔

سال کے شروع میں ایج نے سائنسدانوں، مصنفین اور نامور لوگوں سے پوچھا کہ ان کے خیال میں ان کی زندگی میں ایسا کونسا سا سائنسی آئیڈیا سامنے آئے گا جو دنیا کو بدل ڈالے گا۔ ہر کسی نے اپنا خیال پیش کیا۔ اگر مجھ سے پوچھتے تو میرا جواب ہوتا: بائیوٹیکنالوجی۔ اس میں سٹیفن پنکر کا اپنا ذاتی جینوم sequence کرانا اور اس کے نتیجے میں آپ کی جینز کے مطابق آپ کے ڈاکٹر کا آپ کا علاج کرنا بھی شامل ہے اور جینز یعنی وارثت کے ذریعہ پھیلنے والی بیماریوں‌کا تدارک بھی۔ اس کے ساتھ ساتھ جینز کی بدولت ہم شاید یہ بھی معلوم کر سکیں کہ ہمارے اباؤاجداد کہاں سے تھے۔

کیا ہم مستقبل کی ٹیکنالوجی سے مثبت فوائد حاصل کر سکتے ہیں؟ ایک ٹیکنوفائل کی حیثیت سے میں تو یہی کہوں گا کہ بالکل بلکہ سائنس اور ٹیکنالوجی ہی ہمیں کئ مسائل سے نجات دلانے میں ممد و معاون ثابت ہو گی۔ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں انسان اور دنیا جس تباہی اور تبدیلی کا شکار ہو رہی ہے اور ہو گی اس کا تدارک energy conservation کے ساتھ ساتھ نئ ٹیکنالوجی کی ایجاد اور استعمال بھی ہو گا۔

Italy Day 4: Rome and Venice

Travelogue of our trip to Italy. This covers our fourth day in Rome when we took a tour bus around the city and our train trip and first night in Venice.

Don’t worry, English readers, just scroll down past the Urdu since it’s a bilingual article.

چوتھے دن صبح اٹھے تو عنبر کا کہنا تھا کہ ایک ٹوئر بس پر روم کا چکر لگاتے ہیں تاکہ مجھے چلنا نہ پڑے اور میرا ٹخنہ کچھ بہتر ہو جائے۔ دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ دوپہر کو ہمیں ٹرین پر وینس جانا تھا۔ لہذا ہم نے ہوٹل سے ناشتے کے بعد چیک آوٹ کیا اور اپنا سامان انہی کے پاس چھوڑا۔ پاس ہی چرچ کے ساتھ ٹوئر بسیں آتی تھیں وہاں سے ایک ٹوئر بس کی اوپری بغیر چھت کی منزل پر بیٹھے اور روم کا چکر لگایا۔ ان میں سے بہت سی جگہیں ہم دیکھ چکے تھے مگر بس سے چھت سے منظر کچھ مختلف ہوتا ہے اور کچھ نئے علاقے بھی دیکھنے کو ملے جہاں جانے کا ہمیں وقت نہیں ملا تھا۔

اڑھائ تین گھنٹے کے بعد بس نے ہمیں واپس اتار دیا۔ ہم نے پہلے لنچ کرنا مناسب سمجھا اور پھر ہوٹل سے اپنا سامان لیا۔ سامان کے ساتھ ہم روم کے ٹرمینی سٹیشن پیدل روانہ ہوئے۔ وینس کے لے تیزرفتار ٹرین کے ٹکٹ ہم پہلے ہی خرید چکے تھے۔ اب ٹرین کا انتظار تھا۔ وہ کوئ آدھ گھنٹہ لیٹ تھی۔ لگتا ہے اطالوی ٹرین سسٹم کو واقعی وقت پر کام کرنے کے لئے مسولینی کی ضرورت تھی۔ خیر ٹرین آئ اور ہم اپنی سیٹیں تلاش کر کے اس میں بیٹھ گئے۔ ٹرین روم سے نکلی تو ارد گرد کا خوبصورت منظر، کھیت، پہاڑیاں وغیرہ دیکھ کر دل خوش ہوا اور سوچا کہ اگلی بار روم سے باہر بھی نکلنا ہے۔ کچھ دیر بعد ہم ڈائننگ کار میں گئ جہاں سے میں نے کافی اور میشل نے چاکلیٹ بسکٹ لئے۔

کوئ ساڑھے چار گھنٹے میں ہم وینس پہنچ گئے۔ وہاں ٹرین سٹیشن سے نکلے تو سامنے بڑی نہر تھی۔ ہوٹل پہنچنے کے لئے ہمیں کشتی یعنی فیری میں جانا تھا جسے وہاں ویپوریتو کہتے ہیں۔ فیری لوگوں کو لے کر نہر پر روانہ ہوئ۔ کچھ سٹاپ گزرنے کے بعد مجھے شک ہوا کہ ہمارا سٹاپ کدھر گیا۔ کنڈکٹر سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ سٹاپ تو بند ہے اور پیچھے رہ گیا۔ اب ہمیں اگلے سٹاپ پر اتر کر واپس جانا ہو گا اور ایک اور سٹاپ پر اترنا ہو گا۔ یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ ہم نہر کے صحیح طرف اتریں کہ نہر پار کرنے کے لئے ایک دو ہی پل ہیں۔ اس کے علاوہ نہر پار کرنے کے لئے کچھ خاص تراگیٹو سٹاپ پر گنڈولا کشتی بھی استعمال کی جاتی ہے۔

نئے سٹاپ پر اترے تو جی‌پی‌ایس نکالا تاکہ ہوٹل تک پہنچا جا سکے۔ ہوٹل کی گلی کے نزدیک ریستوران کے پاس ایک آدمی ہماری طرف دوڑا آیا۔ معلوم ہوا کہ وہ ہوٹل کا مینجر ہے اور ہماری انتظار میں تھا کہ وہ شام کو ہوٹل بند کر کے گھر چلا جاتا ہے۔ ہوٹل کے شاید 9 کمرے تھے۔ اس نے ہمیں کمرے کی چابی کے ساتھ باہر کی چابی بھی دی کہ گیٹ اکثر رات کو لاک ہوتا ہے۔

ہوٹل کے بالکل قریب ہی ایک ریستوران میں ہم نے کھانا کھایا۔ میں نے پیزا آرڈر کیا جبکہ معلوم نہیں کیوں عنبر کا دل باسمتی چاول اور چکن کڑی پر آ گیا۔

Since my ankle was swollen, Amber suggested that we not walk that day and instead take a tour bus around Rome. Also, we only had half a day in Rome since we were leaving for Venice early afternoon.

We checked out of our hotel after breakfast and asked them to keep our bags while we got on a tour bus near the Basilica of Saint Mary Major. It was a two-story bus with an uncovered upper level, which was great for sightseeing. We had seen a lot of the places the bus took us around but the vantage point of the upper level was good for photography and it did take us to areas we hadn’t found the time to visit. The photographs are at the end of this article on a map.

The tour took almost three hours and then we were back in the neighborhood of our hotel. We decided to have some lunch first and then got our bags from the hotel. It was almost time to walk to the Termini station for the train to Venice. We had already bought the tickets a couple of days ago at Termini after being unsuccessful in buying them online before the trip (The Tren Italia website declined our credit card every time). Our train was about half an hour late. We finally got on and found our seats.

As the train left Rome and passed through the rolling hills of the countryside, we felt we had to visit Italy again and drive in the area.

It took us some four and a half hours to reach Venice. Coming out of the train station, there was the Grand Canal. We then took a vaporetto or waterbus on the Grand Canal to go to our hotel. After a while on the vaporetto, I was confused about why it was taking so long. I asked the conductor about the San Silvestre stop. He told me that San Silvestre was closed for a few days and was behind us now. So we had to get off the vaporetto at the next stop and go back. We got off at the San Toma’ stop since that was on the same side of the Grand Canal and walked to our hotel.

Train for Venice
Venice
On the vaporetto
Cruising the Grand Canal
Building
Around the Grand Canal
 

As we got to Campo San Polo, a man came towards us asking me my name. It turned out he was the hotel manager. He took us to Hotel Acca in a narrow alley. The hotel had 9 rooms. The outside gate and main door were generally locked in the evening, so the manager gave us keys for both.

After checking in and putting our bags in our room, we went for dinner at the restaurant Birraria La Corte which was just outside the hotel alley. It was crowded and it took us a while to get a table. I ordered a pizza while Amber went crazy by eating Basmati rice with chicken curry.

The photos of the Rome bus tour appear below (under the fold) on a map.

Continue reading “Italy Day 4: Rome and Venice”

ہفتہ بلاگستان: یوم کچن

معلوم نہیں یہ ہفتہ بلاگستان کب ختم ہو گا۔ فی الحال تو ہم دنبے کے اسٹو کی ایک اطالوی ترکیب کے ساتھ یومِ باورچی خانہ منا رہے ہیں۔

کھانے بنانے اور اچھے ریستوران جانے کے ہم شوقین ہیں اور کھانے بھی ہر قسم کے۔ مگر اگر فیورٹ کی بات ہو تو اطالوی کھانے سب سے زیادہ بناتا ہوں اور فرنچ میٹھے کی بات ہی کچھ اور ہے۔ اب ہفتہ بلاگستان کی چوتھی قسط کے لئے ایک ترکیب حاضر ہے۔

یہ ترکیب دنبے کے اسٹو کی ہے جو جدید اطالوی پکوان سے لی گئ ہے۔

اجزاء

  • اڑھائ پاونڈ بغیر ہڈی کے دنبے کے کندھے کا گوشت
  • چوتھائ کپ زیتون کا تیل
  • ایک چھوٹا پیاز باریک کٹا ہوا
  • لہسن کے دو ٹکڑے چھوٹے کٹے ہوئے
  • سیلیری کی ٹہنی باریک کٹی ہوئ
  • آدھا کپ مارسلا Marsala یا انگور کا جوس
  • دو بڑے چمچ آٹا
  • تین بڑے چمچ ٹماٹر کی پیسٹ
  • ڈیڑھ کپ چکن یا گوشت کی یخنی
  • نمک
  • معمولی سی cayenne pepper
  • چار گاجریں
  • ایک پاونڈ چھوٹے سفید پیاز
  • دو بڑے چمچ کٹا ہوا پارسلے

ترکیب

دنبے کے گوشت کو دو انچ کے کیوب کی شکل میں کاٹ لیں۔

تیل کو دیگچے میں گرم کریں اور اس میں ایک پیاز، لہسن اور سیلیری ڈال دیں۔ اسے چار پانچ منٹ کر براون کریں۔ پھر دنبے کا گوشت شامل کریں اور تیز آنچ پر پکائیں یہاں تک کہ گوشت کو رنگ آنے لگے۔ پھر آٹا تھوڑا تھوڑا کر کے گوشت پر ڈال دیں اور دیگچے میں چمچ ہلاتے رہیں۔ مارسلا یا جوس بھی شامل کریں اور اس وقت تک تیز آنچ پر پکاتے رہیں جب تک وہ تقریباً ختم نہ ہو جائے۔

ٹماٹر کی پیسٹ کو یخنی میں گھول لیں اور دیگچے میں شامل کر دیں۔ نمک اور مرچ حسبِ ذائقہ ڈال دیں۔ اب دیگچے پر ڈھکنا ڈال دیں مگر تھوڑا سا سائڈ پر۔ کچھ ہلکی آنچ پر ایک سے ڈیڑھ گھنٹے simmer کرنے دیں۔ کچھ دیر بعد دیگچے میں چمچ مار لیا کریں۔

جب گوشت پک رہا ہو اس دوران گاجروں کو آدھ انچ کے گول ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ پھر معمولی سے نمکین پانی میں انہیں ابالیں یہاں تک کہ وہ کچھ نرم ہو جائیں مگر بہت زیادہ نہیں۔

اب ایک الگ دیگچے میں پانی ابالیں۔ جب پانی ابلنے لگے تو اس میں چھوٹے چھوٹے پیاز ڈال دیں۔ کوئ آدھے منٹ بعد انہیں نکال کر انہیں چھیل لیں مگر ثابت ہی رہنے دیں۔ اب دوبارہ پانی ابالیں اور اس میں کچھ نمک ڈالیں۔ پھر اس میں یہ چھلے پیاز بھی ڈال دیں اور انہیں پندرہ سے بیس منٹ تک ابالیں۔ اس کے نتیجے میں پیاز کچھ حد تک نرم ہو جائیں گے۔

جب گوشت پک جائے تو اس میں یہ نرم گاجریں، پیاز اور پارسلے کے کٹے پتے ڈال دیں۔ اب ان سب کو گوشت کے ساتھ کوئ آٹھ دس منٹ پکائیں۔ جب کھانا تیار ہو گا تو دنبے کا گوشت انتہائ نرم ہو گا اور سالن گاڑھا اور گہرا سرخ رنگ کا ہو گا۔

اب اسے اطالوی بریڈ کے ساتھ خوب مزے لے کر کھائیں۔

ہفتہ بلاگستان: اردو بلاگنگ

ہفتہ بلاگستان کے سلسلے میں آج ہم اردو بلاگنگ کے حوالے سے گفتگو کریں گے اور یہ دیکھیں کہ اردو بلاگنگ آج بھی اتنی غیرمقبول کیوں ہے۔

ہفتہ بلاگستان کے سلسلے کی یہ تیسری قسط ہے۔ جیسا کہ خیال تھا شگفتہ یہ آئیڈیا پیش کرنے کے بعد سے گم ہیں اور ان کے اس سال بلاگنگ کے منظر پر واپس آنے کا کوئ چانس نہیں۔ شاید ایک دو صدیوں میں وہ اس ہفتہ بلاگستان کو بھی منا لیں۔

آج میں نقل مارنے کے ارادے سے آیا ہوں اور اردوویب بلاگ پر اپنی ایک تحریر کا زیادہ حصہ (مختلف اضافوں کے ساتھ) یہاں بھی نقل کر رہا ہوں۔

پہلی اہم بات یہ ہے کہ جب آپ کوئی پوسٹ لکھیں تو اخبار یا بلاگ کو حوالہ دیں اور اس خبر یا پوسٹ کو لنک کریں۔ یہ خیال رہے کہ لنک اخبار یا بلاگ کے ہوم پیج کا نہ ہو بلکہ سیدھا اس صفحے کی طرف جاتا ہو جو آپ کے زیرِ بحث ہے۔ اسی طرح اگر آپ کسی ویب سائٹ یا کسی بلاگر کا ذکر کرتے ہیں تو ان کا لنک بھی اپنی پوسٹ میں شامل کریں۔ یاد رہے کہ آپ کی سائڈبار میں موجود لنک بہت کم لوگ فالو کرتے ہیں مگر پوسٹ میں لنک زیادہ‌تر قارئین فالو کرتے ہیں۔

اسی طرح جب آپ کسی بلاگ پوسٹ کا جواب لکھیں تو لنک کے ساتھ ساتھ اس کا ایسا اقتباس بھی اپنی پوسٹ میں شامل کریں تاکہ گفتگو سمجھنے میں آسانی رہے۔ یہی نکتہ اخبارات کی خبروں کے لئے بھی ہے۔ پوری خبر یا پوسٹ کبھی شامل نہ کریں بلکہ صرف اقتباس دیں۔ اس اقتباس کو اپنے بلاگ پر اپنی تحریر سے نمایاں کریں۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ اس اقتباس کے گرد <blockquote> ٹیگ ڈالیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آپ کی تحریر کونسی ہے اور کسی اور کی کونسی۔

ایک اور چیز ہر پوسٹ کے ساتھ اس سے متعلقہ پوسٹس کے روابط ہیں۔ اس کے لئے ٹیگز اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اپنے بلاگ پر آپ کسی قسم کا ہٹ کاونٹر ضرور لگائیں۔ اس کے لئے میں سائٹ‌میٹر تجویز کرتا ہوں۔ اس کی پرائیویسی سیٹنگ ایسی رکھیں کہ تمام قارئین اس کا سمری پیج دیکھ سکیں۔ اس طرح عوام یہ جان سکیں گے کہ آپ کا بلاگ روزانہ کتنے لوگ پڑھتے ہیں مگر تفصیلی ڈیٹا صرف آپ ہی دیکھ سکیں گے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سائٹ‌میٹر میں اپنے وزٹ اگنور کرنے کی بھی آپشن ہے۔ یہ ضرور سیٹ کریں تاکہ جب آپ اپنے بلاگ پر جائیں تو وہ شمار نہ ہو۔

اپنے بلاگ کی مقبولیت بڑھانے کے لئے اس کے علاوہ بھی کئی چیزیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ باقاعدگی سے بلاگ پر لکھیں۔ میں نے نوٹ کیا ہے کہ دو تین بلاگرز کو چھوڑ کر باقی اردو بلاگر مہینے میں دو تین سے زیادہ بار نہیں لکھتے۔ دوسرے بلاگز پر تبصرہ کریں اور ان کی تحریروں پر اپنے بلاگ میں لکھیں۔ جب کسی دوسرے بلاگ پر تبصرہ کریں تو اپنے بلاگ کا لنک یو‌آر‌ایل فیلڈ میں ضرور دیں۔ دوسرے بلاگز کے ساتھ گفتگو بلاگ کی دنیا کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ صرف اردو بلاگز ہی تک محدود نہ رہیں بلکہ انگریزی اور دوسری زبانوں کے بلاگز پر بھی تبصرے کریں خاص طور پر پاکستانی انگریزی بلاگز پر تاکہ گفتگو کا دائرہ بڑھ سکے۔ اگر آپ کسی بلاگ پر باقاعدگی سے تبصرے کرتے ہیں تو ممکن ہے وہاں سے کئی قارئین آپ کے بلاگ پر آئیں اور یہ بھی کہ وہ بلاگر آپ کی کسی پوسٹ کے بارے میں لکھے۔

اپنے بلاگ پر ایک صفحہ اپنے بارے میں ضرور شامل کریں جس میں کم از کم آپ کے بارے میں ایسی معلومات ہوں جس سے قاری کو آپ اور آپ کے بلاگ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ ضروری نہیں کہ یہاں آپ اپنی سوانح حیات اور اصل نام ہی لکھیں مگر اپنے بارے میں لکھیں۔ ساتھ ہی خود سے رابطہ کرنے کا کوئی طریقہ بھی فراہم کریں۔

دو سال پہلے کی طرح آج بھی میرا یہی خیال ہے کہ اردو بلاگنگ ابھی کہیں نہیں جا رہی۔ چھ سالوں میں شاید چند سو بلاگ ہیں۔ اس کے مقابلے میں کل بلاگ ہر چار پانچ ماہ میں دوگنے ہو جاتے ہیں۔ پاکستانی انگریزی بلاگ لے لیں یا فارسی بلاگ یا انڈین بلاگ سب ہی انتہائی تیزی سے بڑھے ہیں۔ ان سب کی exponential growth ہے جبکہ اردو بلاگز کی linear growth ۔ یہ بات پریشان‌کن ہے۔ لیکن اس سے زیادہ پریشان کرنے والی بات یہ ہے کہ اردو بلاگ یا فورمز کے قارئین بہت کم ہیں اور بہت سستی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایک عام اردو بلاگ کو 20 سے 30 قاری روزانہ پڑھتے ہیں اور زیادہ اردو بلاگز کو پڑھنے والے وہی لوگ ہیں یعنی تمام اردو بلاگز کے قاری اکٹھے کئے جائیں تو شاید چند سو سے زیادہ نہ ہوں۔ ایسی صورت میں نئے اردو بلاگز کہاں سے آئیں گے؟ اس اعداد و شمار کا مقابلہ بڑے بڑے بلاگز کی بجائے عام پاکستانی انگریزی بلاگ سے بھی کیا جائے تو شرمندگی ہی ہوتی ہے۔

اگرچہ پچھلے کچھ سالوں میں اردو بلاگز کے موضوعات میں اضافہ ہوا ہے مگر آج بھی زیادہ سیاست، مذہب، ادب اور ذاتی ڈائری ہی پر بلاگنگ عام ہے۔ کدھر ہیں معاشیات، معاشرتی علوم، فنون لطیفہ، سیاحت، فوٹوگرافی، بےبی بلاگ، مخلتف مشاغل پر بلاگ؟ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ان متنوع موضوعات کی کمیونٹیز کہاں ہیں؟

ایک بات خوش‌آئیند ہے کہ حال میں اردو بلاگرز کے درمیان گفتگو میں اضافہ ہوا ہے۔ اب بلاگرز ایک دوسرے کی تحریر کا جواب اپنے بلاگ پر دے رہے ہیں۔

اردو بلاگستان کی جب بھی بات آتی ہے تو لوگ ضابطہ اخلاق کی بات کرتے ہیں۔ تمیز اور انسانیت انتہائ اہم ہیں مگر بلاگنگ کے ضابطہ اخلاق کی بات کچھ عجیب لگتی ہے۔ یہ ضابطہ کوئ کسی پر لاگو نہیں کر سکتا۔ ہاں ہر شخص کو اپنی آن‌لائن اور آف‌لائن زندگی میں اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔ اگر آپ بلاگنگ کا ضابطہ اخلاق ہی چاہتے ہیں تو کوئ اردو بلاگنگ کا شہزادہ ان دو ضابطہ اخلاق کا ترجمہ کر دے۔

نیٹ پر اردو لکھنے اور پڑھنے والوں کی طرف سے نستعلیق فونٹ کی طرف شدید رجحان یہاں تک کہ وہ نسخ میں اردو پڑھنا لکھنا ہی گوارا نہیں کرتے آج تک میری سمجھ میں نہیں آیا۔ لوگ اس وجہ سے آج تک انپیج استعمال کر کے اردو تحریر کا امیج آن‌لائن پوسٹ کرتے ہیں۔ اب تو خیر چند نستعلیق فونٹ بھی میدان میں آ گئے ہیں۔